::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Election 2008  
Book Detail
 
 
Election 2008
الیکشن 2008 
Author/Translator: Muhammad Zia Ul Haq Naqashbandi 
Price: $ 10.6
Format: Hard Cover, 352Pages, Weight: 460 gm
Product-Id: 1011830
Publisher: Fikar Publishers
Publish date: 2008
Productid:1011830  
Quantity:
 

 

جمہوریت کے اصول اور ہمارا موجودہ منظرنامہ

مغرب کے سانچوں میں ڈھلی ہوئی جمہوریت جس میں بندوں کو انکے ووٹوں کے ذریعے گنا جاتا ہے انسانوں کو تولا نہیں جاتا اس جمہوریت کے دیگر اصولوں میں سے ایک اصول یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ تمام لوگوں کو اپنی چالبازیوں اور شاطرانہ حربوں سے صرف مختصر مدت کے لیے تو بیوقوف بنا سکتے ہیں ہمیشہ کے لیے نہیں کیونکہ بہت جلد ان میں سے لوگ آپکی چالاکیوں سے آگاہ ہو جائیں گے اور آپکے سحر سے نکل جائیں گے- لیکن آپ اپنے کافی حامی کاروں کو اپنی چرب زبانی اور جھوٹ یا خوف کے ذریعے کافی عرصہ تک بیوقوف بنا سکتے ہیں لیکن ہمیشہ کے لیے سارے حامی کاروں کو آپ پھر بھی بیوقوف نہیں بنا سکتے- کچھ مدت گزرنے کے بعد ان میں سے کئی لوگ سمجھ جائیں گے- انکے سامنے دھوکے اور فراڈ کے ذریعے سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن کچھ لوگوں کو آپ ساری زندگی یا جب تک آپکے دم میں دم ہے- خوف، لالچ اور دیگر حربوں سے بیوقوف بنا کے رکھ سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ 12 اکتوبر 1999ء کو جب جنرل پرویز مشرف نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکژیت رکھنے والی عوام کی منتخب جمہوری حکومت کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اپنا چھ سات نکات پر مبنی اصلاحی اور اقتصادی ترقی کا پروگرام دیا تو میاں نوازشریف کے سارے مخالفین نے جنرل پرویزمشرف کو مسیحا سمجھ کر انکی حمایت میں خوشی کے شادیانے بجاۓ چنانچہ اس وقت کی سپریم کورٹ نے بھی انکو اپنا اصلاحاتی پروگرام مکمل کرکے دوبارہ انتخابات کراکے ملک منتخب جمہوری حکومت کے سپرد کرنے کا منڈیٹ دے دیا ۔

 

موسم بہار کی کتاب

انتخابات 2008ء بلاشبہ تاریخی اہمیت کے حامل تھے- پاکستان کی 60 سالہ تاریخ میں دسویں بار ہونے والے یہ پہلے شفاف ترین انتخابات تھے جن میں عوام کی راۓ کو کچلنے اور دبانے کی بجاۓ معتبر اور نمایاں کیا گیا- یہی وجہ ہے کہ الیکشن کے بعد سیاسی حبس کا ماحول دم توڑ گیا ہے اور عوام کے چہروں پر ایک نیا اعتماد صاف دکھائی دے رہا ہے- انھیں سانس لینے میں بھی آسانی اور راحت محسوس ہو رہی ہے- عالمی سطح پر امریکہ اور یورپی یونین نے بھی ان انتخابات کی سچائی کو تسلیم کر لیا ہے ۔

 ان آمریت کش الیکشنز میں 8 کروڑ سے زائد باشعور عوام نے ووٹ کی طاقت عالمی سامراج کے گماشتوں اور پاکستان کی بربادی کے ناپاک منصوبے بنانے والے مکروہ کرداروں کو ملیامیٹ کرکے رکھ دیا ہے- اب صورتحال یہ ہے کہ فیصلہ کن انتخابات کے نتیجے میں پرامن سیاسی انقلاب کا سورج طلوع ہو چکا ہے جس کی حیات بخش کرنوں نے قائداعظم کے پاکستان کو بقعہ نور بنا رکھا ہے- ہر طرف جمہوریت کے شادیانے بج رہے ہیں- ان انتخابات کے نتائج نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ ہر مسئلے کا حل بندوق نہیں ہے- یہ تو ایک منظر ہے دوسری طرف پیادوں کی موت کے بعد بادشاہ نے براہ راست تلوار اٹھا کر طبل جنگ بجا دیا ہے- سیاسی بساط پر شروع ہونے والی اس جنگ میں آخری فتح یقینا جمہوری قوتوں کی ہو گی- میاں نوازشریف اور آصف زرداری نے مل کر حکومت سازی کرنے کا اعلان کرکے پوری قوم اور جمہوریت پسند حلقوں کے دل جیت لیے ہیں ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108