::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
School & Education > Nafseiyat Aur Taleemi Masail  
Book Detail
 
 
Nafseiyat Aur Taleemi Masail
نفسیات اور تعلیمی مسائل 
Author/Translator: Abdul Ahad Shah 
Price: $ 4.8
Format: Hard Cover, 104Pages, Weight: 275 gm
Product-Id: 1011701
Publisher: Book Home
Publish date: 2005
Productid:1011701  
Quantity:
 

 

تعلیمی نفسیات کو درس و تدریس میں بڑی اہمیت حاصل ہے- وہ ممالک جو تعلیم میں آگے بڑھ گۓ ہیں اس علم میں بڑی توجہ دے رہے ہیں اور نفسیاتی اصول کی بنا پر مختلف تعلیمی مسائل پر تحقیق کر رہے ہیں- یہ امر مسلمہ ہے کہ انسان کی جبتوں، قلبی میلانات اور رجحانات سے ہی ہر ایک کام کی تحریک ہوتی ہے اور یہ صحیح کام اسی صورت میں ظاہر ہو سکتے ہیں- جب یہ محرکات صحت مند ہوں- علم نفسیات حاصل کرنے سے ہی مدرس زیرتعلیم بچوں کے میلانات اور جذبات کو صحیح رخ دے سکتے ہیں اور جبتوں کی تصعید کر سکتے ہیں- اس سے بچوں کی زندگی صحیح سمت میں لگ جاتی ہے اور انکی سیرت بہتر طور پر تشکیل پاتی ہے ۔

 پرانے وقتوں میں نفسیات کی طرف خواہ توحہ دی جاتی تھی اور بچوں کی تعلیم و تربیت عام طور پر نفسیاتی اصولوں پر نہیں ہوتی تھی- آج کے زمانے میں جبکہ تعلیم ایک اجتماعی مسئلہ بن گیا ہے- علم نفسیات سے واقف ہونا نہ صرف تدریسی ضرورت ہے بلکہ ایک اہم سماجی تقاضا ہے- اب اس علم سے بے بہرہ رہنا نہ صرف درس و تدریس کو کامیابی سے بیگانہ رکھنے کے متراوف ہے- بلکہ اہم سماجی تقاضے کو پورا کرنے میں غفلت کرنے کے برابر ہے ۔

 

نفسیات اور تعلیم

ایک وقت تھا جب بچے کو مدرسے میں پڑھاتے وقت اس بات کا خیال نہیں رکھا جاتا تھا کہ اسکی ذہنی اور جسمانی استعداد کیا ہے- اسکو کون سے مضامین کس حد تک پڑھاۓ جائیں اور طریقہ تعلیم کیا ہونا چاہیے- اس وقت خیال کیا جاتا تھا کہ بچے کی کھوپڑی ایک خالی چیز ہے- جس میں ہم جو چاہیں اور جتنا چاہیں بھر سکتے ہیں- مدرس بچے کو بے تحاشا پڑھاتے جاتے تھے اور اپنی طرف سے مختلف اوقات میں مختلف مضامین کی معلومات اسکی کھوپڑی میں بھر دیتے تھے- بچے کی عمر، جسمانی قوت، ذہنی صلاحیت علم سے دلچسپی اور سیکھنے کی آمادگی وغیرہ امور کو نظرانداز کیا جاتا تھا- نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ بچہ بظاہر مدرس کا درس قبول تو کر لیتا تھا لیکن حقیقت میں مضمون سمجھنے سے قاصر رہتا تھا- مدرسین زمانہ قدیم سے اسی طریقہ پر پڑھاتے تھے- معلمی کے پیشے کو ہر شخص اختیار کر سکتا تھا- چنانچہ وہ لوگ جو کسی اور کام کے لائق نہ ہوتے- مدرس کا پیشہ اپناتے تھے- لڑائیوں میں ناکارہ ہوۓ سپاہی لولے اور لنگڑے لوگ جو اور کوئی کام کرنے کے قابل نہ ہوتے- بچوں کو پڑھانے کا پیشہ اختیار کرتے تھے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108