::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Sofi-ism > Sharah Jameya Qanoon e Ishq  
Book Detail
 
 
Sharah Jameya Qanoon e Ishq
جامع شرح قانون عشق  
Author/Translator: Abul Kashif Qadri 
Price: $ 7.91
Format: Hard Cover, 760Pages, Weight: 875 gm
Product-Id: 1011564
Publisher: Mushtaq Book Corner
Publish date: 2007
Productid:1011564  
Quantity:
 

 

عشق یا محبت کیا ہے؟

لفظ محبت ماخوذ ہے لفظ حبہ سے، حا کی زیر کے ساتھ جس کا مطلب ہے وہ تخم جو زمین میں ڈالا جاتا ہے- پس حبہ کی حب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔

 حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی اس تشریح کے منظر میں دیکھا جاۓ تو معلوم ہوتا ہے کہ

 جس طرح تخم زمین میں ڈالا جاتا ہے اور پھر اس پر بارش ہوتی ہے اور آفتاب کی روشنی اور موسم کی سردی اور گرمی سے اس تخم میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اور اسی طرح محبت دل کے اندر جگہ پکڑتی ہے اور رنج و راحت اور بلا مصیبت سے اثر پذیر نہیں ہوتی اور بالاآخر برگ و بار لاتی ہے ۔

 اسی بنا پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حق باری تعالی نے اپنی دوستی کی خلعت عطا فرمائی تو آپ علیہ السلام ساری کائنات سے علیحدہ ہو کر حق تعالی کے ساتھ پیوست ہو گۓ کیونکہ کائنات آپ علیہ السلام کے لیے حجاب تھی اور اسی بنا پر آپ علیہ السلام پکار اٹھے ۔

 "میرے لیے حق تعالی کے سوا سب کچھ دشمن ہے" ۔

 اس بات کی وضاحت حضرت شبلی رحمتہ اللہ علیہ اس طرح فرماتے ہیں کہ

 "محبت کو محبت اسلیے کہا جاتا ہے کہ وہ دل سے محبوب کے سوا ہر شے کو مٹا دیتی ہے" ۔

 

راہ عشق میں مرشد کی ضرورت کیوں ؟

جب کوئی انسان راہ عشق میں قدم رکھتا ہے تو بظاہر یہ راہ بہت آسان نظر آتی ہے لیکن جب اس راہ پر چلنا شروع کرتا ہے تو پھر اس راہ کی کٹھنائیوں، مشکل گھاٹیوں، نشیب و فراز جیسے مراحل سے اسے واسطہ پڑتا ہے کبھی بلندی، کبھی پستی، کبھی توقف، کبھی تعطل، کبھی ترقی اور کبھی تنزل کا شعور، کبھی مستی کبھی بیزاری، کبھی شدید ثابت قدمی اور کبھی قدموں سے شدید لغزش، کبھی صبر و تحمل اور کبھی بے صبری غرضیکہ اسے لاتعداد کیفیات و مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور جب تیزی و مستی دونوں اقسام میں اس انسان کی حالت گومگو جیسی ہو جاتی ہے تو ایسے میں اسے کسی ہمدرد دوست کی ضرورت پیش آتی ہے جو اسکو گرنے سے بچا سکے اور ان نشیب و فراز سے گزار سکے اور یہ ہمدرد دوست ماسواۓ‌ مرشد کے کوئی اور نہیں ہوتا اور اسکے بغیر یہ تمام مقامات طے نہيں ہو پاتے ۔

 اس بارے میں سچل سرمست رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔

مہڈی شاہ مربی میڈا رہبر راہ دسنیدا

حق محقق مستی مئے دی بے شک اور رنجیدا

میرا مرشد ہی میرا مہربان رہبر ہے جس نے مجھے رہ حق بتائی ہے اور اس راہ پر چلنے کے لیے مستی سے سرشار فرمایا ہے- بے شک وہی میرا کارساز ہے ۔

 قرآن پاک میں ارشاد بانی ہوتا ہے کہ "صادق الحال لوگوں کی صحبت اختیار کرو"

 "جس بات کو تم نہیں جانتے اہل ذکر سے دریافت کرو" ۔

 نیز اللہ تک پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108