::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > General > Momi Geind  
Book Detail
 
 
Momi Geind
مومی گیند  
Author/Translator: Kausar Mehmood 
Price: $ 6.32
Format: Hard Cover, 160Pages, Weight: 350 gm
Product-Id: 1011860
Publisher: Takhleeqat
Publish date: 2008
Productid:1011860  
Quantity:
 

 

اپنی کم علمی اور فکری کم مائیگی کا اعتراف کرتے ہوۓ چند گزارشات گوش گزار کرنا چاہوں گا ۔

 یہ کتاب نہ صرف فرانسیسی بلکہ کسی بھی زبان سے اردو میں ترجمے کی میری پہلی کاوش ہے لہذا اس ترجمے کو ایک مبتدی کے ذوق و شوق کے حوالے سے دیکھا جاۓ- اس ترجمے کے حسن و قبح پر تو اہل نظر راۓ دے سکتے ہیں لیکن یہ عرض کرتا چلوں کہ میں نے آج تک جو بھی کام کیۓ ہیں ان میں سب سے زیادہ محنت اور مشقت اسکے لیے اٹھائی ہے اور 2 جنوری 2007ء سے لے کر آج 10 اگست 2007ء تک کی مسلسل شب بیداریوں کا نتیجہ آپکے سامنے ہے ۔

 مجھے اس کام پر آمادہ کرنے کے لیے بنیادی محرک معروف شاعر جناب ارشد معراج اور افسانہ نگار جناب عاصم بٹ صاحب ہیں ان دوستوں کے مسلسل اصرار اور ہلاشیری کی وجہ سے یہ کام پائیہ تکمیل تک پہنچا- اگر کہیں سے کوئی حرف توصیف آیا تو بلاشبہ ان دونوں حضرات کی مساعی کا نتیجہ گنا جاۓ کیونکہ مجھ ایسے سست الوجود آدمی سے اتنی مستقل مزاجی کی ہرگز توقع نہ تھی ۔

 میں نے یہی افسانے کیوں ترجمہ کیے؟ اسکا جواب بس یہی ہے- کہ میں نے موپساں کے جتنے افسانے پڑھے ان میں سے سب سے زیادہ یہی پسند آۓ ۔

 

مومی گیند

مسلسل کئی دنوں تک منتشر، شکست خوردہ سپاہی گروہ در گروہ شہر سے گزرتے رہے- یہ کوئی باقاعدہ فوجی دستے نہیں تھے بلکہ عسکری خدمات سے فارغ کیۓ گۓ جتھے تھے- انکی وردیاں پھٹی ہوئی تھیں اور داڑھیاں بے ترتیبی سے بڑھی ہوئی تھیں- ان میں کوئی تنظیم اور نظم و نسق نہیں تھا- وہ سست روی سے آگے بڑھ رہے تھے- سب مضمحل، نڈھال سے دکھائی دیتے تھے اور کسی نتیجہ خیز فکر، کسی سوچ سے عاری ہو کر چل رہے تھے- ایسا لگتا تھا کہ جونھی رہ رکے، تھک ہار کر گر پڑیں گے- ان میں خاص طور پر دکھائی دینے والے محفوظ فوجی دستوں کے ارکان تھے جو زمانہ امن میں اپنے ذرائع پر گزر اوقات کیا کرتے تھے، اب وہ اپنی بندوقوں کے بوجھ تلے دہرے ہوۓ جاتے تھے- چھوٹے چھوٹے سریع الحرکت دستے، آسانی سے حوصلہ ہار جانے والے، فورا ہی پرجوش ہونے والے، حملہ کر نے کے لیے مستعد، فرار ہونے کے تیار ۔ ۔ ۔ انھی میں ملے جلے کچھ سرخ نیکر والے، کسی بڑے معرکے میں کٹ مرنے والے ڈویژن کی باقیات، متفرق پیدل فوجیوں کی قطار میں کچھ ملول صورت تو پچی تھے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108