::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Ghazwat e Nabwi(PBUH) Kay Iktasadi Pehloo  
Book Detail
 
 
Ghazwat e Nabwi(PBUH) Kay Iktasadi Pehloo
غزوات نبوی کے اقتصادی پہلو  
Author/Translator: Muhammad Yaseen 
Price: $ 5.16
Format: Hard Cover, 224Pages, Weight: 350 gm
Product-Id: 1011555
Publisher: Mushtaq Book Corner
Publish date: 2007
Productid:1011555  
Quantity:
 

 

یہ توفیق الہی تھی کہ دعاۓ پدری، اساتذہ کرام کی فیض رسانی تھی کہ خاکسار راقم کی ازلی خوش بختی شاید سب کچھ اور ان پر مستزاد بیکراں انعام ربانی کہ اس حقیر و بے مایہ کو سیرت نبوی کے مطالعہ اور تحقیق کی سعادت ارزانی ہوئی- مجھے احساس بلکہ شعور ہے کہ صاحب سیرت مقدسہ علی صاجہا الصلوتہ و السلام کے مقام عالی اور احسانات بے پناہ میں سے کسی کا بھی ادنی حق تک ادا نہ ہو سکا تاہم یہ افتخار بھی دل کے کسی کونے میں جاگزیں ہے کہ اپنی بساط بھر فن سیرت کی خدمت کر سکا- صحیح تو یہ ہے کہ یہ خدمت بھی انھیں کا فیض و فیضان ہے- مفتخر ہوں کہ انکی نگاہ کرم اس عاصی کی فکر و نظر اور تحریر و نگارش پر پڑی ۔

 سیرت نبوی کے مطالعہ، تدریس اور تحقیق کے دوران غزوات و سرایاۓ نبوی سے حاصل ہونے والے اموال غنیمت اور نبوی معیشت میں انکے کردار و کار فرمائی سے ان گنت سوالات ذہن میں پیدا ہوۓ- سیرت نگاروں بالخصوص مستشرقین کے مباحث و مطالعات نے انکے جوابات تلاش کرنے پر اکسایا- توفیق الہی نے بتدریج اور مرحلہ وار موجودہ مطالعہ کی راہ سجھائی اور کئی کوششوں کے بعد اسکی حالیہ صورت گری ہوئی- کہ بھی طالب علمانہ کاوش ہے کہ ان سے متعلق ہر شے بشری بساط اور انسانی استطاعت سے ماوراء ہے ۔

 

غزوات و سرایا کا جائزہ

تعداد

       رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے غزوات و سرایا کی تعداد پر کافی اختلاف ہے- ابن اسحاق و ابن ہشام نے غزوات کی تعداد ستائیس اور سرایا کہ تعداد اڑتیس بیان کی ہے- غزوات کی یہی تعداد موسی بن عقبہ، واقدی، ابن سعد، ابن جوزی، دمیاطی اور عراقی وغیرہ متعدد اہل مغازی سے منقول ہے جبکہ سرایا کی تعداد میں انکا اختلاف ہے- ابن عبدالبر نے پینتیس، ابن اسحاق نے اڑتیس، واقدی ابن سعد نے اڑتالیس اور سب سے زیادہ ابن جوزی نے چھپن بیان کی ہے- کل تعداد ابن اسحاق و ابن ہشام کے ہاں پینسٹھ، واقدی اور ابن سعد کے نزدیک پچھترا اور ابن جوزی کے ہاں ستاسی بنتی ہے- محدثین کرام کے ہاں انکی تعداد کافی مختلف ہے اور اس میں حصر نہیں ملتا یعنی کل تعداد کی تکمیل کا خیال نہیں پایا جاتا ۔

 جدید دور کے مورخین نے خاص کر مستشرقین نے غزوات و سرایا کی مجموعی تعداد نوے تک پہنچا دی ہے انکا اور بعض دوسرے قدیم مولفین سیرت کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد کا پتہ لگایا جاۓ- دونوں میں البتہ مقصد کا فرق ہے- قدیم مسلم سیرت نگاروں کا مقصد یہ تھا کہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو زيادہ سے زیادہ جامع بنایا جاۓ جبکہ مستشرقین اور بیشتر جدید مورخین کا مطمح نظریہ ہے کہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اسلام کی تاریخ کو زیادہ سے زیادہ جنگ و جدال کا مرقع ثابت کیا جاۓ ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108