::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Social Science > Zero Point 6  
Book Detail
 
 
Zero Point 6
 
Author/Translator: Javaid Choudhry 
Price: $ 11.77
Format: Hard Cover,391Pages, Weight: 560 gm
Product-Id: 1012002
Publisher: Mushtaq Book Corner
Publish date: 2010
Productid:1012002  
Quantity:
 

 
میں انیس سو بانوے تک ایک نالائق طالب علم تھا'بیک ہینچر ـ میں ہمیشہ آخری بینچ کے آخر سرے پر بیٹھتا تھا،کلاس شروع ہوتی تھی تو میں حقیقت کی دنیا سے خوابوں کے پرستان میں شفٹ ہو جاتا تھا اور کلاس ختم ہونے تک اس دنیا میں رہتا تھا ـ میں پرستان میں کبھی کا نادیو بن جاتا تھا،کبھی شہزادہ مراد اور کبھی سبز پری کا عاشق زار'میں خوابوں کے پرستان میں ہوا میں بھی اڑتا تھا'پانی پر بھی چلتا تھا اور سورج'چاند اور ستاروں کو بھی جیب میں بھر لیتا تھا'میں خیال کی اس دنیا میں مختلف کرداروں سے مکالمے بھی کرتا تھا'میرا خوابوں کا پرستان اس قدر مکمل اور رنگین ہوتا تھا کہ میں کلاس کے گرم اور سرد کمرے'استاد کی خشک اور کھردری آواز اور کلاس فیلوز کی سرگوشیوں تک سے بے حد گا نہ ہو جاتا تھا'میرے اساتذہ نے شروع میں میری ان سرگرمیوں میں مخل ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں جلد ہی میری ہٹ دھرمی کا اندازہ ہو گیا چنانچہ انہوں نے مجھے "سائیں"ڈکلیئر کر دیا اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا اور یوں میں یونیورسٹی میں فالتو چیز بن گیا'میں اس ماحول سے ریگستان کی اوس کی طرح آہستہ آہستہ تحلیل ہوتا جا رہا تھا'میں وہاں ہوتا تھا لیکن لوگ میرے وجود سے لاتعلق ہوتے تھے'میرا کوئی دوست نہیں تھا'میری کوئی صحبت'کوئی کمپنی نہیں تھی'میں سپورٹس نہیں کرتا تھا'میں شرمیلے پن کی وجہ سے تقریری مقابلوں اور سٹیج پرفارمنس میں شریک بھی شریک نہیں ہوتا تھا'میں محفلوں میں گفتگو سے بھی گھبراتا تھا اور میں بزدلی اور کم حوصلگی کا بھی شکار تھا اور اس سارے سیناریو میں کتابیں میری واحد ساتھی تھیں'میں ہر قسم کی کتاب پڑھ جاتا تھا اور بعدازاں اسے ازبر کر لیتا تھا ـ میں طالب علمی کے دور میں فیل بھی ہوتا رہا'میں کم ترین نمبروں کے ساتھ پاس بھی ہوا اور میری زندگی بے مقصدیت کے کربناک دور سے بھی گزری لیکن پھر ایک دن عجیب واقعہ پیش آیا اور میں خود کوڈ سکور کر لیا ـ یہ ایم اے کلاس تھی'میں کلاس میں اونگھ رہا تھا'میں اچانک تالیوں کی آواز سنی اور میں ہڑبڑا کر اٹھ گیا'میرے ایک ساتھی نے کلاس ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی اور پوری کلاس تالیاں مار رہی تھی  

میرے دوست کے پاؤں میں اس وقت تک ایک ہی جوتا تھا'اس کا دوسرا جوتا شائد اس کی میز کے نیچے رہ گیا تھا ـ میں عقیدت کے اس سارے کھیل پر حیران بلکہ پریشان تھا'میرا دوست جب دوبارہ اپنی جگہ پر"سیٹل"ہو گیا تو میں نے اس سے پوچھا"کیا شیخ صاحب تمہارے پیر ہیں"میرے دوست کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئ'اس نے چاۓ کا کپ ہونٹوں سے لگایا اور مسکرا کر بولا"میں شیخ صاحب سے پہلے تمہیں اس دوسرے بزرگ کے بارے میں بتاتا ہوں'میں نے جس بزرگ کو گاڑی کی اگلی سیٹ سے اتارا تھا اور جو اس دفتر میں میرے ساتھ  کھڑا رہا تھا اس بزرگ کا نام رانا عبدالمجید تھا اور یہ میرے والد صاحب ہیں"مجھے حیرت کا جھٹکا لگا اور میں نے پوچھا"اور وہ شیخ صاحب"وہ فورا بولا"میرے والد شیخ صاحب کے ملازم بلکہ خادم ہیں"میں واقعی حیرت زدہ رہ گیا کیونکہ میں جانتا ہوں میرا دوست کروڑ پتی ہے'اس کی فیکٹری میں دوسولوگ کام کرتے ہیں اور اسکے گھر ملازموں کی باقاعدہ فوج ہے لہذا پھر اس کے والد کو کسی دوسرے کی ملازمت کرنے کی کیا ضرورت تھی'میرا دوست میری آنکھوں کے یہ سارے سوال پڑھ گیاـ ہماری آنکھیں بھی بہت دلچسپ کمپیوٹر ہیں،ہمارے سارے خیال'ہمارے سارے سوال'سارے خدشے اور سارے جذبات زبان پر آنے سے پہلے ہماری آنکھوں میں آتے ہیں اور ہماری آنکھوں کی اپنی ایک زبان اور اپنی ایک گرائمر ہے اور جو شخص دوسروں کی آنکھیں پڑھنے کا ماہر ہو اسے دنیا کی کوئی زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی ـ میں اپنے دوست کی طرف متوجہ ہوا'وہ بولا"میری اس تمام تر دولت اور خوشحالی کے باوجود میرے والد شیخ صاحب کے ساتھ رہتے ہیں'یہ سردیوں میں ان کے غسل کیلۓ پانی گرم کرتے ہیں'لوڈشیڈنگ کے دوران شیخ صاحب کو پنکھا جھلتے ہیں'ان کے کپڑے استری کرتے ہیں اور ان کے برتن دھوتے ہیںـ شیخ صاحب ایک آباد گھر میں رہتے ہیں'ان کے بچے اور بہوئیں ہیں'ان کے گھر میں نوکر چاکر بھی ہیں لیکن شیخ صاحب کے تمام کام میرے والد کرتے ہیں اور وہ یہ خدمت پچھلے اٹھتیس برسوں سے کر رہے ہیں"وہ خاموش ہو گیاـمیں نے بے چینی سے کروٹ بدلی اور پوچھا "لیکن کیوں؟"میرے دوست نے قہقہہ لگایا اور نرم آواز میں بولا"صرف ایک فٹ بال کی وجہ سے"یہ جواب سن کر میری حیرت آسمان کو چھونے لگی اور میں نے پوچھا"کیا مطلب"میرے دوست نے ایک لمبا سانس بھرا اور آہستہ آہستہ بولا"میرے والد ایک غریب خاندان کے ساتھ تعلق رکھتے تھے'انہوں نے چودہ سال کی عمر میں مزدوری اور ملازمتیں کرنا شروع کیں'میرے دادا جی نے بیس برس کی عمر میں ان کی شادی کر دی اور ایک برس بعد میں پیدا ہو گیا'میرے والد ان دنوں معاشی مشکلات کا شکار تھے



Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108