::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Political > Kal Tak  
Book Detail
 
 
Kal Tak
 
Author/Translator: Javaid Choudhry 
Price: $ 11.77
Format: Hard Cover,500Pages, Weight: 650 gm
Product-Id: 1011995
Publisher: Mushtaq Book Corner
Publish date: 10,Oct,2009
Productid:1011995  
Quantity:
 

 
خواتین و حضرات!آج سے تیس برس قبل کسی اخبار نویس نے مذہبی سیاسی جماعت کے ایک راہنما سے پوچھا تھا"آپ سیاست کیوں کر رہے ہیں"مولانا نے فورا جواب دیا تھا"ہم چاہتے ہیں ہم اقتدار میں آئیں اور آکر پاکستان میں شریعت نافذ کریں"اخبار نویس نے دوسرا سوال کیا"آپ سمجھتے ہیں اقتدار میں آۓ بغیر پاکستان میں شریعت نافذ نہیں ہوسکتی"مولانا نے جواب دیا تھا"کبھی نہیں"ان کا فرمانا تھا"نظام بدلنے کے لۓ طاقت چاہیے اور جب تک علماۓ کرام کے پاس طاقت نہیں ہو گی ہم اس وقت تک نظام تبدیل نہیں کر سکیں گےـ"خواتین و حضرات!مولانا کی یہ بات انیس سو ستر تک درست محسوس ہوتی تھی کیونکہ انیس سو ستر تک پاکستان کی اسمبلیوں میں علماۓ کرام کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی ـ انیس سو ستر کے انتخاب میں جمیعت علماۓ اسلام نے وفاق میں سات اور صوبوں میں آٹھ نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ جماعت اسلامی نے صوبائی اسمبلیوں میں چارسیٹیں لی تھیںـ انیس سو ستر کے الیکشن میں بھی اسلامی سیاسی جماعتوں کی نشستیں بہت کم تھیں'انیس سو اٹھاسی کے الیکشنز میں جمعیت علماۓ اسلام نے قومی اسمبلی کی آٹھ نشتیں حاصل کی تھیں اور انیس سو نوے کے الیکشن میں جے یو آئی کی چھ نشستیں تھیں'انیس سو ترانوے کے الیکشنز میں اسلامی جمہوری محاذ'متحدہ دینی محاذ اور پاکستان اسلامک فرنٹ نے تین'نشستیں حاصل کی تھیں ـ انیس سو ستانوے کے الیکشن میں جے یو آئی فضل الرحمان گروپ نے دو نشستیں حاصل کی تھیں چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں انیس سو ستر سے لے کر انیس سو ستانوے تک مذہبی سیاسی جماعتوں کے پاس اس قدر سیاسی قوت نہیں تھی کہ وہ ملکی نظام میں تبدیلی لاسکتیں  

آپ سچ پوچھیں تو میں"ٹیلی ویثرن اینیمل"نہیں ہوں'میں ٹیلی ویثرن سکرین پر ظاہر ہونے'ٹی وی پر شکل دکھانے اور اپنی آواز سنانے سے گھبراتا ہوںـمیری گھبراہٹ کی تین وجوہات ہیں ـ پہلی وجہ میری شخصیت ہے'میری شخصیت ٹیلی ویثرن"میچ"نہیں کرتی'میں کسی بھی زوایے سے کیمرہ فرینڈلی نہیں ہوں'میری شکل واجبی ہے'میری آواز میں بھی گھن گرج'دبدبہ'طنطنہ'وقار اور گونج نہیں'میں ایک عام'سیدھی سادی اور غیر متاثر کن آواز کا مالک ہوں'میں اپنی باڈی لینگوئج سے بھی"پینڈو"دکھائی دیتا ہوں'میرے چہرے پر دیہاتوں کا خوف'کسانوں کی پریشانی اور زمینداروں کا شرمیلا پن ہے ـ میرے اندر شدید بے چینی بھی ہے اور میں جب اس بے چینی پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہوں تویہ میرے ہاتھوں اور پلکوں میں منتقل ہو جاتی ہے اور میں بلاوجہ ہاتھ ہلانے لگتا ہوں اور تیزی سے پلکیں جھپکنے لگتا ہوں'میں اپنے ردعمل'اپنے تاثرات اور اپنی حیرانی کو بھی کنٹرول نہیں کر پاتا'میں جب بھی کوئی جھوٹی'بے وقوفی اور نادانی کی بات سنتا ہوں تو میرے منہ سے بے اختیار اف'اوۓ اورآہ نکل جاتا ہے اور یہ بھی ٹیلی ویثرن بالخصوص سنجیدہ سیاسی پروگراموں کے الفاظ نہیں ہیںـٹیلی ویثرن سے گھبرانے کی دوسری وجہ زبان'مجھے بولنا نہیں آتا'میں سنٹرل پنجاب کے دیہاتی علاقے سے تعلق رکھتا ہوں'اس علاقے کا لہجہ بہت "کروڈ"اوراکھڑ ہے'مجھے زندگی میں کبھی خالص اردو سننے'سیکھنے اور بولنے کا موقع نہیں ملا'میرے تمام اساتذہ بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور میں نے ان سے اردو اور انگریزی دونوں پنجابی میں پڑھی تھیںـ میری اردو دانی کا یہ عالم تھا کہ میں ایم اے تک حبیب بینک کوجیب (پاکٹ)بینک پڑھتا تھا



Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108