::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Zero Point 4  
Book Detail
 
 
Zero Point 4
زیرو پوائنٹ 4  
Author/Translator: Javaid Choudhry 
Price: $ 8.57
Format: Hard Cover, 416Pages, Weight: 575 gm
Product-Id: 1011436
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2007
Productid:1011436  
Quantity:
 

 

کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے

(میری داستان، تھوڑی تھوڑی)

میری عمر اس وقت تین سال تھی میرے والدین گاؤں سے تازہ تازہ کھاریاں آۓ تھے، کھاریاں میں نئی نئی چھاؤنی بنی تھی شہر میں سوئی گیس نہیں تھی چنانچہ میرے والد نے کوئلے کا کام شروع کر دیا، وہ صوبہ سرحد، پنجاب اور بلوچستان سے کوئلہ منگواتے تھے اور یہ کوئلہ چھاؤنی کو سپلائی کر دیتے تھے اس کاروبار سے انھوں نے لاکھوں روپے کماۓ ہم لوگ کھاریاں میں گلیانہ روڈ پر رہتے تھے یہ دو کمرے کا ایک درمیانے درجے کا مکان تھا جس کا صحن بہت بڑا تھا اور مکان میں ایک چھوٹا سا کنواں بھی تھا، اس دور کی دو یادیں ابھی تک میرے ذہن سے چپکی ہوئی ہیں مجھے ان دونوں واقعات کی تمام جزئیات آج تک یاد ہیں یہ سردیوں کا زمانہ تھا ہم ایک صبح اٹھے تو ہمارے دروازے کے سامنے کوئی فقیر لیٹا تھا اس نے بدبودار رضائی اوڑھ رکھی تھی میرے والد کو بڑا غصہ آیا اور وہ اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا میری والدہ نرم دل خاتون ہیں وہ نماز اور روزے کی انتہائی پابند ہیں انھوں نے فوری طور پر مداخلت کی اور فقیر کی جان بخشی کرا دی وہ فقیر بعدازاں مستقل طور پر ہمارے گھر کے سامنے اقامت پذیر ہو گیا ہمارے گھر کے آگے ایک بڑھئی کی دکان تھی وہ بڑھئی رات کو دکان بند کرتا تھا تو فقیر دکان کے تھڑے پر ڈیرہ ڈال لیتا تھا اور صبح کے وقت تھڑے سے اتر کر ذرا دور چٹائی بچھاتا تھا اور رضائی اوڑھ کر وہاں بیٹھ جاتا تھا، فقیر کے کھانے پینے اور چاۓ کا بندوبست میری ماں نے اپنے ذمے لے لیا تھا اور انھوں نے مجھے فقیر کا ویٹر بنا دیا تھا میری ماں دن میں تین مرتبہ ٹرے میں سالن روٹیاں اور پانی کا پیالہ رکھتی اور میں مشکل سے یہ ٹرے اٹھا کر فقیر کے پاس پہنچتا، فقیر مجھے جوں ہی گھر کی دہلیز سے باہر نکلتے دیکھتا تو وہ ٹرے تھام لیتا اور مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیتا مجھے اسکی چٹائی اسکے کپڑوں اور اسکی رضائی سے شدید بدبو آتی تھی لیکن پتہ نہیں کیوں میں  اسکے باوجود اسکے پاس بیٹھ جاتا تھا میری ماں نے اسکا نام باباجی رکھ دیا تھا ۔

 

برکت

خان عبدالصمد خان صاحب سے میرا رابطہ اچانک شروع ہوا اور اچانک ختم ہو گیا آج سے چار پانچ برس پہلے کسی صاحب نے مجھے فیصل آباد سے فون کیا انکا کہنا تھا، ہمارے باباجی آپکے بہت بڑے فین ہیں ہم انھیں آپکا کالم پڑھ کر سناتے ہیں تو وہ دیر تک سر ہلاتے رہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا آپکے باباجی کون ہیں انھوں نے بڑی عقیدت سے جواب دیا فیصل آباد جھنگ روڈ پر صوفی برکت صاحب کا ڈیرہ ہے خان صاحب انکے ڈیرے پر ہوتے ہیں انکی عمر نوے سال سے زائد ہے وہ مشرقی پنجاب کے کسی زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے بچپن میں روحانیت کی طرف مائل ہو گۓ اور گھر بار چھوڑ کر اللہ کی راہ پر نکل آۓ طبیعت میں مجذوبیت ہے لیکن جب نارمل ہوتے ہیں تو بہت خوبصورت گفتگو کرتے ہیں مجھے انکی گفتگو میں ذرا سی دلچسپی محسوس ہوئی لیکن میں باباجی سے زیادہ متاثر نہ ہو سکا چند دنوں بعد انکا دوبارہ فون آ گیا اس بار انھوں نے فرمایا ہم نے آپکی کتاب خرید لی ہے جس دن آپکا کالم نہیں آتا ہم نے آپکی کتاب میں سے کوئی کالم نکال کر باباجی کو سنا دیتے ہیں وہ آپکے لیے بہت دعائیں کرتے ہیں میں نے انکا شکریہ ادا کیا اور بھول گیا چند دن بعد انکا ایک اور فون آیا اور انھوں نے فرمایا لیجۓ باباجی سے بات کیجۓ ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108