::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Controversial > Afkar-e-Nayyab  
Book Detail
 
 
Afkar-e-Nayyab
افکار نایاب  
Author/Translator: Jamshaid Nayaab 
Price: $ 4.32
Format: Hard Cover, 141Pages, Weight: 300 gm
Product-Id: 1011675
Publisher: Fiction House
Publish date: 2003
Productid:1011675  
Quantity:
 

 

قارئین! سلام کے خلیفہ چہارم جناب علی رضی اللہ عنہ کے قیمتی اقوال میں سے ایک انمول قول یہ ہے کہ "یہ نہ دیکھو کہ بات کرنے والا کون ہے بلکہ یہ دیکھو کہ بات کیا ہے اور کیسی ہے-" اس عظیم انسان کے اس عظیم قول کے پیش نظر مصنف کی طرف سے آپکی خدمت میں پہلا عرض یہی ہے کہ آپ یہ مضامین پڑھتے وقت یہ نہ دیکھیں اور یہ نہ سوچیں کہ یہ مضامین کس نے لکھے ہیں بلکہ یہ دیکھے اور سوچے بغیر ان مضامین کو ٹھنڈے دل و دماغ سے غور اور غیر جانبداری سے پڑھیں اور پڑھنے کے بعد اپنے علم، عقل، تجربے، مشاہدے اور ضمیر کی روشنی میں اپنے آپ سے اس سوال کا جواب مانگیں کہ آپ اپنے لیے آزادی اور غلامی میں سے کیا چاہتے ہیں اور معاشی آسودگی اور مفلسی میں سے کیا چاہتے ہیں؟ اور اپنے آپکو اس سوال کا جواب دینے کے بعد یہ سوچیں کہ مصنف کا نکتہ نظر کیسا ہے؟ اور جیسا ہے ویسا کیوں ہے؟ اسکے بعد آپکو مصنف پر ہر قسم کی معقول و مدلل تنقید کرنے کا حق حاصل ہے اور عین ممکن ہے کہ آپکو مصنف کے نکتہ نظر کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اور مصنف سے معقول و مدلل اتفاق یا اختلاف کرنے کے لیے یہ مضامین ایک سے زیادہ مرتبہ پڑھنے پڑیں ۔

 قارئین! آپکی خدمت میں مصنف کی طرف سے دوسرا عرض یہ ہے کہ آپ مصنف کو پڑھتے وقت اس اہم حقیقت کو بھی مسلسل ذہن میں رکھیں کہ سماجی معاملات دو طرح کے ہوتے ہیں- سماجی معاملات کی ایک قسم ایسی ہے کہ ان معاملات پر ایک مخصوص عرصے کے اندر اندر راۓ نہ دی جا‌ۓ تو وہ مخصوص عرصہ گزر جانے کے بعد ان وقتی و عارضی اہمیت کے حامل معاملات پر کچھ لکھنا، بولنا اور پڑھنا، سننا بے کار، فضول اور بے سود ہو چکا ہوتا ہے ۔

 

نئی مشین کے پرانے پرزے

اگر ہم سماجی یعنی اجتماعی زندگی کے نظام کو ایک مشین قرار دے کر دیکھیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہر دور کی اپنی اپنی مشین تھی اور ہر مشین کے اپنے اپنے پرزے یا پارٹس تھے- مثلا ہم قدیم مصر اور موجودہ امریکہ کے نظام حیات کو دو مشینیں سمجھ کر دیکھیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں مشینیں اور ان مشینوں کے پرزے اور پارٹس ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں- مثلا فراعین مصر موروثی حکمران تھے جبکہ امریکی حکمران عوام کے ذریعے ایک مخصوص عرصے کے لیے منتخب کۓ جاتے ہیں- قدیم مصری نظام میں جو کردار مذہب اور مذہبی پیشوا یعنی پادری ادا کرتے تھے جدید امریکی نظام میں وہ کردار سائنس اور پروپیگنڈے کے ماہرین ادا کرتے ہیں- فراعین مصر جو کام گھوڑوں اور کانسی یا لوہے کے ہتھیاروں سے لیتے تھے، جدید امریکی حکمران وہ کام آواز سے تیز جہازوں اور جدید ترین اسلحے سے لیتے ہیں- فراعین مصر جو کام سلطنت کے مخصوص شہروں کی مخصوص جگہوں پر سرکاری اعلان کرنے والے چند ملازمین سے لیتے تھے جدید امریکی حکمران وہی کام ریڈیو اور ٹی وی اور اخبارات سے لیتے ہیں- ویسے بھی فراعین مصران تمام جدید علوم اور ذرائع سے محروم تھے جو کہ ریاست پر موثر طریقے سے حکمرانی کرنے کے لیے اور ملک کا انتظام چلانے کے لیے جدید امریکی حکمرانوں کو میسر ہیں- یہی کچھ ہم قدیم سلطنت بابل اور جدید چین اور روس کے بارے میں کہہ سکتے ہیں- یہی کچھ ہم جدید انگلستان اور قدیم چین کے بارے میں کہہ سکتے ہیں- یہی کچھ ہم قدیم ایران اور جدید فرانس کے بارے میں کہہ سکتے ہین- یہی کچھ ہم نازی جرمنی، فاشٹ اٹلی اور قدیم سلطنت اسیریا کے بارے میں کہہ سکتے ہیں ۔

bahoo.org
29254 12th PL S
Federal Way, WA 98003 USA
Ph: + 1 212-380-1673
Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 42 6650250