::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Famous People > Ameer Khusroo  
Book Detail
 
 
Ameer Khusroo
امیر خسرو  
Author/Translator: Sheikh Saleem Ahmad 
Price: $ 9.14
Format: Hard Cover, 439Pages, Weight: 575 gm
Product-Id: 1011298
Publisher: Nigarshat
Publish date: 2007
Productid:1011298  
Quantity:
 

 

تعارف

یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ عالمی سطح پر مطالعہ خسرو کی کوششیں ہو رہی ہیں اور ہندوستان ان کوششوں میں سب سے پیش پیش ہے- میرے دوست اور سات سو سالہ تقریبات کی قومی کمیٹی کے رکن اور شعبہ نشر و اشاعت کے کنویز شیخ سلیم احمد صاحب نے امیر خسرو سے متعلق نہایت قیمتی مواد کو ایک جگہ جمع کیا ہے- نہ صرف جمع کیا ہے بلکہ ترتیب و تدوین کا حق ادا کر دیا ہے- اس تالیف کے سلسلہ میں شیخ صاحب کو کافی تحقیق و جستجو کرنی پڑی ہے- اور تلاش بسیار کے بعد ایسے ایسے نوادرات فراہم کۓ ہیں جو عام دسترس سے باہر تھے اور امتداد زمانہ کے باعث نظروں سے اوجھل ہو گۓ تھے- انکو سامنے لا کر شیخ صاحب نے ایک اہم ضرورت کی تکمیل کی ہے- اس کامیاب اور قابل قدر کوشش کے لیے میں انکو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اہل نظر اسکو قدر کی نگاہوں سے دیکھیں گے- یہ کہنا بھی مبالغہ نہ ہو گا کہ امیر خسرو پر مرتب کردہ کتابوں میں مجموعہ سب سے بلند معیار کا حامل ہے ۔

امیر خسرو کا شمار اپنے زمانہ ہی کے نہیں بلکہ ہر زمانہ کے بڑے آدمیوں میں ہوتا ہے- وہ جامع الکمال شخصیت کے مالک تھے- امیر خسرو ہندوستانی تھے اور ہندوستانی ہونے پر فخر کرتے تھے- انکو اس دیس سے بے پناہ محبت تھی- اسلیے ہم ہندوستانیوں پر جن کو امیر خسرو کے ہم وطن ہونے کا شرف حاصل ہے- ان تقریبات میں نمایاں اور شایان شان حصہ لینے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے- اس سلسلہ میں سال رواں جلسے ہونگے ۔

 

امیر خسرو کی خودنوشت

میرے والد سیف شمسی (منسوب بہ سلطان شمس الدین التمش) نہایت بہادر اور صف شکنی میں شہرہ روزگار تھے- باوجود اسکے نہایت کم سخن تھے- ترک کی نسبت مشہور ہے کہ "ترک در خواب فرشتہ است" مگر وہ بیداری میں بھری فرشتہ تھے- ایسے فرشتے خواب میں آئیں تو آئیں- نہایت پاکباز اور باخدا تھے- خود تو محض امی تھے لیکن انکی ہمت اس طرف متوجہ رہی کہ مجھ کو کچھ آ جاۓ تو تھوڑی بہت قابلیت مجھ میں ہے وہ انھی کی تربیت کا نتیجہ ہے- انکو شہادت کی بہت تمنا تھی خداوند تعالی نے اس سعادت سے انکو سرخرو فرمایا ۔

سیف از سرم "برفت" ودل من دونیم ماند

دریاۓ من روان شدد "دریتیم" ماند

میری عمر اس وقت سات برس کی تھی- اس صغرسن میں جبکہ دودھ کے دانت ٹوٹتے تھے میرا کلام نمونہ در افشانی تھا- درآن صغرسن کہ دندان می افتاد سخن می گفتم و گہراز دہانم می ریخت، والد کے بعد نانا نہایت بااقبال اور صاحب اقتدار تھے- اگرچہ لفظ "سلطانی" سے محروم تھے مگر حقیقت میں وہی سلطان تھے انکی فراخ حوصلگی لفظ- انکی فراخ حوصلگی نے تمام ہندوستان قابو میں کر رکھا تھا- تخت کی آڑ میں کل کام وہی کرتے تھے- مفسدوں کا منہ بند رکھنے کے واسطے بعض خدمات بھی انھوں نے لے رکھی تھیں- دوسوتر کی اور دوسو ہندی غلام اور دس ہزار سوار انکی سرکار میں تھے- سال بہ سال کژت سے کلاہ و قبا انکے توشہ خانہ سے تقسیم ہوتیں- باورچی خانہ سے بکژت محتاجوں کو کھانا ملتا- انکا فیض ہندو اور مسلمان دونوں کو یکساں پہنچتا تھا- سترہ برس عہدہ عرض مملکت پر ممتاز رہے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108