::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Bahadur Shah Zaffar  
Book Detail
 
 
Bahadur Shah Zaffar
 
Author/Translator: Dr Vidya Sagar Anand 
Price: $ 10.09
Format: Hard Cover,552Pages, Weight: 700 gm
Product-Id: 1012000
Publisher: Mushtaq Book Corner
Publish date: 2009
Productid:1012000  
Quantity:
 

 
وہ بہادر شاہ ظفر جو ہند کا تھا تاجور
انگریزوں نے جسے دے دی سزا در بدر
بیل گاڑی میں جسے رنگون میں بھیجا گیا
ہند سے اس کا جنازہ موت سے پہلے اٹھا
وہ ہماری جنگ آزادی کا پہلا رہنما
جرم اس کا یہ'مخالف میں تھا گوروں کے کھڑا
جنگ آزادی کا پرچم ہاتھ میں جب لے لیا
انگریزوں نے اسے نام بغاوت دے دیا
جس کے پرچم کے تلے تھے ہند کے اہل وفا
جھانسی کی رانی بھی تھی تانتیا ٹوپے بھی تھا


تھی سپہ سالار جنگ آزادی حضرت محل
گووہ ناری تھی مگر تھی مالک عزم و عمل
دشمنوں کو کس طرح زک دینا ہے وہ گھڑی
اپنی حکمت سے بناتی نقشہ جنگ و جدل
 

عدم موجودگی کے باعث برطانوی حکومت کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئ ـ بہادر شاہ ظفر نے ایک خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کے بیٹے اور بھتیجے کو تحفظ عطا کیا جاۓ ـ اور ہڈمین نامی انگریز افسر نے ان کی اس خواہش کا احترام اس طرح کیا کہ بہادر شاہ ظفر کے بیٹے اور پوتے کے سر دھڑ سے الگ کر دیے گۓ اور انہیں ایک تھال میں سجا کر بہادر شاہ ظفر کے سامنے پیش کیا گیا ہندوستانیوں نے ہڈمین کی اس بربریت کا بدلہ اسے لکھنوبغاوت میں ہلاک کر کے چکایا ـ اکتیس جولائی اٹھارہ سو ستونجا کو کارل مارکس کا ایک مضمون نیویارک کے روزنامے'ٹریبیون'میں شائع ہوا جس میں کارل مارکس نے لکھا تھا:"وقت گزرنے کے ساتھ ایسے حقائق ازخوداجاگر ہوں گے جو جان بل کو بھی یہ سمجھانے کے لیے کافی ہوں گے کہ یہ ایک فوجی بغاوت نہیں قومی انقلاب تھا-"اسی اخبار میں فریڈرچ اینجلس،جنہوں نے کارل مارکس کے ساتھ مل کر کمیونسٹ مینی فیسٹوتیار کیا تھا،نے لکھا حقیقت یہ ہے کہ پورے یوروپ یا امریکہ میں ایسی کوئی فوج نہیں ہے جوبربریت اور آمریت میں برطانوی  افواج کا مقابلہ کر سکے ـ لوٹ،تشدد،قتل عام اس فوج کا کردار ہے ـ دنیا کے دوسرے ممالک کی افواج میں اوصاف پاۓ جاتے ہیں وہ برطانوی فوج میں پوری طرح ہیںـ برطانوی فوجی کسی حد تک بھی چلے جانا اور کچھ بھی کر ڈالنا اپنا حق سمجھتا ہے ـ پورے بارہ دنوں تک لکھنو میں جو قہر برپا ہوا اسے برطانوی فوج انجام نہیں دے رہی تھی بلکہ وہ شراب کے نشے میں دھت آمریت کی انتہائی حد پار کیے ہوۓ جنگلی اور خوں خوار لٹیرے اور قاتل تھے جو ڈاکوؤں کی طرح عام شہریوں کو لوٹ رہے تھے اور ان کی لاشیں بچھا رہے تھے ـ اٹھارہ سو اٹھونجا میں برطانوی فوج پر سدا کے لیے ایک کلنک کے طور پریاد کیا جاۓ گاـ"دوہزار ساتھ کا سال ہندوستان میں مذکورہ تاریخی انقلاب کے ایک سو پچاس ویں سال کے طور پر منایا جا رہا ہے اور ملک ان سبھی کو یاد کر رہا ہے جنہوں نے ملک کو آزادی دلانے کے لیے قربانیاں دیں ـ قومی سالمیت قائم کرنے کی اجتماعی جدوجہد میں اکثر قوموں کی اقدار اور وقار بکھر جایا کرتے ہیں لیکن اگر ہم ان شہیدوں کو احترام کے ساتھ یاد کریں جنہوں نے ملک کے لیے قربانیاں دیں،تو اسے بحال اور یکجا کیا جا سکتا ہے ـ اٹھارہ سو اکتالیس میں فرانس جب ری پبلکن بناتب فرانس کے عوام نپولین کے باقیات سینٹ ہیلینا لے کر آۓ تھے اور پورے قومی اعزاز کے ساتھ انہیں فرانس میں دفنایا گیا تھا ـ بیس سال بعد نپولین کی شاندار یادگار قائم کی گئ ـ



Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108