::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Shakespeare Kay Dais Main  
Book Detail
 
 
Shakespeare Kay Dais Main
شیکسپیئر کے دیس میں  
Author/Translator: Gafir Shahzad 
Price: $ 7.6
Format: Hard Cover, 248Pages, Weight: 340 gm
Product-Id: 1011373
Publisher: Fiction House
Publish date: 2006
Productid:1011373  
Quantity:
 

 

سفرنامہ نگاری اردو ادب کی دیگر اصناف سے کئی لحاظ سے مختلف اور قدرے مشکل بھی ہے- مشکل اسلیے کہ دیگر اصناف ادب جیسے افسانہ و شاعری وغیرہ میں صرف لکھنے والے کی تخلیقی صلاحیتوں کی آزمائش ہوتی ہے مگر سفرنامہ لکھنے والے کو بہت باریک بین اور جغرافیائی و ملکی معاملات سے آگاہ ہونا چاہیے، تحریررواں اور دلچسپ ہونی چاہیے، جس ملک یا شہر کا سفر کیا جا رہا ہے وہاں کی تاریخ، لوگوں کا طرز رہن سہن، تہذیب، ادب، تعمیرات کے بارے میں کماحقہ علم ہونا چاہیے، مشاہداتی آنکھ اور دلچسپ اسلوب کے بغیر سفرنامہ قاری پر اپنی گرفت قائم نہیں رکھ سکتا- ایسے حالات میں اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب گذشتہ دو تین دہائیوں میں چند سفرنامہ نگاروں نے سفرنامے کا مزاج اس لحاظ سے بدل دیا ہے کہ قاری اب سفرنامے میں لطیفے، رومانس اور دلچسپ کرداروں کی توقع کرنے لگ گیا ہے اگر ہم دو تین سو سال قبل کے سفرنامہ نگاروں کا مختلف ممالک کا لکھا ہوا احوال پڑھیں تو ہماری آنکھ کے سامنے اس عہد کی معاشرت، تہذيب، سیاست، مذہب، تعمیرات، ادب لطیف، گویا ایک جہان آشکار ہو جاتا ہے ۔

چار دہائیاں گزریں، میرے پاؤں تو گویا زمین سے بندھے ہوۓ تھے اگر کبھی کبھار سرکاری فرائض کی بجا آوری کے لیے پنجاب کے کسی دوسرے شہر میں جانا پڑ جاتا تو گویا میرے لیے بہت بڑی مشکل آن کھڑی ہوتی، ذہنی سکون برباد ہو جاتا، سانس پھولنے لگتی اور معلوم نہیں کیوں سینے پر بوجھ محسوس ہونے لگتا- میری زندگی کا سفر جہلم کے ایک چھوٹے سے گاؤں کنتریلہ سے لاہور تک کا سفر ہے جس کا نقطہ آغاز 1984ء ہے جب میرا داخلہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں ہوا ۔

 

ہیلی فیکس میں چند روز

مانچسٹر ائرپورٹ سے باہر نکلا تو ماموں، والدہ، شرجیل اور خالو کو اپنا منتظر پایا، اگلے چند لمحوں کے بعد ہم ہیلی فیکس جانے والی موٹروے پر تھے- سڑک کے دونوں اطراف سبزہ، ہرے بھرے کھیت اور خوبصورت درخت تھے- بس یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اسلام آباد ائرپورٹ سے نکل کر اسلام آباد کی جانب چل پڑے ہیں، منظرنامے میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہو رہا تھا- گاڑی میں ہلکی پھلکی بات چیت ہو رہی تھی، دھوپ نکلی ہوئی تھی، مگر موسم ایسا گرم نہ تھا معلوم ہوا یہاں سے ہیلی فیکس پچاس منٹ کے فاصلے پر ہے، راستے میں بھائی کا فون آیا، بہن نے بات کی، ماموں کے گھر والوں نے معلوم کیا، سب کو اطمینان ہو گیا کہ تمام مراحل سے گزر کر اب ہم گھر کی جانب رواں دواں ہیں ۔

 سب سے پہلے جس شے نے مجھے حیران کیا وہ وقت تھا، رات کے دس بج رہے تھے اور اب شام ہو رہی تھی معلوم ہوا یہاں جون تا ستمبر ایسی ہی صورتحال رہتی ہے پہلے دن بڑھتا جاتا ہے پھر دن کم ہونے لگتا ہے حتی کہ اکتوبر میں پانچ چھ بجے شام ہونے لگتی ہے، یہی وجہ ہے کہ انگلینڈ میں تمام کاروباری مراکز، دفاتر حتی کہ شہر کی دوکانیں وغیرہ شام پانچ چھ بجے تک بند ہو جاتی ہیں اسکے بعد ذاتی زندگی کے لیے وقت کو استعمال میں لایا جاتا ہے اس وقت پاکستان اور انگینڈ کے اوقات میں پانچ گھنٹے کا فرق تھا لہذا اس روز میرا دن چوبیس سے بڑھ کر انتیس گھنٹوں پر محیط ہو گیا- سونا چاہتا تھا مگر نیند آنکھوں میں نہیں تھی ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108