::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Political > Aur Musharaf Chalay Gay  
Book Detail
 
 
Aur Musharaf Chalay Gay
اور مشرف چلے گۓ  
Author/Translator: Nadeem Ahmad 
Price: $ 7.57
Format: Hard Cover, 256Pages, Weight: 440 gm
Product-Id: 1011840
Publisher: Sabeeh Publishers
Publish date: 2008
Productid:1011840  
Quantity:
 

 

مشرف کا استعفی

سوموار اٹھارہ اگست دو ہزار آٹھ یقینا صدر جنرل پرویز مشرف کی زندگی کا تلخ ترین دن شمار ہو گا- کئی ہفتوں سے کیا سیاستدان اور کیا سٹے باز، ہر کوئی اسی بحث میں الجھا نظر آتا تھا کہ ایک نو سالہ پرانے آمر حکمران کو گھر کیسے بھیجا جاۓ ۔

 یہ بحث آخرکار پرویز مشرف کے استعفی کے ساتھ ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچی- لیکن ایک سابقہ فوجی حکمران کے غیر مشروط استعفی نے کئی نئی بحثوں کو جنم دیا ہے جو آنے والے دنوں اور ہفتوں میں میڈیا کی زینت بنی رہیں گی- مستقبل کی ان بحثوں کے چیدہ نقاط میں یقینا معزول ججوں کی بحالی کا معاملہ، اگلے صدر کا چناؤ، مسلم لیگ نواز کی وفاقی کابینہ میں واپسی اور ایسے بہت سے اور امور شامل ہونگے جن کا تعلق ماضی سے زيادہ مستقبل سے ہے ۔

 لیکن اگر پاکستانیوں کو مستقبل کے لیے خیر ی؛ توقع کرنی ہے تو ضروری ہے کہ وہ پچھلے چند مہینوں میں ہونے والی سیاست کو پرکھیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ جو ہوا وہ کیوں ہوا ۔

 انتخابات جیتنے کے چھ مہینے بعد تک پیپلزپارٹی کے رہنما آصف زرداری اپنے حلیفوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کو ہٹانے کی بجاۓ انھیں ایوان صدارت میں رکھنا ہی دراصل اتحادیوں کے مفاد میں ہیں، انکی منطق کے مطابق ایک سیاسی طور پر ہارا ہوا صدر انکے لیے اتنا بڑا خطرہ نہیں ہو سکتا حتنا کہ موجودہ صورتحال میں ایک تازہ منتخب شدہ صدر ۔

 

مشرف کیسے گۓ؟

سابق صدر پرویز مشرف کے استعفی میں 5 عناصر نے اہم اور مرکزی کردار ادا کیا- چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی برطرفی اور بعدازاں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اعلی عدلیہ کے 60 ججوں کی معزولی سابق صدر پرویز مشرف کے 9 سالہ دور اقتدار کی تاریخی غلطی ثابت ہوئی جس نے بالآخر انھیں اقتدار سے محروم کر دیا- انکو گرانے میں وکلاء برادری خاص طور پر چوہدری اعتزاز احسن، افتخار چوہدری، معزول ججوں اور پرنٹ و الیکڑانک میڈیا نے نمایاں کردار ادا کیا- ان ہی حلقوں کو مشرف سے نجات کو جدوجہد میں سب سے زیادہ مصائب کا سامنا کرنا پڑا- جنرل اشفاق پرویز کیانی کی قیادت میں پاک فوج نے کمزور پڑتے ہوۓ صدر کی حمایت ترک کر دی جو مشرف کے زوال کی سب سے بڑی وجہ بنا- انکے ساتھ یہی سلوک انکے غیر ملکی دوستوں خاص طور پر امریکہ اور برطانیہ نے بھی کیا جن کا خیال تھا کہ اگر انھوں نے مشرف کی حمایت یا دفاع کیا تو انکے مفادات شدید متاثر ہونے کا خطرہ ہے تابوت میں آخری کیل حکمران اتحاد خاص طور پر زرداری اور نوازشریف نے ٹھونک دی- حکمران اتحاد میں شامل مولانا فضل الرحمن اور اسفند یاولی پر مشرف کو اندھا اعتماد تھا لیکن جیسے عوامی سطح پر مواخذے کی تحریک کا اعلان کیا گیا یہ دونوں شخصیات بھی مشرف کے خلاف ہو گئیں- میاں نوازشریف کے لیے یہ موقع انتہائی پرمسرت ہے- انھوں نے 9 برس تک اس لمحے کا انتظار کیا- انھوں نے بالآخر اپنی برطرفی اور تذلیل کا انتقام لیا- وہ متواتر انکے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے رہے اور آخرکار انکی فتح ہوئی ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108