::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Haqeeki Khushi  
Book Detail
 
 
Haqeeki Khushi
حقیقی خوشی  
Author/Translator: Jodha S Kosher 
Price: $ 11.31
Format: Hard Cover, 632Pages, Weight: 815 gm
Product-Id: 1011858
Publisher: Takhleeqat
Publish date: 2008
Productid:1011858  
Quantity:
 

 

ایک معاون کی کہانی

میں نے سینڈی ویل کو پہلی مرتبہ اپریل 1998ء میں ایک اہم ترین دن پر دیکھا- ان دنوں میں میرل لنچ کے لیے مالی خدمات کے تجزیہ کار کی حیثیت سے خصوصی مختار کے طور پر کام کر رہا تھا- اس دن سینڈی ویل کے راہنمائی میں ٹریولرز کارپوریشن نے اپنے 150 بلین ڈالرز کے اثاثوں کے ساتھ سٹی کارپ سے عظیم ادغام کا اعلان کیا تھا- یہ ادغام اس وقت امریکہ میں شراکتی اداروں کی تاریخ کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا جس میں سینڈی سے وعدہ کیا گیا تھا ادغام کے نتیجے میں مشترکہ ادارے کو ایک طاقتور عالمی ادارہ بنا دیا جاۓ گا جس کی صنعتی پیداوار اور تقسیم کاری کا سلسلہ بے مثل ہو گا- اس سنسنی خیز کاروباری سودے کے نتیجے میں سینڈی ویل نے جو خواب دیکھے تھے انکے شعور نے مجھے چونکا اور دہلا دیا کہ کس طرح ایک شخص نے اتنے عظیم اقدامات کرنے کا سوچا ہے اور کیا وہ اتنی صلاحیتیں رکھتا ہے کہ وہ راتوں رات پوری مالیاتی صنعت ہی کو بدل کر رکھ دے ؟

 

علیحدگی

سالوں بعد ماہ مئی میں، میں نے کچھ بڑے بڑے سودے کیے- یہ سودوں کا چکر اسطرح باقاعدہ ایسا جان پڑا جیسا کہ موسموں کا چکر ہوتا ہے- نیا سال اور نۓ سودے- میرے ساتھی اس بات پر گلہ کرتے تھے کہ میں جان بوجھ کر پہلے سودے کے یادگار دن کے اردگرد ہی نۓ سودے کی تاریخ مقرر کرتا ہوں تاکہ انکی موسم گرما کی تعطیلات برباد ہوں اور وہ اپنی آستینیں ایک نۓ اور بڑے ادغام کے لیے اوپر چڑھالیں- اگرچہ میں جب ماضی میں اپنے پہلے سودے کی طرف دیکھتا ہوں تو یہ تصور کرتا ہوں کہ میں دوسروں کی زندگیوں کو ڈگمگانے کی صلاحیت رکھتا ہوں ۔

 میں اور میرا دوست آرتھر کارٹر چار سال تک اپنی کمپنی بنانے کے خواب دیکھتے رہے تھے- آرتھر لیہمان برادرز میں ایک ناتجربہ کار سرمایہ کاری کا بینک کار تھا جبکہ میں نے بیئر سٹیرنز سے اپنا راستہ برن ہینڈ کمپنی تک بطور ایک جوان حصص کے دلال کے بنایا تھا- اپنی اپنی ملازمت پر ہر صبح مین ہیٹن سے جاتے ہوۓ ہم اپنے تمام "اثاثے" یکجا کرکے اپنا کاروبار کرنے کے متعلق بات چیت کرتے رہتے- یہ 1950ء کے سال کا اواخر تھا- میں دوسری دہائی کے درمیان کی عمر میں تھا- خلائی دور ہم پر آوارد ہوا تھا- امریکی صنعت نئی نئی ٹیکنالوجیوں کے دھماکے کر رہی تھی اور خوشحالی کا فیضان عام تھا- نۓ عشرے کا وعدہ آ پہنچا تھا اور حصص کی مارکیٹ روبہ ترقی تھی- محفوظ سرمایہ کاری کا ہمارا منظرنامہ محدود تھا لیکن ہم جوان تھے، روشن پہلو پر نظر رکھتے تھے اور خود اعتمادی سے سرشار تھے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108