::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Wakeyat Khulafa e Rashideen  
Book Detail
 
 
Wakeyat Khulafa e Rashideen
واقعات خلفاۓ راشدین رضی اللہ عنہ  
Author/Translator: Saif Ullah Khalid 
Price: $ 6.64
Format: Hard Cover, 496Pages, Weight: 650 gm
Product-Id: 1011568
Publisher: Mushtaq Book Corner
Publish date: 2007
Productid:1011568  
Quantity:
 

 

امابعد!

       ہر قوم کی ذلت و تنزلی کی بنیادی وجہ محض اپنے مذہب، بانی مذہب اور اپنے اسلاف کی سنہری روایات تاریخ کو فراموش کر دینا ہے اور یہ ایک ناقابل زوال حقیقت ہے کہ جو قوم بھی اپنی خواہشات کو سامنے رکھتے ہوۓ اور اسے تعمیر کرنے والی مایہ ناز شخصیات کو پس پشت ڈال کر بھلا دیتی ہے اسکے جذبات، تصورات، خیالات، امنگیں، ولولے اور حوصلے سرد پڑ کر سلب ہو جاتے ہیں جو درحقیقت قوموں کی حیات و تحریک کا سبب اور نشوونما کا ذریعہ بنتے ہیں اور اسکے ساتھ ہی اس قوم کا نام صفحہ ہستی سے مٹتا چلا جاتا ہے حتی کہ وہ پوری قوم غلامی کے طوق میں جکڑی جاتی ہے ۔

 ملت کی نوجوان نسل کی روحانی و جسمانی تعلیم و تربیت کے لیے ہر دور میں ایسے گرانقدر مواد کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس کی گئی ہے جس کے مطالعہ سے نوجوانوں کے اندر اسلامی روح پیدا ہو اور انکا خوابیدہ شعور جاگ اٹھے اور انھیں اپنی اس بے پناہ قوت تسخیر کا اندازہ و احساس دلاۓ جو قدرت نے انکے اندر ودیعت رکھا ہے ۔

 

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ننھا بت شکن

ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر چار برس کی تھی کہ ایک دن آپکے والد ابوقحافہ آپکو اپنے ساتھ بت خانہ لے گۓ اور وہاں پر نصب ایک بڑے بت کی طرف اشارہ کرکے کہا یہ ہے ہمارا خدا اسکو سجدہ کرو ۔

 ننھے ابوبکر نے بت کو مخاطب بنا کر کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلاؤ، میں ننگا ہوں مجھے کپڑے دو، میں پتھر مارتا ہوں اگر خدا ہے تو اپنے آپکو بچا لے، وہ بت بھلا کیا جواب دیتا حضرت ابوبکر نے اسکو ایک پتھر اس زور سے مارا کہ وہ منہ کے بل گر پڑا ۔

 ابوقحافہ یہ دیکھ کر غضبناک ہو گۓ انھوں نے ننھے ابوبکر کے رخسار پر تھپڑ مارا اور وہاں سے انکو گھسیٹتے ہوۓ ام الخیر کے پاس لاۓ، انھوں نے ننھے ابوبکر کو گلے سے لگا لیا اور ابوقحافہ سے کہا میرے بچے کو اسکے حال پر چھوڑ دو جب یہ پیدا ہوا تھا تو مجھے اسکے بارے میں غیب سے آواز آئی تھی کہ یہ ہمارا صدیق ہے اسکا خیال رکھنا ۔

 بیان کیا جاتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد کسی نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بت پرستی وغیرہ پر مجبور نہ کیا اور نہ کسی شرک سے انکا دامن آلودہ ہوا ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108