::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Political > Pakistan Lotnay Walay Hath  
Book Detail
 
 
Pakistan Lotnay Walay Hath
 
Author/Translator: Muhammad Qaisar Chouhan 
Price: $ 10.09
Format: Hard Cover,463Pages, Weight: 550 gm
Product-Id: 1011979
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2009,January
Productid:1011979  
Quantity:
 

 
"پاکستان لوٹنے والے ہاتھ"اس بدقسمت ملک میں حکمران،سیاستدانوں،فوجی جرنیلوں،بیوروکریسی،وڈیروں،جاگیرداروں اور صنعت کاروں کے اس باہمی گٹھ جوڑ کی داستان ہے جو گزشتہ باسٹھ سال پر محیط ہے اس گٹھ جوڑ کے نتیجے میں ملک کا دیوالیہ نکل گیا ہے ـ گزشتہ باسٹھ برس سے اس پیارے ملک کو سیاستدانوں،بیورو کریٹس،جاگیردار،فوجی جرنیلوں،فوجی بیوروکریسی،صنعت کاراورتاجروں نے تختہ عشق بنایا ہوا ہے ـ اور ہر شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اس ملک کا کیا بنے گا؟اس ملک میں آج تک کرپشن،رشوت،اقرباءپروری،چوربازاری،غنڈہ گردی،اورلوٹ مار ختم کرنے کے لیۓ کوئی بھی کام نہیں ہوا ـ جس کے سبب غریب تو پہلے ہی غریب تھا اب غریب تر ہو گیا ہے،کبھی کبھی غریب انسان دال سبزی کھالیتا تھا اب دو وقت کی بجاۓ ایک وقت کی روٹی بھی بمشکل پوری کرنے پر مجبور ہو گیا ہے ـ سیاسی پشت پناہوں اور کسی کا احتساب نہ ہونے کی وجہ سے پہلے سے موجود تمام برائیوں کرپشن،بدعنوانی،رشوت کے علاوہ اغواءبراۓتاوان،ڈکیتی،عورتوں کی بےحرمتی،زمینوں پر ناجائز قبضوں کے ہزاروں کی تعداد میں واقعات کو روکنا نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہو گیا ہےـسیاستدانوں'تاجروں اور صنعت کاروں کی لوٹ گھسوٹ سول اور ملٹریبیورو کریسی کی آشیرباد کے بغیر ناممکن ہے ـ دولت کو ہر ناجائز اور جائز ذرائع سے حاصل کرنے کی خواہش نے کرپشن کو انتہا تک پہنچا دیا ہے الیکشن لڑنا ہو تو پیسہ'ملازمت حاصل کرنی ہو تو پیسہ،اچھے گھرانے شادی میں شادی کرنی ہو تو پیسہ'تھانیدار کو راضی کرنا ہو تو پیسہ،جج سے انصاف لینا ہو تو پیسہ'ہسپتال میں اچھا علاج کروانا ہو تو پیسہ،بچوں کو تعلیم اچھی دینی ہو تو پیسہ،معاشرے میں قابل عزت اور معزز بن کے رہنا ہو تو پیسہ،اس معاشرے میں اخلاقی قدروں اور مضبوط کردار کے بجاۓ پیشہ معیاری بن کر رہ گیا ہے ایک اشتہاری مجرم یا رسہ گیروں کی پشت پناہی کرنے والا ناجائز طور پر منشیات فروخت کر کے پیسہ کما کر معاشرے میں معزز بنا ہوا ہے ـ معاشرے میں بڑھتے ہوۓ جرائم کی وجہ یہی لوگ ہیں جن کے پاس پیسہ یا سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا ـ  

سابق صدر جنرل(ر)پرویز مشرف ان دنوں راولپنڈی،اسلام آباد،کراچی میں اپنے اہل خانہ اور قریبی دوستوں کے ساتھ بھرپور زندگی کے دن گزارتے ہوۓ خواب"انجواۓ"کر رہے ہیںـلیکن ان کے دور کی تلخ یادیں ابھی عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئیں ـ عوام کو سب کچھ ویسے کا ویسا ہے لگ رہا ہے ـ پیپلز پارٹی کی حکومت انہی کے نقش قدم پر چل رہی ہے ـ پرویز مشرف کی مثال ان دنوں اسی ریٹائرڈ جنرل کی طرح ہے جسکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جس طرح زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مرا ہوا ہاتھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے اسی طرح جنرل بھی ریٹائر ہونے کے بعد سوالاکھ کا ہو جاتا ہے ـ جرنیل ریٹائرمنٹ کے بعد ڑیادہ فوائد اٹھاتے ہیں ـ یہی حال پرویز مشرف کا بھی ہے ـ تاہم ان دنوں پرویز مشرف کی ذات ان کے دور میں ہونے والی کرپشن اور بے ضابطگیوں کے حوالے سے زیر بحث ہے ـ اگرچہ پرویز مشرف ن متعدد بار اس کا امر کا اظہار کیا کہ آنے والے وقتوں میں بھی کوئی ان پر کرپشن،بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے الزامات لگانے کی جرات نہیں کر سکے گا ـ کیونکہ انہوں نے بدعنوانی اور بے ضابطگیوں نہیں کی لیکن ان کی بات یہ درست نہیں ہے ـ پرویز مشرف کے دور اقتدارپر اگر ایک نظر دوڑائی جاۓ تو حیرت ہوتی ہے ـ کہ وہ کس طرح آٹھ سال چھ ماہ اور چھ دن تک بلاشرکت غیرے فوجی وردی کے رعب و دبدبے میں اپنی "سثک"ہلاتے ہوۓ اپنے احکامات پر عمل کرواتے رہے ـ جتنا عرصہ انہون نے حکمرانی کی،اتنا عرصہ ان کے ان فیصلوں پر "جی حضور"کی ہی آواز آتی تھی ـ مشرف ہاں کہتا تو سارے کہتے ہاں اور اگر وہ ناں کہتے تو ناں کہتے ـ وہ کسی تقریب میں بیٹھے تو انہیں خوش کرنے کے لیے سی بی آر کے چئیرمین بھی گھنگروؤں کے بغیر طلبے کی آوازپر ناچنے لگتے،کسی مدرسہ،پر بم گرانا ہو یا سڑکوں پر نیکر پہن کر خواتین کی دوڑ لگوانی ہو،پرویز مشرف کو کوئی روکنے اور ٹوکنے والا نہیں تھا ـ



Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108