::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
School & Education > Education > Dehshat Gardi Ki Nafsiyat  
Book Detail
 
 
Dehshat Gardi Ki Nafsiyat
دہشت گردی کی نفسیات 
Author/Translator: Yasir Jawad 
Price: $ 8.91
Format: Hard Cover, 245Pages, Weight: 400 gm
Product-Id: 1011690
Publisher: Book Home
Publish date: 2005
Productid:1011690  
Quantity:
 

 

انتھونی سٹیونز کا نکتہ نظر مختصرا یوں بیان کیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔ انفرادی و اجتماعی سطح پر دہشت گردی اور مخاصمت پر مبنی رویہ ہماری لاکھوں سال پرانی حیاتیاتی تاریخ میں اپنی جڑیں رکھتا ہے- اسی رویے کی بدولت انسان اپنی بقا اور کرہ ارض پر حکم رانی کے قابل ہوا- انسانی مخاصمت ہماری تہذیب اور ہمارے سیارے کے وجود کو لاحق واحد سب سے بڑے خطرے کی نمائندگی کرتی ہے- اگر ماہرین نفسیات کو اس مسئلے کی صراحت کرنی ہے اور اس مہیب کائناتی الجھن کا حل تلاش کرنا ہے تو یہ کام ہمیں اپنی طبع کے ناموافق لکھنے والے ڈیٹا کے تجزیے سے انکار کرکے یا صرف اپنی پسندیدہ تھیوریز کو اپنا کر نہیں ہو سکتا ۔

 اس وقت ہماری تہذیب میں دہشت گردی کے رجحانات کو تقویت دینے کے لیے کیا کیا طریقے اختیار کیے گۓ ہیں؟ کیا فوجی اور کسی دہشت گرد تنظیم کے رکن کی تربیت اور طریقہ کار میں کوئی فرق ہے؟ وہ کیا چیز ہے جو دشمن کے ساتھ لڑتے ہوۓ فوجی یا جنگ جو کو اپنی جان قربان کر دینے پر مائل کرتی ہے؟ جنگ یا تشدد اور جارحیت ہماری کونسی خواہشات کو تسکین دیتی ہے؟ کیا امن کا قیام ممکن ہے؟ کیا امن ہماری ارتقائی دلچسپیوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کے قابل ہے؟ کیا جارحیت پسندانہ خواہشات کو دبانے، کچلنے یا محدود پابند کرنے کا کوئی طریقہ موجود ہے؟ انتھونی سٹیونز نے ایسے ہی متعدد بنیادی نوعیت کے سوالات پر بحث کی ہے ۔

 سماجی نکتہ نظر حامل افراد کو یقینا انتھونی سٹیونز کے اختیار کردہ تجزیاتی طریقہ کار پر کچھ اعتراضات ہو سکتے ہیں: مثلا یہ کہ اس نے سماجی اور معاشی تحریکات کو بالکل نظرانداز کر دیا کہ پہلی خلیجی جنگ صرف مغربی دنیا کی شیڈو پروجیکشن یا جارحانہ عزائم کی تکمیل کا ہی بہانہ نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے ٹھوس سماجی اور اقتصادی عوامل بھی کارفرما تھے: کہ انسان حیاتیاتی نہیں بلکہ منطقی اور معاشرتی حیوان ہے وغیرہ ۔

 

جنگ اور امن

جیریمی آئزاکس: کیا آپکو اب بھی عالمگیر نیوکلیئر تباہی کے بارے میں تشویش ہے؟ مارٹن ایمس نہیں- اب ہمارا سیارہ جنگ کرنے کے لیے محفوظ ہو گیا ہے ۔

 اگر میں نے 1989ء میں دیوار برلن گرنے سے قبل اپنے پڑھنے والوں کے درمیان راۓ شماری کروائی ہوتی کہ جنگ کے حوالے سے انکے رویے کیا ہیں تو ایک چیز پر کلی اتفاق راۓ سامنے آتا: وہ اسکی مخالفت کرتے- دو عالمی جنگوں اور جنگ ویتنام کی خوف ناک یادوں اور سرد جنگ کے دوران دہشت ناک نیوکلیئر تباہی کے خدشات کے ٹل جانے کا مطلب تھا کہ مرد اور عورتیں جنگ کو ایک زبردست تباہی قرار دینے لگیں اور اس سے بچاؤ کے لیے ہر ممکن اقدامات پر زور دیں- سودیت یونین کے خاتمے نے عالم گیر جنگ کا خطرہ دور کر دیا، لیکن بعد کے برسوں میں دنیا نے مختلف نسلی، قومی اور مذہبی برادریوں کے مابین بڑھتی ہوئی جارحانہ محاذ آرائی دیکھی ہے- اس چیز نے کچھ حد تک ہمیں مائل کیا ہے کہ اس قسم کے تنازعات کی روک تھام کے لیے حکومتوں کی جانب سے مسلح طاقت کے استعمال کو قبول کر لیں ۔ ۔ ۔ ایسی قبولیت جو 11 ستمبر 2001ء کے واقعہ کے باعث بہت زیادہ بڑھ گئی ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108