::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Famous People > Getah Kah Ghain  
Book Detail
 
 
Getah Kah Ghain
گیتا کا گیان  
Author/Translator: Mahatma Ghandi 
Price: $ 4.00
Format: Hard Cover, 149Pages, Weight: 300 gm
Product-Id: 1011301
Publisher: Nigarshat
Publish date: 2007
Productid:1011301  
Quantity:
 

 

تمہید

جیسے سوامی آنند وغیرہ دوستوں کے پریم بس میں ہو کر میں نے صرف اظہار صداقت کے لیے تم کتھا لکھنی شروع کی تھی، وہی بات گیتا جی کے ترجمہ کے متعلق ہوئی ہے- آپ گیتا کے جو معنی کرتے ہیں، وہ معنی تبھی سمجھ میں آ سکتے ہیں، جب آپ ایک بار ساری گیتا کا ترجمہ کر جائیں- ادھر ادھر کے شلوکوں سے اہنسار وغیرہ ثابت کرنا یہ مجھے تو مناسب معلوم نہیں ہوتا- یہ سوامی آنند نے عدم تعاون کے زمانہ میں مجھ سے کہا تھا، مجھے انکے دلائل میں وزن معلوم ہوا- میں نے جواب دیا کہ فرصت ملنے پر کروں گا- پھر میں جیل چلا گیا، وہاں تو گیتا کا مطالعہ خاص طور پر بڑے غور و فکر کے ساتھ کرنے موقعہ مل گیا- لوکمانیہ کا گیان کا بھنڈار پڑھا- انھوں نے ہی پہلے مجھے مراٹھی، ہندی اور گجراتی ترجمے پریم سے بھیجے تھے اور مراٹھی نہ پڑھ سکوں تو گجراتی ضرور پڑھوں، یہ تاکید کی تھی- جیل کے باہر تو اسے نہیں پڑھ سکا لیکن جیل میں گجراتی ترجمہ پڑھا- اسے پڑھنے پر گیتا کے متعلق زیادہ پڑھنے کی خواہش پیدا ہوئی اور گیتا سے تعلق رکھنے والی کئی کتابوں کی ورق گردانی کر ڈالی ۔

 گیتا سے میرا پہلا تعارف ایڈون آرنلڈ کے منظوم ترجمہ کے ذریعے 1888ء تا 1889ء میں حاصل ہوا- اس سے گیتا کا گجراتی ترجمہ پڑھنے کی زبردست خواہش پیدا ہوئی اور جتنے ترجمے ہاتھ لگے، پڑھ ڈالے مگر اسطرح کا مطالعہ مجھے اپنا ترجمہ عوام کے سامنے رکھنے کا حق بالکل نہیں دیتا- دوسرے میری سنسکرت کی واقفیت بہت تھوڑی ہے- گجراتی کی واقفیت علمیت کے حساب سے کچھ نہیں ہے- پھر میں نے ترجمہ کرنے کی جرات کیوں کی ؟ ۔

 

ارجن وشاد (دکھ) یوگ

گیتا مہا بھارت کا ایک ننھا سا حصہ ہے- مہا بھارت تاریخی کتاب مانی جاتی ہے، لیکن ہمارے خیال میں مہا بھارت، رامائن تاریخی کتابیں نہیں، بلکہ مذہبی ہیں یا اگر اسکو تاریخ کہیں تو یہ روح کی تاریخ ہے اور یہ ہزاروں سال پہلے کہا ہوا تھا- ان باتوں کا حال نہیں بلکہ جو آج ہر انسانی جسم میں ہلچل مچ رہی ہے، اسکی تصویر ہے- مہامہارات اور رامائن، دونوں میں دیواور اسر کی رام اور راون کی ہر روز ہونے والی لڑائی کا حال ہے- اس بیان میں گیتا کرشن اور ارجن کے درمیان بات چیت ہے- اس بات چیت کا حال سنجے اندھے دھرت راشٹر سے کرتے ہیں- گیتا کے معنی گائی ہوئی ہے- اس میں اپنشدوں کا ہی گیان ہے- اسلیے اسکا پورا مطلب گایا ہوا اپنشد ہوا- اپنشد یعنی گیان یا علم- اسلیے گیتا کے معنی سری کرشن کا ارجن کو دیا ہوا علم یا اپدیش ہوا- ہمیں یہ سمجھ کر گیتا پڑھنی چاہیے کہ ہمارے جسم میں انتریامی شری کرشن مہاراج براجتے ہیں اور جب ارجن کی طرح متلاشی حق بن کر دھرم کی پریشانی میں انتریامی بھگوان کو پوجھتے ہیں، انکی پناہ میں جاتے ہیں- تب وہ ہمیں پناہ دینے کو تیار ہی رہتے ہیں- ہم سوۓ ہوۓ ہیں انتریامی تو ہمیشہ جاگتا ہے- وہ اس بات کی راہ دیکھ رہا ہے کہ ہم میں تلاش حق کی خواہش پیدا ہو لیکن ہمیں تو سوال پوچھنے نہیں آتے، سوال پوچھنے کو دل بھی نہیں چاہتا- اسلیے گیتا جیسی کتاب کا روزمرہ دھیان دھرتے ہیں- اسکا وچار کرتے کرتے اپنے اندر دھرم کی تلاش پیدا کرنا چاہتے ہیں، اور جب جب مصیبت میں پھنستے ہیں تب تب مصیبت کو دور کرنے کے لیے ہم گیتا ماتا کے پاس دوڑے جاتے ہیں اور اس سے اطمینان حاصل کرتے ہیں- ہمیں گیتا کو اسی خیال سے پڑھنا چاہیے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108