::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Dajaal 3  
Book Detail
 
 
Dajaal 3
دجال3  
Author/Translator: Aleem Ul Haq Haqi 
Price: $ 7.14
Format: Hard Cover, 376Pages, Weight: 460 gm
Product-Id: 1011895
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2007
Productid:1011895  
Quantity:
 

 

دجال3

چیلےچھہ ہفتےسےاس عورت کی نگرانی کررہےتھے۔وہ گھرمیں سورہی ہوتی تواس کےگھرپرنظررکھی جاتی۔کام پر جاتےہوۓاورکام پرآتےہوۓاس کاتعاقب کیاجاتا۔وہ دوستوں سےملنےجاتی،تب بھی باہراس کاانتظارکیاجاتا۔

اپنےلیڑرکی موت کےبعدسےان کی تعدادمسلسل کم ہورہی تھی۔کچھہ ایسےتھے،جنہیں اب جینابھی گوارہ نہیں تھا۔انہوں نےخودکشی کرلی تھی۔بہت سےایسی مایوسی میں گھرگۓ تھےکہ انہوں نےگھرسےنکلنابھی چھوڑدیاتھا۔لیکن پیچھا کرنےوالےوہ لوگ تھے،جوانتقام کی آگ میں پھنک رہے تھےاوراسی لیےوہ مسلسل اسی پرنظررکھےہوۓتھے۔

جس دن وہ ڈاکٹرکےپاس گئی،دوچیلےاس کاتعاقب کررہے تھے۔وہ ویٹینگ روم میں بھی اس کےساتھہ بیٹھےرہے۔اس کےچہرےپراذپت دپکھہ کرانہیں طمانیت ہورہی تھی۔وہ یقیناّّ کسی بہت بڑی اذیت سےدوچارتھی۔اور یہ بات خوش آئند تھی۔ "مس کیٹ رینالڈز۔"استقبالیہ کلرک نےعورت کوپکارا

اوردروازے کی طرف اشارہ کیا۔

وہ اٹھی اورمعذوروں کےسےاندازمیں کراہتی لڑکھڑاتی ڈاکٹرکےکمرےکےدروازےکی طرف بڑھی۔دروازہ کھول کروہ اندارداخل ہوئی۔ تواندرایک اجنبی چہرہ نظرآیا۔وہ ایک جوان ڈاکٹرتھا۔اس کےچہرےپرتازگی اورہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔

کیٹ نے الجھن بھرےاندازمیں پلکیں جھکائیں۔

"ڈاکٹرجانسن نےپریکٹس ترک کردی ہے"جوان ڈاکٹرنےوضاحت کی۔"آپ تشریف رکھیں نا۔"

 

وہ بےحدوسیع وعریض لان تھا۔موسم کی مناسبت سےبہت بڑا شامیانہ لگایاگیاتھا۔چاروں طرف قناتیں لگائی گئی تھیں۔نیچےدبیز قالین بچھاۓگۓتھےاس کانتیجہ ہی تھاکہ سردی کااحساس بہت حد تک کم ہوگیاتھا۔وہاں ایک ہزارسےزائدافرادکےبیٹھنےکی کنجائش تھی۔اسٹیج پرملک کےروشن خیال صاحب علم لوگ بیٹھےتھے۔ صدارتی کرسی پرحنیف ارشد متمکن تھےان کےچہرےپرایسی روشنی تھی،جوعام روشنیوں سےیکسرمختلف تھی۔ہونٹوں پرہلکا سابےساختہ تبسم تھا،مگرآنکھوں میں سنجیدگی تھی۔

اسٹیج سیکرٹری نےمختصرسےتعارفی کلمات کےبعدپکارا۔ "حضرات محترم۔۔۔۔۔۔۔اب آپ جناب حنیف ارشدکوسماعت فرمائیے"

حنیف ارشدمائیک پرآۓ۔انہوں نےانہوں نےاللہ کےبابرکت نام سے آغازکرتےہوۓحاضرین کوسلامتی اوربرکت کی دعادی۔پھرانہوں نےلیکچرکاآغازکیا۔"محترم دوستو،گزشتہ سال جب ہم ملےتھےتو اکیسویں صدی عیسوی کاآغازہوچکاتھا۔آپ جانتےہیں کہ میں نے عمرکاایک بڑاحصہ مغرب میں گزارہ ہے۔۔۔۔۔۔مغرب کےلوگوں کی طرح۔میںمذہب سےبہت دورتھا۔پھراللہ کی غنایت ہوئی اوراسکی دی ہوئی توفیق کےتحت میں اپنی اصل کی طرف پلٹا۔پچھلی بار میں نےآپ کوروشن خیال مغرب کےتوہمات کےبارےمیںبتایاتھا۔ میں نےآپ کونوسٹرےڈیمس کی پیش گوئیوں کےبارےمیںبھی بتایا تھا۔مبہم،اشاراتی نظموں کی شکل میں وہ پیش گوئیاں،جن کی مغرب میں اب بھی تشریح جاتی ہے۔ان کےمطابق یہ عیسوی صدی مسلمانوں کےعروج کی صدی ہے۔حالانکہ آثارزوال کی انتہا کےہیں۔لیکن توہم پرست مغرب نےاس بات کوگرہ میں باندھ لیا۔ امریکاجوروس کےزوال کےبعداب واحدسپرپاورہے،مغرب کا سرخیل ہےاس نےمسلمانوں کی بیخ کنی کےلیےبیسویں صدی کی آخری دہای میں کام شروع کردیاتھا۔"




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108