::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Majeed Lahorie Fun aur Shakhseiyat  
Book Detail
 
 
Majeed Lahorie Fun aur Shakhseiyat
مجید لاہوری فن اور شخصیت 
Author/Translator: Shafee Akeel 
Price: $ 6.17
Format: Hard Cover, 311Pages, Weight: 450 gm
Product-Id: 1011681
Publisher: Fiction House
Publish date: 2000
Productid:1011681  
Quantity:
 

 

یہ کتاب نہ تو باقاعدہ سوانح نگاری ہے نہ باضابطہ تنقید ہے اور نہ ہی خالص تحقیق کے دائرے میں آتی ہے- سوانح نگاری میرا منصب نہیں، تنقید سے میں نے قصدا گریز کیا ہے اور خالص تحقیق کا یہ موضوع نہیں ہے- مگر اس میں سوانح نگاری بھی ہے، تنقید کا رنگ بھی ہے اور کہیں کہیں تحقیق کا رنگ بھی آ گيا ہے اور یہ ناگریز تھا- دراصل یہ چند یادیں ہیں جو میرے ذہن کے گوشوں میں برسوں سے محفوظ تھیں اور اب انھیں میں نے کاغذ پر منتقل کر دیا ہے تاکہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائیں- یہ یادیں تلخ بھی ہیں اور شیریں بھی ہیں- ان میں نرمی بھی ہے اور شدت بھی ہے- میں نے ان یادوں کو قلمبند کرتے ہوۓ وقت اس بات کا خاص طور پر خیال رکھا ہے کہ نہ تو انکی تلخی میں اضافہ ہو اور نہ ہی انکی شیرینی میں کمی آنے پاۓ- نہ انکی نرمی کا احساس کم ہو اور نہ انکی شدت دھیمی ہو- یہ ایک تصویر ہے، جو اپنے صحیح رنگوں اور اصلی خطوط کے ساتھ آپکے سامنے پیش کر دی گئی ہے- میں نے ان رنگوں اور خطوط میں مجید لاہوری کی وہ تصویر اجاگر کرنے کی پوری پوری کوشش کی ہے جو آج بھی میرے دل و ذہن پر مرتم ہے اور جسے وقت ابھی تک دھندلا نہیں سکا ۔

 اردو میں اس قسم کی کتابیں لکھی تو ضرور جاتی ہیں لیکن عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ ان میں کسی شخص کو فرشتہ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے- ایسی تعریف و توصیف کی جاتی ہے کہ وہ ہماری زمین اور دنیا کا آدمی ہی معلوم نہیں ہوتا اور یہ اسلیے ہوتا ہے کہ ہمارے ادب میں بت پرستی بہت زیادہ ہے- دوسرا یہ کہ مرنے والے کی صرف خوبیاں دیکھی جاتی ہیں بلکہ تلاش کی جاتی ہیں- میں نے یہ کتاب لکھتے وقت اس روش عام سے بچنے کی کوشش کی ہے ۔

 

اندھا وقت زندگی کو پاؤں تلے روند کر آگے بڑھ چکا ہے- واقعات ماضی کے دبیز پردوں میں منہ چھپا چکے ہیں اور حادثات کے نقوش دھیمے پڑتے جا رہے ہیں- لیکن آج بھی جب میں تنہائی میں بیٹھ کر سوچتا ہوں، جب بھی اکیلے میں گزرے ہوۓ واقعات کو ایک ایک کرکے دہراتا ہوں تو میرے تصور کی دنیا میں ہولے ہولے سوچ کے دئیے روشن ہو جاتے ہیں- دھیرے دھیرے تہہ در تہہ یادوں کے جزیرے ابھرنے لگتے ہیں- ذہن کے گوشوں میں سوۓ ہوۓ قہقہے اور آنسو آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگتے ہیں- پھر کہ قہقہے، یہ آنسو، مجسم صورت میں میرے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی چپکے سے میرے کان میں کہتا ہے

 شفیع! میں مر جاؤں گا ۔

 میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے ۔

 نہیں مجید صاحب! ابھی آپ نہیں مريں گے!

 میرے ہونٹ کپکپانے لگتے ہیں اور میری آنکھوں کے آگے آج سے برسوں پہلے کا وہ سماں گھوم جاتا ہے جب میں نے پہلی بار مجید لاہوری سے ملا تھا، جب میں نے پہلی بار اس قہقہے کو سنا تھا- ان دنوں انکے رسالہ نمکلدان کا دفتر میکلوڈ روڈ کے چوراہے کے پاس واقع ہے- اس سڑک کا نام ایلنڈر روڈ ہے اور یہاں ایک دو منزلہ عمارت تھی جو آج بھی ہے- اسکا نام اخبار منزل تھا- یہ دفتر گراؤنڈ فلور پر ایک بڑے کمرے میں تھا جو دو کمروں میں تقسیم کر دیا گیا تھا- اس سے پہلے ابتدائی دور میں یہاں روزنامہ جنگ کا دفتر ہوتا تھا جو یہاں سے بزنس روڈ منتقل ہو گیا تھا- چھوٹے کمرے میں دفتر کا ضروری سامان رکھا رہتا تھا اور جہاں کی ہر چیز انتہائی طور پر دفتری تھی- یہ کمرہ انکے شریک کار رشید بھٹی کا کمرہ تھا اور دوسرا بڑا کمرہ جو کمرہ کم اور ہال یادہ تھا، اس میں ایک معمولی سی میز اور دو کرسیاں پڑی رہتی تھیں جہاں ہر وقت عبوست اور نحوست کا احساس ہوتا تھا، یہ مجید کے بیٹھنے، لکھنے ، کھانے اور سونے کا کمرہ تھا ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108