::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
School & Education > Education > Aap Chahain Tuh Ameer Ban Saktey Hain  
Book Detail
 
 
Aap Chahain Tuh Ameer Ban Saktey Hain
آپ چاہیں تو امیر بن سکتے ہیں 
Author/Translator: Iqbal Kardaar 
Price: $ 8.23
Format: Hard Cover, 232Pages, Weight: 400 gm
Product-Id: 1011689
Publisher: Book Home
Publish date: 2007
Productid:1011689  
Quantity:
 

 

میرین روڈی کوپ میئر 1908ء میں لیوس وائل کینٹکی (امریکہ) میں پیدا ہوۓ- میرین روڈی کوپ میئر کارپوریشن پریذیڈنٹ، مصنف، محقق، ماہر تعلیم اور محب انسانیت کی حیثيت سے پہچانے جاتے ہیں ۔

 انھوں نے ابتدائی تعلیم میری براؤننگ کی سرپرستی میں حاصل کی اور وسیع مطالعے کی مدد سے فلسفہ، مذہب، نفسیات، عمرانیات، بزنس مینجمنٹ، معاشیات، سرمایہ کاری، مارکیٹنگ، ایڈورٹائزنگ، پبلک ریلیشن، تحقیق، پبلشنگ، آڈیو ریکارڈنگ اور پروفیشنل سپیکنگ کے شعبوں میں امتیازی مقام حاصل کیے- انھوں نے یہ تمام علوم اپنی ذاتی کوشش سے حاصل کیے- اسے آپ اپنی مدد آپ بھی کہہ سکتے ہیں ۔

 انھوں نے عالم گیر شہرت کی حامل کتابیں لکھیں جن کا تعلق حصول تعلیم اور اپنی مدد آپ سے ہے- ان کتابوں میں اس بات پر زور دیا کہ آپ اپنی زندگی کو کس طرح بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں- ان کتابوں میں کامیابی اتنی آسان ہے جتنی کہ اے، بی ، سی- ہر کوئی اسطرح کامیاب ہو سکتا ہے- کامیابی کے آزمودہ طریقے، جو چار ضحنیم جلدوں پر مشتمل ہیں- جو آپ چاہتے ہیں اسے کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔ "خیالات کی طاقت"، "آپ چاہیں تو امیر بن سکتے ہیں" اور "کامیابی حاضر ہے" شامل ہیں- یہ سب ہی کتابیں دنیا کی مشہور زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں ۔

 

کامیابی، قابل مطالعہ موضوع

آئندہ سطور میں جو بات آپکو بتائی جا رہی ہے اسے پڑھ کر اور اس پر عمل کرکے آپ بہت جلد دولت مند بن سکتے ہیں ۔

 کامیابی کیا ہے؟ کامیابی ایک ایسا امتیازی موضوع ہے جو اپنی خصوصیات اور اہمیت کے اعتبار سے گہرے مطالعے کا متقاضی ہے ۔

 کامیابی بھی دوسرے شعبہ ہاۓ علوم کی طرح ہے جو آج کی زندگی میں نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں- ان میں ریاضی، طبیعات، علم الابدان، علم الحیات، کیمسٹری، جغرافیہ اور معاشیات وغیرہ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں- ہمارے سکولوں اور یونیورسٹیوں میں یہی علوم خصوصی طور پر پڑھاۓ جاتے ہیں- ہمیں مذکورہ علوم کے پڑھاۓ جانے پر نہ تو کوئی اعتراض ہے اور نہ کوئی اختلاف اور نہ ہی ہمیں انکی افادیت اور اہمیت سے انکار ہے ۔

 ہمیں صرف یہ اختلاف ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے وہ ہمارے نوجوانوں کو محض نظریاتی اعتبار سے آگاہ کرتا ہے، انھیں نصابی معلومات سے بہرہ ور کرتا ہے لیکن انھیں یہ نہیں سکھاتا کہ زندگی کیا ہے اور زندگی میں کامیابی کی کیا اہمیت ہے اور کامیابی کا حصول کس طرح ممکن ہے؟ اسکے علاوہ انھیں یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ جب تک زندگی کا کوئی نصب العین اور متعینہ مقصد نہ ہو اس وقت تک ہر علم بیکار بلکہ بیکار محض ہے، فضول ہے- نصابی نظریات اور معلومات کی اہمیت اپنی جگہ لیکن کامیاب زندگی کے تناظر میں یہی تعلیم قطعی بے ثمر اور بے مقصد ہے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108