::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Hinduism > Mahabharat  
Book Detail
 
 
Mahabharat
مہابھارت  
Author/Translator: Takhar Sukh Ram Das 
Price: $ 8.94
Format: Hard Cover, 264Pages, Weight: 425 gm
Product-Id: 1011496
Publisher: Book Home
Publish date: 2007
Productid:1011496  
Quantity:
 

 

اے بھارت ورش کے نونہالو! اے آریا قوم کے دلدادہ نوجوانو! ذرا آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ یہ تمہارے اس متبرک زمانے کی یادگار ہے جبکہ تمہاری اقبال مندی کا ستارہ پوری بلندی پر پہنچ کر چمک رہا تھا- علم و ہنر کا جھنڈا گھر گھر لہراتا ہوا نظر آتا تھا ممالک غیر بھی تمہاری صنعت و حرفت کے چشمہ سے فیض یاب ہو کر زیر احسان رہتے تھے اور آریہ ورت کی شان و شوکت اور عظمت کو دیکھ کر غیر قومیں اسکی پناہ میں آنا فخر سمجھتی تھیں- مہابھارت کا مطالعہ صرف راستبازی کے جنگ و جدل کا نقشہ ہی نہیں دکھاتا- یہ شیر دل راجپوتوں کی سپاہ گری، دلاوری، فن حرب کے کمال اور انکے لازوال استقلال پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ زمانہ کے تغیرات، چرغ کہن کی دست درازیاں، حسرتوں کے پردرد جگر ہلا دینے والی نظارے بھی آنکھوں کے سامنے لاتا ہے- تکمیل انسانیت و تہذیب و اخلاق میں جو امور درکار ہیں سب اس میں موجود ہیں- روح کی تازگی اور دل کی پاکیزگی کے لیے جو باتیں مطلوب ہیں سب اس میں پائی جاتی ہیں- بھیشم پتامہ کے بیش قیمت اور بے لوث نصائح سری کرشن جی کے مئوثر گیان کے الفاظ متلاشیان حق کے روم روم میں سرائیت کر جانے والے ہیں- معرفت کا گیان معبود حقیقی کی پہچان اور ریاضت کے سامان اس میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہیں- داس کی بساط ہی کیا ہے جو اسکی تعریف میں قلم اٹھاۓ- آریہ ورت کا بچہ بچہ اسکی خوبیوں سے باخبر ہے- امید ہے کہ جو صاحب اس ناچیز تصنیف کو ایک نظر دیکھ لے گا وہ ضرور مصنف کی محنت کی داد دے گا ۔

 ممکن ہے کہ جوہر کی نہ ہو قدر کہیں       پر قدر کہیں بغیر جوہر کی نہیں

عنبر کو نہ لیں مفت یہ امکاں ہے مگر        عنبر کی جگہ نہ لے گا کوئی سرگیں

 

مصنوعی جنگ

اگر ہم بکرمی سمت سے تقریبا 2427ء سال قبل کے زمانہ کو دل میں لا کر اپنے خیال کو اس وسیع میدان میں جو شہر دہلی سے پچاس کوس کے فاصلے پر جانب شمال و مغرب اور ہستناپور سے چار پانچ کوس کی دوری پر واقع تھالے جائیں تو ہم کو آریہ ورت کے فخر کا زمانہ دکھائی دے گا- زمانہ بھی کون سا جبکہ ہندوستان کی اقبال مندی کا ستارہ پورے اوج پر پہنچ کر چمک رہا تھا اور اسکے علم و ہنر کا چرچا ہر ملک و دیار میں پھیل رہا تھا- اس وقت مہاراجہ بھرت کی نسل سے راجہ دھرت راشڑ اپنے بھائی پانڈ کی وفات کے بعد فرائض منصبی کو مدنظر رکھتا ہوا اس بات پر متوجہ ہوا کہ اپنے فرزندوں اور بھتیجوں کے علم و ہنر اور فن سپاہ گری کا جس کو وہ ایک عرصہ سے لائق اتالیق درونہ چارج سے حاصل کرتے رہے تھے امتحان لے اور اسکے نیک نتائج سے اپنے دل کو خوش کرے- میدان مذکور کے عین شمال میں چند بلند عالیشان نئی عمارتیں نظر آ رہی ہیں- جو غالبا اسی روز کے لیے تعمیر کی گئی تھیں اور جن کے سب سے بلند محل کے شاہ نشین پر چندر بنسی خاندان کے فخر بیاس، بھیشم پتامہ، دھرت راشڑ- بدرجی وارکان سلطنت بیٹھے ہیں اور ساتھ ہی کی بارہ دری میں رانی کنتی، گاندھاری وغیرہ، جن کے ساتھ بہت سی استریاں نفیس لباس زیب تن کیے بیٹھی ہوئی نظر آتی ہیں- تماشبین کژت سے دکھائی دیتے ہیں اور وہ دور تک حلقہ باندھے ہوۓ کچھ اسطرح چلے گۓ ہیں کہ انکو وسیع میدان کی چار دیواری کہیں تو مبالغہ نہ ہو گا جہاں تک نگاہ کام دیتی ہے لوگ صف بصف کھڑے نظر آتے ہیں ممکن نہیں کہ اس چاردیواری میں سے نظر بھی گزر سکے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108