::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Political > Benaziar Shahadat  
Book Detail
 
 
Benaziar Shahadat
بے نظیر شہادت  
Author/Translator: Muhammad Zia Ul Haq Naqashbandi 
Price: $ 9.09
Format: Hard Cover, 256Pages, Weight: 460 gm
Product-Id: 1011836
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2008
Productid:1011836  
Quantity:
 

 

بے نظیر شہادت

عالم اسلام کی بطل جلیل اور پہلی مسلمان وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی اچانک شہادت، ملک و قوم ہی کے لیے نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے جانکا و صدمہ ہے ۔

 حقیقت یہ ہے کہ محترمہ صرف دنیاۓ اسلام ہی کا قیمتی اور گرانقدر اثاثہ نہیں تھیں بلکہ وہ پوری دنیا میں اہمیت کی حامل خاتون تھیں، کہنے کو تو انھیں "دختر مشرق" کہا جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ مشرق و مغرب میں مقبول اور ہر دل عزیز تھیں- جن دنوں وہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز نہیں تھیں ان دنوں بھی انھیں یورپ اور امریکہ کی اہم تھنک ٹینکس اور یونیورسٹیوں میں بین الاقوامی امور پر مقالات پڑھنے کے لیے مدعو کیا جاتا تھا- گویا یہ انکے علم و فضل کا اعتراف تھا ۔

 انکی شہادت نے بھی یہ امر ثابت کر دیا ہے کہ وہ مشرق و مغرب میں یکساں مقبول تھیں ہر کوئی انھیں دل سے پسند کرتا تھا اور ان سے ملاقات کا خواہاں تھا- یہی وجہ ہے کہ انکی شہادت پر دنیا کے تمام ممالک میں سوگ اور غم کی کیفیت پائی گئی، بہت سے لوگ دھاڑیں مار کر روتے رہے اور ان گنت آنکھیں اشکبار اور دل سوگوار ہوۓ- بعض اہم اجلاس اور تقریبات ملتوی کر دی گئیں حتی کہ اکژ و بیشتر ممالک کے سربراہوں نے تعزیتی پیغامات بھیج کر اپنے رنج و غم کا اظہار کیا اور قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔

 

خوشبو کا قتل

بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا- وفاق پاکستان کی ایک درخشاں علامت کا خون ہو گیا- طاقتور، غیرآئینی اور غیر نمائندہ قوتوں کو مژدہ ہو کہ انکی بالادستی کو چیلنج کرنے والے جمہوری قافلے کی ایک سالار راستے سے ہٹا دی گئی ہے- یار لوگوں نے تو اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کا نوٹ جانا اور ہمارے بہادر فوجیوں کا 90 ہزار کی تعداد میں دشمن کے آگے ہتھیار ڈالنا بھی گوارہ کر لیا تھا- انھیں اب تک اس پر احساس ندامت نہیں- بے نظیر یا کسی بھی مقبول عوامی سیاسی رہنما کی زندگی انکی نظروں میں کیا وقعت رکھتی ہے- لیکن پاکستان کے عوام اور ہمارے عزیز وطن کے لیے یہ سانحہ عظیم ہے- ملک کے جسد سیاسی پر اسکے گہرے منفی اثرات تادیر محسوس کۓ جاتے رہیں گے- حق یہ ہے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان جو کہ بانیان پاکستان میں سے تھے قائداعظم انھیں اپنا دست راست سمجھتے تھے انکا اسی شہر اور باغ میں قتل- پھر ایوب و یحیی کے مارشل لاؤں کے خمیارے میں ملک کا ٹوٹ جانا اسکے بعد بھٹو کی پھانسی اور ہر اہم موڑ پر آئین اور جمہوریت کی روح کی پامالی، آزاد عدلیہ کے انہدام اور دستور مملکت کے ساتھ وابستگی ظاہر کرنے والے ججوں کی توہین آمیز طریقے سے برطرفی جیسے پے درپے واقعات کے بعد پاکستان کی قوم اور ملک بے نظیر بھٹو جیسی بڑے اور ملک گیر ووٹ بنک کی مالک کی ظالمانہ قتل کی متحمل نہیں ہو سکتے تھے لیکن یہ دن دیکھنا بھی ہمارے نصیب میں لکھا ہوا تھا- وہ بھی عین اس موقع پر جبکہ پاکستان قوم عام انتخابات کے دھانے پر کھڑی ہے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108