::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Shan-e-Khitabat  
Book Detail
 
 
Shan-e-Khitabat
شان خطابت  
Author/Translator: Abid Askari 
Price: $ 5.71
Format: Hard Cover, 378Pages, Weight: 465 gm
Product-Id: 1011492
Publisher: Hassan Publications
Publish date: 2007
Productid:1011492  
Quantity:
 

 

جہاں تک میرے خطیب ہونے کا تعلق ہے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ زمیندار کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ ایک دن خطیب بن جاۓ گا مگر قدرت کو یہی منظور تھا اور ایسا ہو گیا- 23 دسمبر 1930ء کو بغرض علاج یوپی سے لاہور پہنچا- حکیم مصطفی حسن سے ملاقات ہوئی- حکیم صاحب مجھے اپنے ساتھ نواب پیلس لے گۓ وہاں میں نے مجلس عزا کا ایک اشتہار پڑھا- امام بارگاہ خواجگان کی طرف سے شائع کیا گیا تھا- مجلس سننے کا اشتیاق پیدا ہوا چنانچہ تھوڑی دیر بعد مجلس سننے کے لیے امام بارگاہ خواجگان پہنچا- سردی جوبن پر تھی ایک گرم کمبل اوڑھ رکھا تھا- دوران مجلس میں نے سیکرٹری انجمن نذیر جعفری صاحب سے کہا کہ اگر آپ مناسب سمجھیں تو پڑھنے کے لیے تھوڑا سا وقت مجھے بھی دیجيے گا ۔

چنانچہ انھوں نے مجھے پانچ منٹ دے دیۓ- میں اٹھ کر سٹیج پر پہنچا چونکہ جلسہ کا موضوع ہی معراج تھا- اسلیے معراج پر ہی ایک چھوٹی سی مجلس پڑھی دی جو میری زندگی کی پہلی تقریر تھی- سامعین نے بہت پسند کیا اور اصرار کیا کہ پانچ منٹ اور پڑھیے لہذا سیکرٹری صاحب نے مجھے پانچ منٹ اور دے دیۓ- بہرنوع مجلس پڑھنے کے بعد خواجگان نے میرا بستر امام باڑہ ہی میں بچھا دیا اور میں سو گیا- اگلے دن پھر مجلس کا اعلان ہوا ۔

 

ذکر خدا اور ذکر حسین علیہ السلام

اللہ کا فرمان ہے- اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! میرے ان بندوں سے کہہ دو، ان تک یہ پیغام میرا پہنچا دو- کہ اگر تمہیں خدا سے پیار ہے، اگر تمہیں خدا سے محبت ہے ماشاء اللہ! مجمح تو کافی ہے اتنے بڑے مجمع سے میں پوچھ رہا ہوں- آپکو خدا سے محبت ہے- کیوں بھئی! خدا سے محبت ہے؟ ۔

 بات یہ ہے حضور! مجھے پتہ ہے کہ آپ اس محبت کے جواب میں ہچکچا کیوں گۓ- آپ نے ہاں کیوں نہیں کیا ایک دم- اسلیے شاید آپ نے ہاں نہیں کہا کہ ساری عمر گذر گئی آپکی اور میری بھی- علماۓ کرام کی زبانی یہ سنتے ہوۓ کہ اے ایماندار- اللہ سے ڈرو- اور اتنا ڈرایا ہے اللہ سے ہمیں ان اللہ والوں نے کہ محبت میں ہاں کہتے ہوۓ بھی ڈرتے ہیں جو آدمی اٹھتا ہے یہی کہتا ہے اللہ سے ڈرو- کیوں اللہ کے بندوں کو اللہ سے ڈراتے ہو مگر ہر ایک یہی کہہ رہا ہے- اللہ سے ڈرو- اور اتنا ڈرایا ہے اللہ سے ہمیں ان اللہ والوں نے کہ بوڑھوں کا تو میں کچھ کہتا نہیں- آج کی جوان پود اتنی ڈر گئی ہے کہ جہاں کہیں اللہ کا نام ہو وہاں نہیں جاتے- جہاں اللہ کا ذکر ہو- وہاں نہیں جاتے اگر جا رہے ہوں اور سامنے مسجد آ جاۓ تو فورا راستہ کاٹ کے گذریں گے- ڈر کے مارے کہ مولوی صاحب جو کہتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108