::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Social Science > Badar Say Bata Pur Tak  
Book Detail
 
 
Badar Say Bata Pur Tak
 
Author/Translator: Anayat Ullah 
Price: $ 7.52
Format: Soft Cover,296 PagesPages, Weight: 450 gm
Product-Id: 1012028
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: Dec,2009
Productid:1012028  
Quantity:
 

 
آخری گولہ باری کے دھوئیں اور گرد کی گھٹا میدان جنگ کے اوپر آہستہ آہستہ بھارت کی طرف اڑی جارہی تھی'جیسے بھارت کے عزائم کی ارتھی مرگھٹ کو جارہی ہو ـ دور پرے سرحد کے قریب سے سیاہ کالے دھوئیں کے گہرے بادل زمین سے آسمان کی طرف اٹھنے لگے ـ میں نے پاک فوج کے سپاہی کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو اس نے ہلکی سی ہنسی ہنس کر کہا ـ ہندوستانی اپنی لاشوں کو جلا رہے ہیں ـ سرحد سے دور پرے تک کم بختوں کی لاشوں کے انبار پڑے ہیں ـ وہ ہمارے شاہبازوں اور لاہور کی رانیوں کا شکار ہوۓ ہیں ـ تھوڑی دیر بعد انڈین آرمی کے بہت سے ٹرک میدان میں آہستہ آہستہ چلتے نظر آنے لگے ـ وہ لاشیں اٹھانے آۓ فوج کے شہیدوں کی کل تعداد چھپن تھی ـ یہ گزشتہ رات کے معرکہ کے شہیدوں تھے ـ اس کے مقابلے میں بھارتی صرف ڈوگرئی کے علاقے سے لاشوں کے چودہ ٹرک بھر کر لے گۓ  ـ وہ صرف تازہ لاشیں لے گۓ تھے گلی سڑی لاشوں کو انہوں نے ہاتھ نہیں لگایا تھاـ وہ لاشوں کو بازوؤں اور ٹانگوں سے اٹھا کر لکڑیوں کی طرح ٹرکوں میں پھینک رہے تھے ـ ایک ایک ٹرک میں نوے سے ایک سو تک لاشوں کا انبار لگا کر ٹرک کو پیچھے بھیج دیتے تھے ـ یہ لاشیں ان کے پسماندگان تک نہیں پہنچائی جارہی تھیں بلکہ واہگہ کے قریب ڈھیر لگا کر ان پر پٹرول ڈالتے اور آگ لگا دیتے تھے ـ یہ سلوک ان سپاہیوں کی لاشوں کے ساتھ ہو رہا تھا جنہوں نے اپنے عیار حکمرانوں کے پاکستان دشمن عزائم پر جانیں قربان کر دی تھیں ـ اس کے بر عکس پاک فوج کے شہیدوں کی لاشوں کو سٹریچروں پر پورے احترام اور پیار سے بی آر بی کے اس طرف لایا جارہا تھا ـ لاشوں کو اٹھا کر لانے والے کچھ ایسی احتیاط سے چلتے تھے جیسے ذرا سا دھچکہ لگا تو شہید کو زخموں میں درد محسوس ہو گا ـ جب شہید کی میت پیچھے آتی تھی تو افسر اسے سیلوٹ کرتے تھے ـ ان کے ساتھی ان کے ہاتھ چومتے اور ان کے چہروں سے مٹی پونچھتے تھے ـ میں یہ منظر دیکھ رہا تھا اور پاک فوج کا سپاہی میرے پاس کھڑا مجھے پہلے روز یعنی چھ ستمبر کے حملے کی شدت کی تفصیلات سنا رہا تھا ـ یہ تفصیلات حب الوطنی کی دیوانگی اور جانبازی کی اتنی لمبی داستان ہے جسے سننے سنانے کے لیے ایک عمر چاہیے ـ اس نے کہا پاک فوج کا ہر افسر اور ہر جوان شجاعت کی ایک ایک داستان کا ہیرو ہے ـ ورنہ صاحب جنگوں کی تاریخ میں کسی قوم کے پانچ ہزار جانبازوں نے چالیس ہزار کے لشکر کو کبھی نہیں روکا تھا ـ تیس ستمبر کا سورج بہت اوپر اٹھ آیا تھا ـ دھوپ کی بڑھتی تمازت سے لاشوں کی سڑاند اور زیادہ ناقابل برداشت ہو گئ تھی ـ سپاہی مجھے ایک درخت کے ساۓ میں لے گیا ـ وہ بہت تھکا ہوا تھا ـ اس کا چہرہ سترہ دنوں اور سترہ راتوں کی خونریزاور تیز ترین معرکہ آرائی،شب بیداری'بارود اور دھول سے سیاہ کا لاہور گیا تھا ـ وردی پسینے اور شہیدوں کے خون سے لتھڑی ہوئی تھی ـ آنکھیں سورج گئ تھیں ـ وردی کئ جگہ سے پھٹی ہوئی  

