::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Dajalli Fitna Aur Akhri Jangay Azeem  
Book Detail
 
 
Dajalli Fitna Aur Akhri Jangay Azeem
 
Author/Translator: Dr. Muhammad Issa Dawood al atal Missri 
Price: $ 9.09
Format: Soft Cover,344Pages, Weight: 550 gm
Product-Id: 1012065
Publisher: Mushtaq Book Corner
Publish date: 2011
Productid:1012065  
Quantity:
 

 
بھوک نے بڑوں بڑوں کو نڈھال کر دیا ہو گا ، پانی نہ ملنے کی وجہ سے حلق میں کانٹے چبھ رہے ہو نگے ـ جب گھر کے اندر آپ قدم رکھیں گے تو نظروں کے سامنے آپ کا لخت جگر ہو گا جس کے ایک اشارے پر آپ اس کی ہر خواہش پوری کر دیا کرتے تھے ، اب وہی بچہ آپکے سامنے ہے ، شدت پیاس سے زبان باہر نکلی ہوئی ہے،کئ دن کے فاقے نے گلاب جیسے چہرے سے زندگی کی تمام رونقوں کو چھین لیا ہے،یہ منظر دیکھ کر آپ کا دل تڑپ اٹھتا ہے اور آپ لاچاری دبے بسی کے عالم میں اپنے جگر کے ٹکڑے سے دوسری طرف منہ پھیر لیتے ہیں اور دوسری طرف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسرتوں کا بت بنی آپ کی ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے آپ کو کبھی بھوکے پیٹ نہیں سونے دیا،جو آپ کی پیاس کو آپ کے اشاروں سے سمجھ جاتی تھی، جس نے تمام خوشیوں اور ارمانوں کو آپ کے نام کردیا ـ آج وہی آپ کی ماں نگاہوں میں ہزاروں سوالات لۓ جوان بیٹے کی طرف اے امید سے دیکھ رہی ہے کہ شاید آج بیٹا ضرور روٹی کا ٹکڑا کہیں سے لایا ہو گا،بیٹا آج میری ممتا کی خاطر پانی کا ایک قطرہ ضرور کہیں سے لایا ہو گا،آپ کو چہرہ سمجھنے والی ماں آج بھی بیٹے کو چہرے پر لکھے جواب کو پڑھ لیتی ہے اور ماں کی آنکھوں سے جوان بیٹے کی بے بسی پر اشکوں کے قطرے گرتے ہیں تو آپ کو کا کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے،آپ اندر ہی اندر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں،آپ پھر دوسری طرف منہ موڑتے ہیں،شاید اس کونے میں کوئی نہ ہو لیکن وہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی شریک سفر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس نے ہر امتحان کی گھڑی میں آپ کو حوصلہ دیا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج اس کے ہونٹ سوکھ چکے ہیں ، ضبط کا سمندر اندر ہی اندر موجیں ماررہا ہے اور یکایک اپنے چاند کو دیکھ کر دل میں چھپے اشکوں کے سمندر میں طوفان پیدا ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کی مضبط اپنے اشکوں میں پگھلنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

ایسے وقت میں باہر سے کھانے کی خوشبو اور پانی کی آواز سنائی دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ آپ بھی اور کے پیارے بھی سب دوڑتے ہوۓ باہر جاتے ہیں تو سامنے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اب مشکل کی گھڑی ٹل گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔ انسانوں کے اس جنگل میں کوئی مسیحا آ پہنچا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنے والا مسیحا ۔۔۔۔۔۔ اعلان کرتا ہے کہ بھوکو پیاس کے مارے ہوۓ لوگو!یہ لذیذ خوشبودار کھانے اور یہ ٹھنڈا میٹھا پانی تمہارے ہی لیۓ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سنتے ہی آپ اور آپ کے پورے گھر اور شہر میں جیسے آدھی زندگی یوں ہی لوٹ آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مسیحا پھر کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ تمہارے لیۓ ہی ہے لیکن کیا تم اس بات کو مانتے ہو کہ اس کھانے اور پانی کا مالک میں ہوں ؟ کیا تم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہو کہ یہ سب کچھ میرے اختیار میں ہے ؟ کھانے اور پانی کی طرف آپ کے بڑھتے ہوۓ قدم تھوڑی دیر کے لیے رک گۓ اور آپ کچھ سوچنے لگے،آپ کی یاداشت نے کہا کہ یہ الفاظ کچھ جانے پہچانے لگتے ہیں اور آپ کو یاد آ گیا کہ یہ "مسیحا " کون ہے ؟ لیکن تبھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپکے پیچھے سے بچے کے بلکنے کی آواز تیز آنے لگی،ماں کی چیخیں سنائی دیں،آپ دوڑتے ہوۓ گۓ تو آپ کے جگر کا ٹکڑا، آپ کا بیٹا موت و حیات کے درمیان لٹک رہا ہے کہ اگر پانی کا قطرہ مل جاۓ تو آپ کا بچہ بچھڑنے سے بچ  سکتا ہے ، اب ایک طرف بچے کی ماں اور بیوی کی محبتیں ہیں ، دوسری طرف ماتم کدہ ، گویا ایک طرف آگ ہے اور دوسری طرف خوبصورت باغات ۔۔۔۔۔ ذرا بتائیے ذہن کے بنددریچوں کو کھول کر سوچۓ کیا معاملہ اتنا آسان ہے جتنا آپ سجھ رہے ہیں ؟ شاید نہیں بلکہ یہ فتنہ تاریخ انسانی کا سب سے بھیانک فتنہ ہے ـ



Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108