::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Kashmir Kay Hamala Awaar Aur Pindi Sasish Case  
Book Detail
 
 
Kashmir Kay Hamala Awaar Aur Pindi Sasish Case
کشمیر کے حملہ آور اور پنڈی سازش کیس 
Author/Translator: Anayat Ullah 
Price: $ 5.64
Format: Hard Cover, 198Pages, Weight: 450 gm
Product-Id: 1011774
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2008
Productid:1011774  
Quantity:
 

 

کشمیر کے حملہ آور

صدیوں سے پشاور شہر کے بازاروں میں داستان گوئی کا فن رائج اور مقبول رہا ہے- میں نے کئی بار اس فن کے ماہرین سے داستانیں سنیں اور دم بخود رہا لیکن میں جب خود ایک داستان سنانے لگا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میں اچھی قسم کا داستان گو نہیں ہوں- پتہ نہیں چلتا کہ کہاں سے اور کیسے شروع کروں- میں نے کشمیر کی وادی میں پھیلی ہوئی گہری دھند میں سے ابھرتے ہوۓ کچھ انسان دیکھے تھے جو عام انسانوں کی قدوقامت سے بڑے نظر آتے تھے اور وہ وہاں چیتوں کی طرح گھوم پھر رہے تھے- میں اپنی داستان وہیں سے شروع کرتا ہوں جہاں سے وہ مجھے پہلی بار نظر آۓ تھے ۔

 وہ حملہ آور تھے وہ تاریکی میں ٹھوٹی پھوٹی زمین اور اونچی نیچی کھیتوں میں بڑے اطمینان اور احیتاط سے دشمن کے قریب تر ہو کر اس پر جھپٹنے کے لیے بڑھے چلے جا رہے تھے ۔

 یہ 29 اکتوبر 1947 کی آدھی رات کا وقت تھا- وہ ریاست کشمیر میں بجلی کی رفتار سے داخل ہوۓ تھے- انھوں نے پانچ دنوں میں ایک سو پندرہ میل فاصلہ طے کیا تھا اور اب وہ سری نگر سے صرف چار میل دور رہ گۓ تھے جہاں سے انھیں سری نگر کی جھلمل کرتی روشنیاں نظر آ رہی تھیں ۔

 بارہ مولا تیس میل پیچھے رہ گیا تھا- تین روز پہلے بارہ مولا جا چکا تھا- وہاں چودہ ہزار میں سے تین ہزار افراد زندہ بچے تھے- مہاراجہ کشمیر سری نگر سے بھاگ گیا تھا- اس نے ہندوستان کو ان الفاظ میں ریاست کی تباہی کی تفصیل سنائی تھی ۔

 

قبائلی پٹھان

کشمیر میں کیوں گۓ تھے؟

اس سوال کا جواب یہی اور صرف یہی ہے کہ قبائلی پٹھانوں کو ریاست جموں و کشمیر کے مسلمانوں کے مسائل، مصائب اور غرائم کے ساتھ گہری دلچسپی تھی ۔

 چار ہی مہینے پہلے 15 اگست 1947ء کے روز برصغیر کو اس صورت میں آزادی ملی تھی کہ ملک تقسیم ہو گيا تھا اور دولت مشترکہ برطانیہ کی دو آزاد اور خود مختار مملکیتں معرض وجود میں آئی تھیں- برصغیر میں برطانوی حکومت کی حکمرانی تو اسی روز ختم ہو گئی تھی لیکن دونوں نئی حکومتیں ابھی اپنی اپنی مملکت پر پوری طرح عملداری رائج نہیں کر سکتی تھی کیونکہ چالیس کروڑ آبادی اور 1777438 مربع میل رقبے کے پرانے ہندوستان میں 568 ریاستیں تھیں جھنوں نے ابھی دونوں میں سے کسی ایک مملکت کے ساتھ الحاق نہیں کیا تھا ۔

 ان ریاستوں کو یہ حق دیا گیا تھا کہ اپنے آزادانہ فیصلے کے تحت کسی ایک مملکت کے ساتھ الحاق کر لیں- وہ چونکہ آزاد نہیں رہ سکتی تھیں- اسلیے توقع تھی کہ ملک کی تقسیم تک راجے، مہاراجے اور نواب الحاق کا فیصلہ کر لیں گے- بعض نے فیصلہ کر بھی لیا تھا باقی جو ریاستیں رہ گئی تھیں وہ جفرافیائی لحاظ سے ایک یا دوسری کے اس قدر قریب تھیں کہ متعلقہ مملکت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ محض رسمی حیثیت رکھتا تھا- ان میں سب سے زیادہ اہم ریاست جموں و کشمیر تھی جو دوسری بڑی ریاست تھی ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108