::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Social Science > Azadi Ki Qommi Tahreeq  
Book Detail
 
 
Azadi Ki Qommi Tahreeq
 
Author/Translator: Farhad Ali Taimoor 
Price: $ 7.76
Format: Hard Cover,248Pages, Weight: 350 gm
Product-Id: 1012022
Publisher: Maktaba Tameer e Insaniyat
Publish date: 2009
Productid:1012022  
Quantity:
 

 
معروضات زير نظر تنصيف ہماری قومی تاريخ کے قريب قريب تمام اہم محرقات،عوامل اور مراحل کا احاطہ کرتی ہے اور برطانوی ہنر کے اس مثلث ميں،جس ميں بقيہ دو زاويہ ہندو اور انگريز تھے،مسلمانوں کے احساسات اور جذبات و نظريات کی غير جانبدارانہ ترجمانی کرتی ہے اور مسلمانوں کے ردعمل،رويے اور مّوقف کا تجزيہ کر کے سياسی اور قومی حالات واقعات کے تناظر ميں مسلمانوں کے نقطہ نظر کو سامنے لاتی ہے ـ يہ مطالعہ و تجزيہ فی الحقيقت اس ذيل ميں مرتب ہوا تھا جب انيس سو پچھتر ميں راقم الحروف نے "تحريک آزادی ميں اردو کا حصہ"کے موضوع پر جامع کراچی ميں پی ا‏يچ ڈی کی تکميل کی غرض سے ايک منصوبہ تحقيق مکمل کر کے پيش کيا تھا، انجمن ترقی اردو پاکستان نے " قا ئد اعظم کی صد سالہ تقريبات پيدائش،کی مناسبت سے شائع کيا تھا ـ يہ کتاب ايک ہزار سے زيادہ صفحات پر مشتمل تھی اور اس قدر مقبول اور معروف ہوئی کہ چند ہی ماہ ميں کامياب ہوئی ـ ليکن راقم الحروف باوجوہ۔۔۔۔۔۔۔ کہ متعدد مقامات پر نظر ثانی اور اضافوں کی ضرورت محسوس ہوتی تھی،اس خيال سے گريزاں رہا ہے ـ اس ضمن ميں بعض سمتوں سے اس کتاب کے باب اول کو،جو سو سے زيادہ صفحات پر مشتمل تھی،اور کتاب کے پس منظر کے طور پر تحريک آزادی کی ايک مکمل اور دستاويزی تاريخ پر منبی اپنی جگہ ايک مکمل موضوع کا احاطہ بھی کرتا تھا،اسے عليحدہ شائع کروانے پر اسرار کيا گيا تا کے يہ مسلمانوں کی قومی تحريک آزادی کے موضوع پر ايک مخصوص ضخامت ميں،بيک وقت اسکالرز،اساتذہ اور طلباء کے استفادے ميں آتی رہے ـ يہ مشورہ راقم الحروف کو بھی مناسب محسوس ہوا ـ چناچہ اس باب کو ايک مستقل حيثيت ميں بعينہ شائع کيا جا رہا ہے ـ  

پرتگاليوں دلندريزيوں کے بعد انہوں نے عرب تاجروں اور ملاحوں کے بيشتر خاندانوں پر بھی جو ساحل ملابار پر مقيم تھے اپنی بحری برتری ثابت کر دی تھی ـ ان کے پروانہ راہداری کے بغير کسی کو بحری سفر کا حق نا پہنچتا تھا ـ نہ صرف عرب تاجروں اور ملاحوں کو بلکہ خود ہندوستانی سلاطين کو اہل يورپ کی بحری برتری کا تجربہ ہوتا رہتا تھا ـ چناچہ اکبر اور جہانگير کے "جنگ"(جہاز کا نام)يورپ والوں سے پروانہ راہداری لے کر چلتے تھے ـ ليکن مغلوں نے کبھی يہ محسوس نہ کيا کہ ان کی اس کمزوری کی انتہا کيا ہو گی؟خود جہانگير کے دور ميں انگريزی کمپنی کو اپنی بحری کمپنی پر اس قدر اعتماد تھا کہ اس نے سولہ سو تيّس ميں باقاعدہ جنگ کا ارادہ کر ليا تھا ـ اس وقت فريقين کے درميان بناۓ مخاصمت يہ تھی کے کمپنی کے افراد تو يہ شکايت کرتے تھے کہ شاہی ملازمين تجارتی مال کی درآمد پر محصول لينے ميں سختی کرتے ہيں اور رشوت ليتے ہيں،اور ہندوستان کو ان سے شکايت رہتی کے غير ملکی تاجر ساحلی ديہاتوں سے بچے اغواء کر کے لے جاتے ہيں اور انہيں کہيں لے جا کر فروخت کر ديتے ہيں،اور ہندوستان تاجروں کے جہازوں کو سمندروں ميں لوٹ ليتے ہيں ـ ان شکايتوں پر جب دونوں ميں لڑائی ٹھن جاتی تو چونکہ غير ملکی تاجروں ميں ميدان ميں لڑنے کی قوت نہ تھی اس ليۓوہ کو ٹھيوں سے اپنا سامان ہٹا کر جہاز پر چلے جاتے اور سمندر ميں ہندوستانی جہازوں کو لوٹتے اور انہيں گرفتار کر ليتے ـ بالاخر ہندوستانی تاجروں کی فريار حکومت کو مجبور کر ديتی کے کمپنی کے مطالبے پورے کر دے ـ اس قسم کی دو لڑائیاں،ايک کلکتہ اور دوسری صورت کے انگريزوں نے اورنگزيب سے لڑيں ـ سولہ سو اٹھنوے ميں شاہی جہاز "گنج سوائی"کو انگريزوں نے لوٹ ليا تھا ـ اس سے بڑا جہاز صورت کی بندر گاہ پر اور کوئی نہ تھا ـ اس ميں ا ّسی توپيں نصب تھی ـ جہازوں پر قبضہ کرنے کے بعد انگريزوں نے اس کا کل سامان لوٹ ليا ـ اور بوڑھوں اور بچوں عورتوں کے ساتھ بڑا نازيبا سلوک کيا ـ بندرگاہ سورت کے نامہ نگار نے اورنگزيب کو خبر لکھ بھیجی وہ بہت غضب ناک ہوا اور اعتماد خان (سورت کا مستدی )اور سدی يا قوت خان کو لکھا کے سورت ميں انگريزوں کے گماشتے تجارت کرتے ہيں،انہيں گرفتار کر ليا جاۓ ـ انگريز مغلوں کے ساتھ،سخت رويہ اختيار کرنے کے حق ميں تھے ـ ان کو مغلوں کی عظيم الشان طاقت اور ہم گير نظامت کا مطلق اندازہ نہ تھا ـ وہ ايک ايسا خواب ديکھ رہے تھے جس کی تعبير اس زمانے ميں انگريزوں کی تباہی کے مترادف تھی ـ  



Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108