::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Sharah Abiyat e Bahoo  
Book Detail
 
 
Sharah Abiyat e Bahoo
شرح ابیات باہو  
Author/Translator: Abul Kashif Qadri 
Price: $ 5.94
Format: Hard Cover, 559Pages, Weight: 700 gm
Product-Id: 1011553
Publisher: Mushtaq Book Corner
Publish date: 2007
Productid:1011553  
Quantity:
 

 

پنجابی شاعری جس نے تصوف کے میدان میں دسویں صدی ہجری میں شاہ حسین رحمتہ اللہ تعالی علیہ سے اپنا سفر شروع کیا گیارھویں صدی ہجری میں اسے حضرت سلطان باہو رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے پروان چڑھایا اور اس میں فارسی شاعروں کی قائم کردہ تصوف کی رمزوں پر مشتمل پنجابی ادب کے علم کو آنے والی نسلوں کی ہدایت کے لیے سادگی، سچائی، دلی خلوص، وارادات قلبی و روحانی، مقامات، مراتب اصفیاء کی تشریح و توضیح، مرشد کامل کی اتباع، دنیا کی بے ثباتی وغیرہ جیسے موضوعات کو انتہائی اختصار اور پرازمعانی کے ساتھ پیش کیا اور اس طرح اسے ازدل خیزو بردل ریزد کا مظہر بنا دیا ۔

 آپ نے تبلیغ و تلقین دین اور ترویج تصوف کے لیے اپنی عمر عزیز کو وقف کیا اور بے شمار تفسیری اور اجتہادی حوالوں سے کام لیا اور اپنے لیے دینی، علمی، ادبی اور عقیدت و احترام کے ساتھ ہر دلعزیزی کا مقام بھی پایا آپ نے اس سلسلہ میں بیسیوں کتب لکھیں اور آپکی تصانیف کا برسوں سے زمانہ معترف چلا آ رہا ہے اور آپکی تعلیمات سے فیض یاب ہو رہا ہے ۔

 

الف اللہ چنبے دی بوٹی

الف اللہ چنبے دی بوٹی مرشد من وچ لائی ہو

نفی اثبات دا پانی ملیس ہر رگے ہرجائی ہو

اندر بوٹی مشک مچایا جاں پھلاں تے آئی ہو

جیوے مرشد کامل باہو جیں ایہ بوٹی لائی ہو

 

اللہ وہ ذات کل کائنات و خلق جس نے اس دنیاۓ رنگ و بو کو بنایا اور سنوارا ہے اور جر ہر عاشق کا مقصود اولین ہے اسکی ہدایت و توفیق سے مسلمان اپنا تن من دھن سب کچھ سنوارتا ہے اور بندہ مومن بن جاتا ہے ہدایت و توفیق کی جوت من میں خود بخود نہیں ابھرتی بلکہ اسکو انسان کے من میں بعین اسی طرح لگانا پڑتا ہے جس طرح کسان کھیتی میں اناج کے ایک دانہ کو مٹی میں ملا کر اس سے پنیری حاصل کرتا ہے اور پھر اس پنیری کو زمین میں مناسب جگہوں پر جسے زمین کا دل کہا جاتا ہے لگاتا ہے اور اسکی نگہداشت کرتا ہے- بعینہ اللہ تعالی سے عشق کی لگن اور جوت کا بیج مرشد انسان کے دل میں مانند پنیری لگا کر اسکی پرواخت کرتا ہے جس طرح کسان کھیت کو پانی دیتا ہے اور اس میں سے گندگی کو دور کرکے اسکے پھلنے اور پھولنے کی راہ ہموار کرتا ہے اسی طرح نفی اور اثبات کا سبق دے کر دل کے اندر لگے ہوۓ عشق کے پودے کو پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور یہی بات اولین شعر میں حضرت سلطان باہو نے واضح کی ہے پھر آگے چل کر فرماتے ہیں کہ جب اس دل کے اندر اللہ تعالی کی جوت کو میرے مرشد نے میرے من میں لگا کر نفی اثبات کے پانی سے اسکی آبیاری کی تویہ جوت مانند چنبے کی بوٹی کے اپنے وقت پر پھل پھول کر پودا بن گئی اور اس پر پھول اگ آۓ یعنی وہ اپنے عروج پر پہنچ گئی ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108