::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Social Science > Zero Point 5  
Book Detail
 
 
Zero Point 5
 
Author/Translator: Javaid Choudhry 
Price: $ 11.77
Format: Hard Cover,400Pages, Weight: 530 gm
Product-Id: 1011999
Publisher: Mushtaq Book Corner
Publish date: 10.Oct,2009
Productid:1011999  
Quantity:
 

 
"لیکن نعش تازہ ہونی چاہیے"میں نے اپنے دوست کی طرف دیکھا اور وہ بھی ترچھی نگاہوں سے میری طرف دیکھنے لگا"ہم دونوں کی دھڑکنیں تیز تھیں'دل کنپٹیوں میں دھڑک رہا تھا'سانسیں نتھنوں سے الجھ رہی تھیں اور پسینے کے قطرے سر کی چوٹی سے گردن کی طرف دوڑ رہے تھے'کمرے میں سانسوں کی آواز کے سوا مکمل خاموشی تھی اور وہ ہماری حالت کو انجواۓ کر رہا تھا'اس کی لمبی لمبی لٹیں برگد کے درخت کی رسیوں کی طرح اس کے شانوں پر گری تھیں'اس کے چوڑے ماتھے پر سلوٹوں کا جال بچھا تھا اور اس جال میں پسینے کے قطرے دائیں سے بائیں اور کبھی بائیں سے دائیں دوڑ رہے تھے ـ میں نے زندگی میں پہلی بارکسی کے پسینے کو دھڑکتے ہوۓ دیکھا تھا،اس کی سرخ آنکھوں کی سرخی میں اضافہ ہوتا جارہا تھااور اس کے بدن کی بدبو بھی آہستہ آہستہ تعفن بن رہی تھی'میرے اندر خوف ہلکورے لے رہا تھا لیکن میں اپنے خوف کو چہرے تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کر رہا تھا ـ دنیا کا ہر انسان خوفزدہ اور بہادر لوگوں میں بس اظہار کا فرق ہوتا ہے'بہادر لوگ اپنے خوف کونسوں تک محدود رکھنا جانتے ہیں'یہ خوف کو چہرے تک نہیں آنے دیتے جبکہ جو شخص اپنے خوف کو دبا نہیں سکتا اس کا خوف چند سیکنڈ میں اس کے چہرے پر پہنچ جاتا ہے ـ میں اس وقت بہادر بننے کی کوشش کر رہا تھا اور میں نے اسی کوشش میں اس کا چیلنج قبول کر لیا تھا ـ میں نے اس سے وعدہ کر لیا میں اسے انسانی نعش لا کر دوں گا اور وہ ہمیں اس نعش کو اٹھا کر اور بولا کر دکھاۓ گا'وہ بھی پر اعتماد تھا اور میں بھی اپنے تمام تر خوف کے باوجود اپنی جگہ پر ڈٹا ہوا تھا ـ میں اور میرا دوست ان دنوں غیر مرئی علوم کی جستجو میں تھے'ہمیں جہاں کسی اچھے دست شناس'نجومی'قیافہ شناس'صوفی'عامل یا پیرا سائیکالوجی کے ماہر کی اطلاع ملتی تھی ہم وہاں پہنچ جاتے تھے اور گھٹنوں اس کے ساتھ گفتگو کرتے رہتے تھے'ہم نے اس دور میں کالے جادو کے بے شمار ماہر بھی تلاش کۓ اور ہم جنوں اور پریوں کے "آقاؤں"کے پاس بھی گۓ'ہم ٹھنڈی یخ اور منجمد راتوں میں قبرستان میں ایک ٹانگ پر کھڑے ہو کر عمل کرنے والے عاملوں کے پاس بھی گۓ اور ہم نے اس دور کی گفتگو بھی سنی  

حاجی صاحب نے آخری عمر میں فیکٹری لگالی اور چوبیس گھنٹے فیکڑی میں رہنے لگے'وہ سولہ سے اٹھارہ گھنٹے دفتر میں کام کرتے تھے اور جب تھک جاتے تھے تو فیکٹری کے گیسٹ ہاؤس میں سو جاتے تھے'حاجی صاحب کے مزاج کی یہ تبدیلی سب کیلۓ حیران کن تھی'وہ تیس برس تک دنیاداری'کاروبار اور روپے پیسے سے الگ تھلگ رہے تھے'انہوں نے یہ عرصہ عبادت اور ریاضت میں گزاراتھا اور اللہ تعالی نے انہیں اس ریاضت کا بڑا خوبصورت صلہ دیا تھا'وہ اندرسے روشن ہوگۓ تھے'وہ صبح آٹھ بجے اپنی بیٹھک کھولتے تھے اور رات گۓ تک ان کے گرد لوگوں کا مجمع رہتا تھا،لوگ اپنی اپنی حاجت لے کر ان کے پاس آتے تھے'وہ ان کے لیۓ دعا کا ہاتھ بلند کر دیتے تھے اور اللہ تعالی سائل کے مسائل حل فرمادیتا تھا'اللہ تعالی نے ان کی دعاؤں کو قبولیت سے سرفراز کر رکھا تھا لیکن پھر اچانک حاجی صاحب کی زندگی نے پلٹا کھایا'وہ ایک دن اپنی گدی سے اٹھے'بیٹھک بند کی'اپنے بیٹوں سے سرمایہ لیا اور گارمنٹس کی ایک درمیانے درجے کی فیکٹری لگا لی'انہوں نے اس فیکٹری میں پانچ سو خواتین رکھیں'خود اپنے ہاتھوں سے یورپی خواتین کے لیۓ کپڑوں کے نۓ ڈیزائن بناۓ' یہ ڈیزائن یورپ بھجواۓ'باہر سے آرڈر آۓ اور حاجی صاحب نے مال بنوانا شروع کردیا'یوں ان کی فیکٹری چل نکلی اور حاجی صاحب دونوں ہاتھوں سے ڈالر سمیٹنے لگے'دنیا میں اس وقت گارمنٹس کی کم و بیش دو،تین کروڑ فیکٹریاں ہوں گی اور ان فیکٹریوں کے اتنے ہی مالکان ہوں گے لیکن ان دو'تین کروڑ مالکان میں حاجی صاحب جیسا کوئی دوسرا کردار نہیں ہو گا ـ پوری دنیا میں لوگ بڑھاپے تک کاروبار کرتے ہیں اور بعدازاں روپے پیسے اور اکاؤنٹس سے نائب ہو کر اللہ اللہ شروع کر دیتے ہیں لیکن حاجی صاحب ان سے بالکل الٹ ہیں'انہوں نے پینتیس سال کی عمر میں کاروبار چھوڑا اللہ لو لگائی لیکن جب وہ اللہ کے قریب ہو گۓ توانہوں نے اچانک اپنی آبادخانقاہ چھوڑی اور مکروہات کے گڑھے میں چھلانگ لگا دی'وہ دنیا کی بزنس مین ہیں جو فیکٹری سے درگاہ تک گۓ تھے اور پھر درگاہ سے واپس فیکٹری پر آگۓ ـ حاجی صاحب کی کہانی ایک کتس سے شروع ہوئی تھی اور کتے پر ہی ختم ہوئی تھی'



Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108