::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > General > Khud Farebi Kay Shikar Amerikee Hukmaran  
Book Detail
 
 
Khud Farebi Kay Shikar Amerikee Hukmaran
خود فریبی کے شکار امریکی حکمران  
Author/Translator: Zaheer Ahmed 
Price: $ 7.57
Format: Hard Cover, 272Pages, Weight: 450 gm
Product-Id: 1011863
Publisher: Takhleeqat
Publish date: 2008
Productid:1011863  
Quantity:
 

 

پچھلے چند برسوں میں، امریکہ سے امن یا جنگ کے دوران۔ سرزد ہونے والی تقریبا سبھی فاش غلطیاں ایک ہی فکری مغالطے کی پیداوار تھیں یعنی یہ کہ گیارہ ستمبر کے بعد سے دنیا بدل چکی ہے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوا ۔

 اس سے تو انکار نہیں کہ دنیا میں چند ایک تبدیلیاں ضرور آئی ہیں جن میں سے ایک خود امریکہ کا خطرے کی زد میں ہونا بھی ہے لیکن دنیا کے عمومی چلن، یعنی دنیا کے ممالک کی طاقت، جنگی صلاحیت اور سیاسی ماحول میں ایسی کوئی قابل ذکر تبدیلی بھی نہیں آئی ۔

 ایک حقیقی اور دنیا کو ہلا کر رکھ دینے والی تبدیلی تو اس سے ایک عشرہ قبل تب آئی تھی جب سوویت یونین ٹوٹا تھا اور سردجنگ کا خاتمہ ہوا تھا لیکن چونکہ ہمارے لیڈر اس تبدیلی کو پوری طرح سمجھ نہیں پا رہے تھے لہذا وہ گیارہ ستمبر کے سانحے سے پہنچنے والے دکھ کو ہی تبدیلی کا طبع گرداننے لگے ۔

 جارج ڈبلیو بش اور انکے وہائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے اندر اعلی عہدوں پر فائز ساتھیوں نے جب اقتدار کے ایوانوں میں قدم رکھا تو انکا انداز خاصا فاتحانہ تھا- اسکی بنیاد یہ سوچ تھی کہ امریکہ، سرد جنگ جیت چکنے کی وجہ سے اب دنیا کی واحد عظیم ترین طاقت ہے لہذا وہ جو چاہیں کر سکتے ہیں جیسا کہ بس ایک حکم سے کسی کو بھی اطاعت پر مجبور کر لینا، ہمارے خیال میں جو سرکش حکومتیں ہوں انکے تختے الٹوا دینا، معاہدوں اور اتحادوں کی طرف اسی صورت میں پروا کرنا جب وہ ہمیں مفید لگیں اور اگر اپنے لیے مفید ثابت نہ ہو رہے ہوں تو انکی پاس داری سے صاف انکار کر دینا ۔

 

فوری فتح کا سراب

جارج ڈبلیو بش کے اقتدار سنبھالنے کے دو ہفتے بعد کی بات ہے کہ اسکے سیکریڑی دفاع رمزفیلڈ نے اپنے ایک پرانے دوست۔ اینڈریو مارشل کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا ۔

 رمزفیلڈ اس عہدے پر اس سے پہلے بھی 1957ء میں فائز رہ چکا تھا- وہ جیرالڈ فورڈ کے مختصر دور صدارت کا زمانہ تھا اور اس وقت رمزفیلڈ کی عمر صرف چالیس سال تھی اور وہ امریکہ کی تاریخ کا نو عمر ترین سیکرٹری دفاع مقرر ہونے کے اعزاز کا بھی حامل تھا اور اب اڑسٹھ سال کی عمر میں وہ معمر ترین سیکرٹری دفاع مقرر ہونے کے اعزاز کا بھی مستحق ٹھہرا تھا- لیکن وہ اس عمر میں بھی بہت مضبوط اور توانا تھا- اپنی تقرریوں کی درمیانی مدت کے پچیس سال اس نے نجی شعبے میں خاصی محنت کرکے گزارے تھے اور اب وہ سرلے نامی دوا ساز کمپنی کا انتظامی سربراہ تھا- جب بش منتخب ہوا تو رمزفیلڈ دوبارہ حکومت میں آنے کے لیے بے تاب تھا لیکن اسکے لیے اسے عوامی تائید و حمایت کی ضرورت تھی جس کا اہتمام اسکے لیے صدر بش نے کر دیا ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108