::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Meray 50 Pasandeeda Scene  
Book Detail
 
 
Meray 50 Pasandeeda Scene
میرے 50 پسندیدہ سین  
Author/Translator: Hummaira Ahmad 
Price: $ 5.64
Format: Hard Cover, 198Pages, Weight: 340 gm
Product-Id: 1011853
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2006
Productid:1011853  
Quantity:
 

 

مجھ سے لوگ اکژ یہ پوچھتے ہیں کہ آپکی پسندیدہ تحریر کونسی ہے یا پھر یہ کہ آپ اپنی کس تحریر کو بار بار پڑھتی ہیں- پسندیدہ تحریر کے جواب میں تو میں اپنی چند تحریروں کا نام دے سکتی ہوں مگر کس تحریر کو بار بار پڑھتی ہوں ۔ ۔ ۔ کسی تحریر کو دوبارہ پڑھنا مشکل کام ہے- میں تو کسی دوسرے کی کتاب کو بھی دوسری دفعہ نہیں پڑھتی اور کہاں یہ کہ اپنی ہی کسی تحریر کو بار بار پڑھا جاۓ ۔

 لیکن یہ ضرور ہے کہ اب تک لکھی جانے والی اپنی تمام تحریروں میں کچھ سین ایسے ہیں جو مجھے بے حد پسند ہیں اور میں پوری کتاب پڑھنے کی بجاۓ صرف وہ سین نکال کر پڑھتی ہوں- کتاب کو اس طرح پڑھنے کا اپنا ایک مزہ ہوتا ہے اور اپنی بعض تحریریں مجھے صرف کسی خاص سین کی وجہ سے پسند ہوتی ہیں کیونکہ پوری تحریر نہیں کبھی کبھار صرف ایک سین اتنا اچھا لکھا جاتا ہے- کہ وہ تحریر اسی سین کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے ۔

 ٹیلی ویژن کے لیے لکھنا شروع کرنے کے بعد مجھے خاص طور پر اس بات کا احساس ہوا کہ صرف کردار نگاری نہیں منظرنگاری بھی بہت اہم ہوتی ہے ۔

 پاپولر فکشن میں کبھی بھی کسی رائٹر نے اپنے منتخب کردہ سینز کو کسی مجموعے کی صورت میں پیش نہیں کیا- میں کر رہی ہوں- یہ اردو فکشن میں ایک نئی چیز ہے اور میں امید کرتی ہوں آپ اسے پسند کریں گے ۔

 آپ جن سینز کو اس کتاب میں پڑھیں گے وہ میری تحریروں کے بہترین سینز ہیں اور یہ وہ حصے ہیں جنھیں میں بار بار پڑھتی ہوں اور جن میں مجھے وہ خامیاں نظر نہیں آتی جو مجھے اپنی ہر تحریر میں نظر آتی ہیں ۔

 

سین 1

میں آج تک یہ سمجھ نہیں پایا کہ میرے باپ نے اتنے بڑے حادثے کے بعد اپنا ذہنی توازن کیوں نہیں کھویا ۔ ۔ ۔ مظفر سے زیادہ اسے کسی سے محبت نہیں تھی- میں نے خود نہیں دیکھا مگر دیکھنے والے کہتے ہیں میرے باپ نے میرے بھائی کی لاش کے تمام ٹکڑے خود اکٹھے کیے تھے، برستی آنکھوں کے ساتھ ۔ ۔ ۔ کسی چیخ و پکار کے بغیر- اس نے میرے بھائی کا پورا جسم اکٹھا کیا، وہ ہر چکر کے بعد جسم کے ٹکڑے دوبارہ گنتا پھر جو ٹکڑے کم ہوتے انکے نام دہراتا- دائیں ٹانگ ۔ ۔ ۔ ناک ۔ ۔ ۔ بایاں کان ۔ ۔ ۔ بایاں ہاتھ ۔ ۔ ۔ پیر کا انگوٹھا ۔ ۔ ۔ دائیں ہاتھ کی چار انگلیاں ۔

 ہاتھ کی دو انگلیاں وہ آدھ گھنٹہ ڈھونڈتا رہا- جب وہ مل گئیں تو اسے جیسے قرار آ گیا- اب اسکے بیٹے کا جسم نامکمل نہیں رہا تھا- وہ جسم کا ہر ٹکڑا اٹھا کر اس پر لگی ہوئی گرد اور مٹی صاف کر دیتا اگرچہ وہ خون خشک نہیں کر پاتا تھا مگر وہ سارے تنکے اور مٹی کو ضرور صاف کر دیتا- اسکے کندھے پر لٹکا ہوا کپڑا اس خون آلود مٹی اور تنکوں سے بھر گیا تھا- میرے بھائی کی عمر اس وقت صرف بیس سال تھی، پورا گاؤں جانتا تھا کہ وہ شریف اور ہر ایک کی عزت کرنے والا تھا- اسے کبھی کسی نے جھگڑتے نہیں دیکھا تھا- مسلم لیگ کے لیے کام کرنے کے علاوہ اس نے زندگی میں کوئی جرم نہیں کیا تھا اور یہ کوئی معمولی جرم نہیں تھا- کم از کم اس زمانے میں اتنی بے رحمی کے ساتھ قتل ہونے کے لیے صرف دو چیزیں کافی تھیں- مسلمان ہونا اور پھر مسلم لیگ کا حامی ہونا اور بدقسمتی سے میرے بھائی میں دونوں خصوصیات تھیں ۔

 میرے بھائی کے جسم کے ٹکڑے اکٹھے کرنے کے بعد میرے باپ نے درخت سے میری ماں کا سر اتارا تھا- پھر وہ دونوں لاشیں گھر لے آیا- میں اور میری دونوں بہنیں سکتے میں آ گۓ تھے- اگرچہ میرے باپ نے ہم تینوں کو وہ لاشیں دیکھنے نہیں دیں- اس نے سوچا ہو گا کہ ہم تینوں کو خوف اور صدمے کے مارے کچھ ۔ ۔ ۔ میں اس وقت چودہ سال کا تھا، میری چھوٹی بہن ساڑھے پندرہ سال کی تھی اور منجھلی بہن سترہ سال کی ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108