::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Travel > Chand Saal Diyar-e-Ghair Main  
Book Detail
 
 
Chand Saal Diyar-e-Ghair Main
چند سال دیار غیر میں  
Author/Translator: Abbas Ahmed 
Price: $ 5.71
Format: Hard Cover, 246Pages, Weight: 420 gm
Product-Id: 1011342
Publisher: Al Hamad Publications
Publish date: 2003
Productid:1011342  
Quantity:
 

 

میاں عباسی تم بھی چل دئیے

اے میاں عباس احمد عباسی- تم بھی چل دئیے- تمہیں تو ہم سست الوجود کہتے تھے، پوستی جانتے تھے، دو منٹ میں تمھارا فقرہ مکمل ہوتا تھا تم کون سے ایسے تھے کھرے دادوستد کے- کرنے کے کام تو تم تم سے ہوتے نہیں تھے- یہ نہ کرنے کا کام تم نے اتنی شتابی سے کیا ۔

 ابھی ابھی بقائی اسپتال سے فون آیا- کسی نے کہا عباسی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے- ہم نے کہا کون سے عباسی کا، بولے وہی جو آپکے دوست تھے- انجمن ترقی اردو والے- آج صبح ساڑھے آٹھ بجے- دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں- اچھا دوست آتے ہیں- تمھیں کبھی مٹی دیتے ہیں اور چلتے چلتے چار سطریں بھی تمھاری یاد میں لکھے جاتے ہیں کہ اس مضمون نویسی کا دماغ کے ہیں- ہاۓ واۓ عباسی ۔

 میاں تم کو یاد ہو گا- لیکن خیر تم یاد کی منزل سے گزر گۓ- تم سے ہماری ملاقات لاہور میں ہوئی تھی جب تم احساس کے ایڈیڑ تھے- پھرتم کراچی آۓ- پھر تم پنڈی آۓ- پنڈی میں ادھر کچہریوں کے پاس تمہارا گھونسلا تھا- نام تو کاشانہ یا آشیانہ تھا- ہم اسے گھونسلا کہتے تھے- نیچی سی چھت والا مختصر لیکن کشادہ دل مکان جس کے دو کمروں میں سے بڑا کمرہ تم ہمیں دے کر، بیوی کے ساتھ کوٹھڑی یا کولکی میں منتقل ہو جاتے تھے اور تمہارا گھر ہمارا گھر بن جاتا تھا- یہیں جمیل الدین عالی آتے تھے- ابن الحسن آتے تھے، میجر منان آتے تھے- قدرت اللہ شہاب آتے تھے ۔

 

58ء میں ہمیں معلوم ہوا کہ ہم کمیونسٹ ہیں- بات یوں تھی کہ پاکستان میں مسلسل بے روزگاری کی وجہ سے ہم نے یہ سوچا کہ کیوں نہ کسی اور ملک میں قسمت آزمائی کی جاۓ- یہ خیال دل میں آیا اور بین الاقوامی پاسپورٹ کے لیے درخواست دے دی- پاکستان میں پاسپورٹ ملنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا اپنے آپکو وطن دوست ثابت کرنا- دو چار سرٹیفیکیٹ اور چند ٹکٹ جو قیمتا ملتے ہیں درخواست کے ساتھ منسلک کر دئیے- تاریخ پندرہ دن بعد کی ملی اور جب اس خیال سے کہ پاسپورٹ مل جاۓ گا اور اسی لیے اپنے وطن کی گلیوں پر مسرت سے نظر ڈالتے ہوۓ پاسپورٹ کے دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ پاسپورٹ نہیں مل سکتا- پولیس نے رپورٹ خلاف دی ہے- یہ معاملہ ہمارے لیے حیرانی کا تھا- ہماری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آخر ایسی ہم میں کیا بات ہے جو انھیں ناگوار گزری ہے ۔

 ان دنوں ہمارے ایک دوست خفیہ پولیس کے محکمے میں تھے- ان سے میں نے کہا کہ بھائی ہم کہاں کے دانا ہیں- کس ہنر میں یکتا ہیں جو بے سبب تمھارا محکمہ ہمارے خلاف ہو گیا ہے- انکی زبانی معلوم ہوا کہ پولیس کے خیال میں ہم کمیونسٹ ہیں- ہم نے کہا کہ اگر ہم کمیونسٹ ہیں اور حکومت ہمیں فی الحال جیل نہیں بھیجنا چاہتی تو ہمیں ملک سے باہر ہی جانے دے تاکہ ہمارا پاپ کٹے- بہرحال ہمارے دوست کو ہمارے کمیونزم کا حال معلوم تھا- اس نے ہماری دوستی میں دوبارہ تحقیق کے لیے کاغذات خفیہ پولیس کو بھیج دئیے- خفیہ پولیس کی دوبارہ یہی رپورٹ آئی چونکہ ہم کمیونسٹ ہیں اسلیے ہمیں پاسپورٹ نہیں دیا جا سکتا- مزے کی بات یہ ہے کہ خفیہ پولیس کا کوئی آدمی ہم سے ملا نہ ہمارے خیالات معلوم کۓ نہ کسی نے ہمیں روسی سفارت خانے سے نکلتے دیکھا کیونکہ اس بات پر بھی اس زمانے میں قدغن لگ جاتی تھی مگر ہم کبھی وہاں گۓ ہی نہیں تھے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108