::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Nawaz Sharif Wazarat-e-Uzma Say Jila Watani Tak  
Book Detail
 
 
Nawaz Sharif Wazarat-e-Uzma Say Jila Watani Tak
نوازشریف وزارت عظمی سے جلاوطنی تک 
Author/Translator: Mem Sen Butt 
Price: $ 7.2
Format: Hard Cover, 136Pages, Weight: 280 gm
Product-Id: 1011662
Publisher: Book Home
Publish date: 2007
Productid:1011662  
Quantity:
 

 

ناظم الدین سے نوازشریف تک

پاکستان میں جمہوری نظام کی شکست و ریخت کا عمل اپریل 53ء میں اس وقت شروع ہوا جب پہلی بار ایک منتخب جمہوری وزیراعظم خواجہ ناظم الدین اور انکی مرکزی وزارت کو آمرانہ غیر جمہوری طریقے سے برطرف کیا گیا تھا اسکے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور آج تک پاکستان میں جمہوری نظام کو باقاعدہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع نہیں مل سکا بار بار مارشل لاء کے نفاذ نے جمہوری نظام کی جڑیں کھوکھلی کرکے رکھ دی ہیں یوں تو درمیانی عرصہ میں بھی کئی وزراۓ اعظم اور انکی حکومتوں کو جبری طور پر فارغ کیا گیا مگر سن 53ء میں خواجہ ناظم الدین اور انکی وزارت کی برطرفی اور چالیس سال بعد سن 93ء میں وزیراعظم میاں نوازشریف اور انکی حکومت معزولی میں گہری بلکہ حیرت انگیز مماثلث پائی جاتی ہے ۔

برطرف وزیراعظم خواجہ ناظم الدین اپنی وزارت کی برطرفی کے وقت پاکستان کی خالق سیاسی جماعت مسلم لیگ کے صدر بھی تھے معزول وزیراعظم میاں نوازشریف بھی اقتدار سے معزولی کے وقت مسلم کے عہدہ صدارت پر فائز تھے خواجہ ناظم الدین اپنے پیشر و نوابزادہ لیاقت علی خاں کی طرح وزیراعظم کے منصب پر فائز ہونے کے بعد مسلم لیگ کے صدر بناۓ گۓ تھے میاں نوازشریف بھی اپنے پیشر و محمد خاں جونیجو کی طرح وزیراعظم بننے کے بعد مسلم لیگ کے صدر منتخب کیے گۓ تھے برطرف وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کا تعلق پاکستان کے اس وقت کے سب سے بڑے صوبے بنگال سے تھا معزول وزیراعظم میاں نوازشریف کا تعلق بھی پاکستان کے موجودہ سب سے بڑے صوبے پنجاب سے ہے خواجہ ناظم الدین وزیراعظم بننے سے پہلے اپنے صوبے بنگال کے وزیراعلی رہ چکے تھے میاں نوازشریف بھی وزیراعظم بننے سے قبل اپنے صوبے پنجاب کے وزیراعلی رہے تھے ۔

 

آصف نواز کیس

سابق وفاقی وزير شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ جنرل آصف کیس کا ہوا کھڑا کرکے مسلم لیگ کی اعلی قیادت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ فیصل آباد سے مسلم لیگ کے رکن قومی اسمبلی چودھری شیر علی نے سمندری کے جلسے میں تقریر کرتے ہوۓ انکشاف کیا ہے کہ بے نظیر بھٹو کو جب بھی اقتدار میں آنا ہوتا ہے تو پہلے مسلح افواج کے سربراہ کی اچانک موت واقع ہو جاتی ہے بے نظیر کے پہلی بار اقتدار میں آنے سے قبل جنرل ضیاء الحق اپنے بہت سے عسکری رفقاء سمیت طیارے کے حادثے میں ہلاک ہو گۓ تھے اور اب دوسری بار اقتدار میں آنے سے پہلے جنرل آصف نواز کی اچانک موت واقع ہو گئی ۔

غور طلب بات ہے کہ جنرل ضیاء الحق اور انکے بہت سے ساتھی جرنیلوں اور افسروں کو سازش کے ذریعے طیارے کے حادثے میں ہلاک کر دیا گیا تھا انکا تو نام ہی نہیں لیا جا رہا اور جنرل آصف نواز کی موت کو کہ جسے پاک فوج کے ڈاکٹروں کا اعلی سطح کا میڈیکل بورڈ طبعی موت قرار دے چکا ہے- اپنے خاص مقاصد کے لیے غیر ملکی اشارے پر "بوقت ضرورت" اچھالا جانے لگتا ہے اور پاک فوج کے ڈاکٹروں کے بجاۓ اگر غیر ملکی لیبارٹریز کے ماہرین ہی سچے ہیں تو پھر جنرل آصف نواز کی غیر طبعی موت کے ذمہ دار وہ کیوں نہیں ہو سکتے جو آئینی طور پر مسلح افواج کے سپریم کمانڈر سمجھے جاتے تھے اور جنھوں نے جنرل آصف نواز کی موت کے بعد نۓ سربراہ کے لیے اپنے آئینی اختیارات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوۓ کئی سینئرز کو نظرانداز کرکے ایک جونیر ماتحت کا انتخاب کیا تھا ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108