::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Social Science > Zero Point 3  
Book Detail
 
 
Zero Point 3
زیرو پوائنٹ 3  
Author/Translator: Javaid Choudhry 
Price: $ 8.57
Format: Hard Cover, 416Pages, Weight: 575 gm
Product-Id: 1011435
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2007
Productid:1011435  
Quantity:
 

 

کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے

(میری داستان، تھوڑی تھوڑی)

میرے کالم عموما کسی واقعے، داستان یا کہانی سے شروع ہوتے ہیں میرے ناقدین اس سٹائل کو افسانوی یا داستانی کہتے ہیں، میرے احباب کی یہ آبزرویشن بیک وقت درست بھی ہے اور غلط بھی، میں سب سے پہلے غلط کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں میں بڑے عرصے سے قومی اور بین الاقوامی ادب کا طالب علم چلا آ رہا ہوں چنانچہ میں سمجھتا ہوں افسانہ ادب کی معراج ہے اور یہ ایک ایسی نازک، اعلی اور ارفع صنف ہے جس میں کام کرنا اور اپنا مقام بنانا میرے جیسے چھوٹے، کم فہم اور جلد باز شخص کے بس کی بات نہیں، یہ ایک ایسی ملکوتی اور سماوی صنف ہے جس کا سہارا لینے پر ژاں پال سارتر جیسے فلسفی اور دوستوفسکی جیسے ادب کے امام تک مجبور ہو گۓ تھے میرا دعوی ہے جب کوئی ادیب فن کی انتہا کو چھوتا ہے تو اس وقت وہ افسانہ نویس کہلاتا ہے میں یہ بھی اعتراف کرتا ہوں صحافت ادب کے مقابلے میں ایک کم اہم، سطحی اور عارضی شعبہ ہے ادیب صدیوں پر محیط زمانوں کے لیے ادب تخلیق کرتے ہیں جبکہ ہم جیسے صحافیوں کے کام اور ہماری تحریروں کی عمر چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہوتی چنانچہ میرے جیسے دنیا دار صحافی کو افسانہ نویسی کا اعزاز بخشا ادب اور افسانے دونوں کی توہین ہے اور جو لوگ یہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں میرا خیال ہے انھوں نے کبھی کوئی اخبار پڑھا اور نہ ہی اچھے افسانے، ہاں البتہ اگر ایک پہلو سے دیکھا جاۓ تو ان لوگوں کی بات درست بھی ہے میں کالم میں وہی تکنیکس استعمال کرتا ہوں جو عموما افسانہ نویس اپنی تحریروں میں کرتے ہیں، افسانے میں کہانی ہوتی ہے اور میرے کالم میں بھی کہانی کا عنصر پایا جاتا ہے، افسانے میں کردار ہوتے ہیں جزئیات، تفصیل اور جذبات ہوتے ہیں اور میرے کالم میں بھی یہ تمام اجزاء پاۓ جاتے ہیں لیکن ان تمام اجزا کی موجودگی کے باوجود افسانے اور میرے کالم میں ایک بڑا فرق ہے، اس فرق کا نام حقیقت ہے افسانے کے تمام اجزاء غیر حقیقی اور فرضی ہوتے ہیں اور لکھاری افسانے میں اپنا فلسفہ اپنا نظریہ اور اپنے تخلیقی جوہر ثابت کرنے کے لیے کہانی اور کرداروں کا سہارا لیتا ہے ۔

 

آٹھ بجے

"میں بتاتا ہوں سچی محبت کیا ہوتی ہے" ڈاکڑ نے مسکرا کر ہماری طرف دیکھا اور کافی کے مگ سے کھیلنے لگا ہم غور سے اسکی بات سننے لکۓ وہ گویا ہوا "میں ایک دن کلینک میں بیٹھا تھا یہ صبح کے ساڑھے سات بجے تھے، ایک بوڑھا مریض بھاگتا ہوا کلینک میں داخل ہوا اسکے ماتھے پر پسینہ تھا، سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی اور وہ بار بار دل پر ہاتھ رکھتا تھا میرا سٹاف تیزی سے اسکی طرف بڑھا، بوڑھے کی عمر اسی برس سے زائد تھی لیکن وہ اسکے باوجود چلنے پھرنے کی پوزیشن میں تھا وہ نرس اور وارڈ بواۓ سے بحث کرنے لگا میں دفتر کے شیشے سے انھیں الجھتے ہوۓ دیکھنے لگا، ذرا دیر بعد وارڈ بواۓ میرے پاس آیا، میں اس وقت اخبار پڑھ رہا تھا میں نے اخبار ایک طرف رکھا اور استفہامیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا، وارڈ بواۓ نے بتایا باباجی کے انگھوٹے پر چوٹ لگی تھی ہم نے تین ہفتے پہلے انکے ٹانکے لگا دیے لگا، وارڈ بواۓ نے بتایا باباجی کے انگھوٹے پر چوٹ لگی تھی ہم نے تین ہفتے پہلے انکے ٹانکے لگا دیے تھے وہ ٹانکے کھلوانے آۓ ہیں، میں نے گھڑی کی طرف دیکھا اور وارڈ بواۓ سے کہا، باباجی سے کہو میں آٹھ بجے کام شروع کروں گا وہ آدھ گھنٹہ انتظار کر لیں میں سب سے پہلے انکے ٹانکے کھولوں گا ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108