::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Social Science > Gayee Dinoo Kay Sooraj  
Book Detail
 
 
Gayee Dinoo Kay Sooraj
 
Author/Translator: Javaid Choudhry 
Price: $ 11.77
Format: Hard Cover,320Pages, Weight: 490 gm
Product-Id: 1012015
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2009
Productid:1012015  
Quantity:
 

 
الطاف گوہر صاحب نے بڑی بھرپورزندگی گزاری،وہ بیورو کریٹ تھے،وہ پاکستان کے چھ سربراہان کے سیکرٹری،اطلاعات رہے،لندن میں انگریزی کے اخبار کے ایڈیٹررہے اور پاکستان میں وہ"ڈان"اور"دی مسلم"کے ایڈیٹرر رہے ـ میری ان سے ملاقات کا سلسلہ انیس سو چورانوے میں شروع ہوا وہ ان دنوں علیل تھے ان ملاقاتوں کے دوران میں ان سے ایک طویل انٹرویو کی درخواست کی انہوں نے میری خواہش مان لی یوں میں نے ان کی زندگی کا طویل انٹرویو کیا ـ یہ محض ایک انٹرویو نہیں تھا ـ یہ پاکستان کی تاریخ بھی تھا،یہ انٹرویو انیس سو پچانوے میں بہت مشہور ہوا تھا ـ میں نے گوہر صاحب کی گفتگو آب بیتی کے سٹائل میں تحریر کی ـ آپ یہ انٹرویو پڑھیے اور گوہر صاحب کے مشاہدات سے لطف لیجیے ـ  

پاکستان بننے سے بہت پہلے میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوا ـ میرے والد پڑھے لکھے شخص تھے ـ ان کی بہت بڑی لائبریری تھی ـ جب سکول جانے کی عمر ہوئی تو کنٹونمنٹ سکول میں داخل کرا دیا گیا ـ اسلامی سکولوں کی تعلیم اچھی تھی اور نہ ہی ماحول ـ تعلیم پر ہندو چھاۓ ہوۓ تھے ـ ہندو استاد مسلمان طالب علمون کو سائنس کے مضامین اور انگریزی نہیں رکھنے دیتے تھے جو طالب علم اصرار کرتا اسے کہتے یہ تمہاری بس کی بات نہیں تم گاۓ کا گوشت کھاتے ہو جس سے دماغ پر برا اثر پڑتا ہے تم عربی اردو فارسی اور ہسٹری کے مضامین رکھ لو ـ سکول میں پہلے روز جب ہندو استاد نے میرا نام"الطاف حسین گوہر الرحمان "پڑھا تو نفرت سے کہا میری جماعت میں تمہیں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہو گی تم ہمیشہ کھڑے رہو گے ـ اسی ماحول میں میرے چھوٹے بھائی تجمل حسین اور میں نے خالصہ کالج گوجرانوالہ سے ایف اے کیا پھر بی اے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا ـ بی اے کے بعد نوکری کے لیۓ دوڑ دھوپ شروع کر دی ـ اس دور میں ہم کلرکی سب آگے نہیں سوچتے تھے کیونکہ پڑھے لکھے مسلمان کی اس سے آگے اپروچ نہیں تھی ـ اس بے روزگاری کے دور میں تین ماہ تک ایچی سن کالج میں فارسی پڑھاتا رہا جب وہاں سے چھٹی ہو گئ تو سوچا چلو فوج ہی میں بھرتی ہو جاتا ہوں چنانچہ سائیکل پر لاہور چھاؤنی میں بھرتی آفس چلا گیا ـ



Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108