::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Political > Aur Zangir Tot Gai  
Book Detail
 
 
Aur Zangir Tot Gai
اور ‌‌زنجیر ٹوٹ گئ  
Author/Translator: Muhammad Nawaz Kharal 
Price: $ 7.14
Format: Hard Cover, 320Pages, Weight: 475 gm
Product-Id: 1011890
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2008
Productid:1011890  
Quantity:
 

 

اور ‌‌زنجیر ٹوٹ گئ

(حرف اول)

یہ 1976ءکا سن تھا اورامریکی وزیرخارجہ ہنری کسنجرپاکستان کےدورےپرتھا،وزیراعظم پاکستان ذوالفقارعلی بھٹو کےساتھہ ان کی ملاقات ہوئی،امریکہ چاہتا تھا ذوالفقارعلی بھٹوایٹمی پروگرام ترک کردیں، ہنری کسنجرامریکی صدر کا پیغام بھٹوکوپہنچانےآیا تھا، بھٹوصاحب نےبڑےسکون سےکسنجرکی بات سنی اوراس کےبعد ہنری کسنجرسےمخاطب ہوۓ۔"آپ میرےدوست ہیں،آپ میرےدوست ہیں،آپ مشورہ دیجۓمجھےکیاکرناچاہۓ۔"ہنری کسنجرذراسامسکرایااورنرم آوازمیں بولا"مسٹرپرائم منسٹرسفارت اوراقتدارکےکھیل میں کوئی کسی کادوست نہیں ہوتا،میں اس وقت محض ایک پیغام رساں ہوں،آپکو اپنےمشیرسےمشورہ کرنا چاہیے۔" بھٹو صاحب مسکراۓاورخوبصورت لہجےمیں جواب دیا۔"میں اس کےباوجودآپ کواپنادوست سمجھتا ہوں چنانچہ آپ سےمشورےکی درخواست کرتاہوں۔" ہنری کسنجرنےایک قہقہہ لگایااوربھٹوصاحب کی طرف دیکھہ کربولا"آپ واقعی ایک شاطر انسان ہیں۔"بھٹوصاحب نےخاموشی سےاپنی نظریں اس پرجمادیں، ہنری کسنجرنےتھوڑی دیرتوقف کیا اوراپنےلہجےمیں شائستگی بھرکربولا"میں بنیادی طورپرآپ کومشورہ نہیں بلکہ وارننگ دینےآیاہوں،امریکہ کوپاکستان کےایٹمی پروگرام سےبےشمار خدشات لاحق ہیں لہزاآپ کےپاس میری بات ماننےکےعلاوہ کوئی راستہ نہیں۔" بھٹوصاحب نےمسکراکرپوچھا "فرض کرومیں انکار کردیتاہوں تو!" ہنری کسنجرکےچہرےپرسنجیدگی آگئی،اس نےان کی آنکھوں میں آنکھیںڈالیں اورایک،ایک لفظ چباکربولا"پھرہم تمھیں عبرتناک مثال بنادیں گے۔" بھٹو صاحب کارنگ سرخ ہوگیا، وہ کھڑےہوۓ،انھوں نےہنری کسنجر کی طرف ہاتھہ بڑھایااور بولے"پاکستان امریکی صدرکےبغیربھی چل سکتاہے۔

 

"

محترمہ بےنظیربھٹواب اس دنیامیں نہیں ہیں لیکن ان کانام اورکام اب بھی زندہ ہےاورتادیرزندہ رہےگا۔جب تک پاکستان میں جمہوریت رہےگی اورجب تک آمریت کےمکمل خاتمےاورغلبے کےخلاف عوام الناس کے دلوں میں بےزاری اورنفرت موجود رہےگی،محترمہ بےنظیربھٹوکانام ہمارےدرمیان گونجتااورتحرک وتحریک پیدا کرتارہےگا۔لاریب وہ دنیابھرمیں پاکستان کی پہچان تھیں۔ پاکستان کی آن اورشان تھیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہےکہ آج عالمی سطح پرپاکستان کودہشت گردوں کی جنت اورشدت پسندوں کی آماجگاہ کےطورپرجاناجاتاہےحالانکہ حقیقت اس کےبرعکس ہے۔ یہ درست ہےکہ ہمارے ہاں دہشت گردبھی پناہ یافتہ ہیں اور شددت پسندبھی اپنی کارستانیوں میں مصروف اورمشغول ہیں لیکن پاکستان کے16کروڑ عوام میں ان کی تعدادآٹے میں نمک کے برابربھی نہیں ہے۔ ہم سب ان سےاپنی لاتعلقی اوربرات کااظہار کرتےہیں۔ گماشتہ صفت لوگوں کایہ گروہ پاکستان کے چہرےپر کالک ملنےاوراسےداغدارکرنےکاباعث بن رہا ہے۔یہ سوسائٹی کو ہا‏‏ئی جیک کرنےاورہمارےوجود کےدشمنوں کوہمارےاورہمارے ملک کےبارےمیںدریدہ دالی کرنےکےمواقع بھی مل رہےہیں۔ یہ اسی کاشاخسانہ ہےکہ لندن سے شائع ہونےوالےدنیاۓمسیح کے ممتازترین جریدے"اکانومسٹ"نے دسمبر2008ء کےپہلےشمارے میں یہ بدگو‏ئی کی ہے کہ پاکستان دنیا کاسب سے خطرناک ملک ہے۔اس سے قبل امریکہ کےممتازہفت روزہ جریدے "نیوزویک" میں بھی اسی طرح کی یادہ گوئی کی گئ تھی۔ یہ اسی کاکارن ہے کہ7جنوری2008ءکوامریکہ کےبعض کارپردازوں اور  مدارالمہاموں نے پاکستان کے خلاف ایکشن لینے کی تجویزدی ہے




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108