::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Tareekhay missar  
Book Detail
 
 
Tareekhay missar
 
Author/Translator: Dr Zahid Ali 
Price: $ 11.43
Format: Hard Cover,575Pages, Weight: 650 gm
Product-Id: 1011993
Publisher: Mushtaq Book Corner
Publish date: 2010
Productid:1011993  
Quantity:
 

 
اسلام کے جن فرقوں نے مذہب کو فلسفے سے متحد کرنے کی کوشش کی ان میں معتزلہ اور اسماعیلیہ کو قدامت کا شرف حاصل ہےـاب رہ گئ ان دنوں میں سے سابق فرقے کی تعیین اور تخصیص تو اس میں مورخوں کا اختلاف رہاـ اکثر کی راۓ میں اسماعیلیوں نے اپنے اصول معتزلیوں سے اخذ کیے ہیں جن کا رئیس واصل بن عطا متوفی اکاسی ہجری ہے لیکن اسماعیلی فرقے کا دوسرے شیعہ فرقوں کی طرح یہ عقیدہ ہے کہ شریعت کے روحانی علموم کا منبع اور سرچشمہ حضرت علی رضی تعالی عنہ ہیںـ آپ کے بعد ان علوم کی وراثت آپ کی اولاد کو ملی ـ یہ علوم سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے ہوۓ حضرت امام جعفر صادق متوفی بارہ سو اسی ہجری تک پہنچے ـ آپ نے ان کی اشاعت میں بڑا حصہ لیا ـ آپ کے شاگرد ابوموسی جابرین حیان نے ایک ہزار ورق کی ایک کتاب لکھی جس میں آپ کے پانچ سو رسالے شامل ہیں ـ بہرحال اسماعیلیوں کی روایت کے مطابق حضرت امام جعفر صادق نے "علوم باطنیہ "کی اشاعت میں بڑا اہتمام فرمایا ـ آپ ہی نے ظہور کے پہلے امام مہدی کے ظہور کی تمہید کی جس کی مفصل کیفیت گزر چکی ہے ـ بلادمغرب افریقہ کے شمالی حصے میں اسماعیلی داعیوں نے مسلسل اور جان توڑ کوشش کر کے اسماعلیت پھیلائی اور خلافت عباسیہ کے سیاسی اثرکو ان شہروں سے زائل کر دیا گیاـ ان میں سب سے زیادہ جس داعی کی دلیری محنت اور جانفشانی قابل تعریف و فسین ہے وہ ابو عبداللہ شیعی ہے اور فاطمیین کے ظہور کا سہرا کا سہرا اسی کے سر ہے ـ دوسوچھیانوے ہجری میں اس نے مہدی کو سجلماسہ کے قید خانے سے چھڑا کر پبلک میں ظاہر کیا اور حکومت کی باگ اسے سونپ دی ـ مگر اس کا بھی وہی حشر ہوا جو ابومسلم خراسانی کا خلافت عباسیہ میں ہواـ  

اسی وجہ سے وزیر حکومت کے مالک ہو گۓ تھے اور ان کا استبداد بہت بڑھ گیا تھا ـ اور ان کا استبداد بہت بڑھ گیا تھاـ ایسے نو عمر حکمرانوں عیش و عشرت میں پڑ گۓ ـ وزیروں نے ان کو قابو میں رکھا ـ چنانچہ انہوں نے موید شیرازی جیسے جلیل القدر باب الا ابواب کو مستنصر سے باریابی حاصل کرنے سے ایک زمانے تک روک رکھا ـ بڑی مشکل سے موید کو اجازت ملی ـ چند سال بعد ان کو باوجود ان کی نارضا مندی کے حلب کی جنگ پر بھیج دیا گیا ـ اسی طرح داعی حسن بن صباح سے بھی سلوک کیا گیا ـ بڑی مشکل سے انہیں مستنصر کو حکومت سے بالکل بے دخل کر دیا گیا ـ آخرکار داعی ادریس کی روایت کے مطابق اسے زہر دے دیا گیا ـ یہ تو حکمرانوں کی بے بسی کا عالم تھا ـ رہے وزرا،وہ تو مال و دولت جمع کرنے کی فکر میں لگے رہے ـ کہا جاتا ہے کہ وزیر افضل کی دولت اتنی تھی کہ اس کے خزانوں کی فہرست مرتب کرنے میں دو مہینے لگے ـ وزیروں کے اس طرز عمل نے حکمرانوں کو ان کے قتل پر آمادہ کیا ـ چنانچہ آمر نے افضل کو قتل کرادیا ـ موید مذکور کی کتاب "السیرۃالمویدیہ"کے مطالعے سے وزیروں کے استبداد پر کافی روشنی پڑتی ہے ـ وزیر جب کبھی خود مختار ہو جاتا معزول کر دیا جاتا اور اس کی جگہ دوسرے کا تقرر ہوتا ـ یہی وجہ ہے کہ چارسو اسی ہجری اور چارسوستاسی ہجری کے درمیان انتالیس وزیر مامور ہوۓ اور پھر برطرف کر دیے گۓ ـ امور مذہبی میں بھی فتور پڑ گیا ـ وزیروں کی طرح کثرت سے قاضی القضاۃ معزول کے گۓ ـ ان کی تعداد بیالیس بتائی جاتی ہے جس میں بعض عہدۃ قضا کے قابل نہ تھے ـ ‏غرضیکہ مستنصر کے عہد میں دولت فاطمیہ کے سیاسی اور مذہبی دونوں پہلوکمزور ہو گۓ ـ ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ مصر میں اثنا عشریوں کے بارھویں امام کے نام کا سکہ جاری ہو گیا جس سے اسماعیلی دعوت کو بڑا نقصان پہنچا ـ اسی زمانے میں صلیبیوں کے حملے شروع ہوۓ ـ بنو فاطمہ کو دوسری اسلامی ریاستوں سے اتحاد کر کے ان کا مقابلہ کرنا چاہیۓ تھا ـ مگر انہوں نے ایسا نہ کیا ـ بلکہ صلیبیوں سے مل گۓ ـ جنہوں نے ان سے بے وفائی کی اور عین قت پر ان کی دوستی چھوڑ دی ـ ان اسباب کا نتیجہ یہ نکلا کہ پانچ سو ستاسٹ ہجری میں صلاح الدین ایوبی نے خود دولت فاطمیہ کا خاتمہ کرکے مصر میں بنو عباس کا خطبہ پڑھ دیا ـ یہ دولت تقریبا پونے تین سو سال باقی رہی ـ بے شمار اسماعیلیوں نے اپنی سیاسی عمارت کی بنیاد مذہب پر رکھی تھی جسے وہ دعوت کہتے ہیں ـ



Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108