::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Fiction > Pakistan Iklition Kah Noh  
Book Detail
 
 
Pakistan Iklition Kah Noh
پاکستانی اقلیتوں کا نوحہ  
Author/Translator: Junaid Qasir 
Price: $ 4.48
Format: Hard Cover, 104Pages, Weight: 260 gm
Product-Id: 1011372
Publisher: Fiction House
Publish date: 2007
Productid:1011372  
Quantity:
 

 

تاریخ میں اقلیتیں، اکژیت کے استحصال اور ظلم و ستم کا شکار رہی ہیں، خاص طور سے مذہبی اقلیتیں کہ جن پر عبادت کرنے کی پابندی، حکومتی عہدوں پر فائز ہونا ممنوع، کاروبار اور تجارت میں متعصبانہ رویہ، اسلیے یہ اپنی علیحدہ بستیوں میں، ڈرے اور سہمے رہتے تھے- لیکن جمہوری روایات اور اقدار نے آہستہ آہستہ اقلیتوں کو انکے حقوق دینا شروع کۓ، نیشنل ازم میں انھیں ایک قوم کا حصہ بنا لیا گیا، اور جب امریکی ریاستیں آزاد ہوئیں تو انکے دستور، اور 1789ء کے فرانسیسی انقلاب کے بعد، انکے ہاں جو نۓ دساتیر بنے ان میں سب کو برابر کا شہری تسلیم کرکے بنیادی حقوق دیۓ- اسکے بعد سے جو بھی دستور بنتے ہیں، ان میں اقلیت و اکژیت کے سوال کو ختم کرکے تمام لوگ شہری ہو جاتے ہیں ۔

 پاکستان میں ابتداء ہی سے صورت حال مختلف رہی، جب 1949ء میں قراردار مقاصد پاس ہوئی تو اس میں کہا گیا کہ

 جیسا کہ تمام کائنات کی حاکمیت صرف خدا تعالی کی ملکیت ہے، اس نے جو اختیارات ریاست پاکستان کو اسکے عوام کی وساطت سے اپنی حدود کے مطابق استعمال کرنے کی غرض سے سونپے ہیں، وہ ایک مقدس ذمہ داری ہیں ۔

 اسکی دوسری شق میں ہے:

 یہ کہ اسلام کے بیان کردہ جمہوریت، آزادی، مساوات، راوداری اور سماجی انصاف کے اصولوں کی کامل پابندی کی جاۓ گی ۔

 

قائد، قوم اور اقلیتیں

سمندر اور تاریخ دور سے بہت زبردست لگتے ہیں مگر جب انسان انکے درمیان ہو تو متلی آنے لگتی ہے- پاکستان میں اقلیتوں کی صورتحال بھی کچھ یوں ہی رہی ہے- پاکستان جیسا ہونا چاہیے تھا، ویسا بن نہ سکا- قائداعظم سے جنرل پرویز مشرف تک یہ اعترافات موجود ہیں- ہم دائروں میں سفر کے عادی بنا دیۓ گۓ ہیں- جہاں سے چلتے ہیں، پھر وہاں پہنچا دیۓ جاتے ہیں- آدھی صدی سے زائد کے سفر میں ہم نے جو کچھ جمہوری ورثے میں پایا تھا- وہ بھی گنوا دیا جسے ہم انگریز کا نظام کہہ کر راہ فرار اختیار کرتے ہیں- یہ سوچے سمجھے، بغیر کہ آج انگریز کا تعلیمی، سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی نظام کس منزل پر ہے- اور ہم حقائق سے بھاگ کر کس اندھیرے راستے میں بھٹک رہے ہیں ۔

 کسی بھی ملک میں اقلیت ہونا کمزوری کی علامت بھی ہے اور قوت کا اظہار بھی، مگر جن ممالک میں کسی بھی عقیدے اور مذہب کو اس ملک کی اساس یا بنیاد کا درجہ دے دیا جاۓ- تو اس ملک میں اقلیتوں کی کمزوری اور قوت کے مظاہر بھی تبدیل ہو جاتے ہیں- پاکستان میں مذہبی اقلیتیں ایک بڑی قوت ہے- مگر ابھی تک اس قوت کو درست اور مثبت سمت نہیں دی گئی- یہی درست سمت کا مسئلہ ابھی پوری قوم کو درپیش ہے، درست سمت جو یکجہتی کی سمت ہوئی ہے- یکجہتی اور اتحاد کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں- پہلی انفرادی یا گروہی مفاداتی، یہ صورت وقتی ہوتی ہے- جیسے ہی وقتی مفادات ختم ہوۓ، اتحاد اور یکجہتی بھی ختم ہو جاتی ہے- یک جہتی اور قومی اتحاد کی دوسری صورت جو مشترکہ اور قومی مفادات اور نظریے پر استوار ہوتی ہے- وہ دائمی اور پائیدار حیثیت رکھتی ہے- بدقسمتی سے پاکستانی سماج میں یکجہتی اور اتحاد کی زیادہ صورتیں، انفرادی اور وقتی مفادات پر مبنی رہی ہیں ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108