میں ماضی میں کھو گیا تھا ـ یادیں تاریخ کی کڑیاں ملاتی چلی جارہی تھیں اور میں بی آربی کے کنارے سوکھے پیڑ تلے بیٹھا ـ یادوں کے سہارے بہت دور نکل گیا تھاـ میرے پاس بیٹھا ہوا پاک فوج کا سپاہی تھکی تھکی آواز میں جانے کیا کہہ رہا تھا ـ میں اس کی باتیں لاشعور طور پر سن رہا تھا ـ میں جانتا تھا کہ وہ لاہور سیکٹر کی باتیں سنا رہا ہے لیکن میں کرہ ارض کے ہر اس سیکٹر میں گھوم رہا تھا جہاں جہاں اللہ کا سپاہی لڑا ہے ـ میں بوٹا سے بدر تک چلا گیا تھا اور آہستہ آہستہ ہر اس میدان جنگ میں گھومتا،جہاں حق و باطل معرکہ آرا ہوۓ تھے'باٹا پور کی طرف واپس آرہا تھا ـ اگر پاک فوج کا سپاہی مجھے کندھے سے جھنجھوڑ نہ دیتا تو شاید میں اتنی جلدی اس میدان میں واپس نہ آتا جہاں بھارتیوں کی لاشوں کے انبار لگے ہوۓ تھے اور ان لاشوں کے درمیان ٹینک'ٹرک اور دوسری گاڑیاں جل رہی تھیں ـ میرے قریب سے شہیدوں کی جو لاشیں گزر گئ تھیں'انہیں ایمبولینس گاڑیوں میں رکھ دیا گیا تھا ـ لیجیۓ'سگریٹ!سپاہی نے میرے کندھے کو جھنجھوڑ کر کہا تھا ـ یہ سگریٹ دس گیارہ روز سے جیب میڑ پڑا تھا ـ پینے کی فرست نہیں ملی ـ میں نے دیکھاـ اس کے ہاتھ میں مڑا تڑا،پچکا ہوا ایک سگریٹ تھاـ سگریٹ پر خون کا خشک دھبہ بھی تھا ـ اس نے یہ سگریٹ پیکٹ سے نہیں جیب سے نکالا تھا میں نے اس سے سگریٹ لے لیا اور اپنی جیب سے پیکٹ نکال کر اس کے ہاتھ میں دے دیا ـ میں نے اس کا دیا ہوا سگریٹ سلگایا تو اس میں سے مجھے پسینے اور خون کی بو آئی ـ پسینہ اس سپاہی کا تھا اور خون اس شہیدوں کا جن کی لاشیں اس نے جنگ کے دوران اٹھائی تھیں ـ کس قدر وجد آفریں تھی جانبازوں کے پسنے اور شہیدوں کے لہو کی مہک ـ



Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108