::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Social & Political > Mojidain: Jinhon Nay Hamri Zindgi Badal Di  
Book Detail
 
 
Mojidain: Jinhon Nay Hamri Zindgi Badal Di
موجدین: جنھوں نے ہماری زندگی بدل دی  
Author/Translator: K.V Gopal Krishnan 
Price: $ 4.00
Format: Hard Cover, 154Pages, Weight: 315 gm
Product-Id: 1011297
Publisher: Nigarshat
Publish date: 2007
Productid:1011297  
Quantity:
 

 

تمہید

"ہم کو جو کچھ ہونا چاہیے تھا اسکے مقابلہ میں ہم صرف نیم بیدار ہیں- ہمیں جو جسمانی اور ذہنی قوتیں و دیعت ہیں انکا عشر عشیر ہی استعمال میں لاتے ہیں- موٹے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ انسان اپنی حدود سے بہت پست زندگی بسر کرتا ہے- اسکے اختیار میں ایسی بہت سی قوتیں ہیں جنھیں وہ استعمال ہی نہیں کر پاتا" ۔

 یہ بات امریکی نفسیات داں ولیم جیمس نے کہی تھی- ہم سب اندر ہی اندر جانتے ہیں کہ یہ سچ ہے- دیکھا گیا ہے کہ جب زور پڑتا ہے تو آدمی جسمانی قوت کے معجزے دکھا دیتا ہے اور ایسی غیر معمولی نفسیاتی قوت برداشت کا مظاہرہ کرتا ہے جو کسی کے سان و گمان میں نہیں ہوتی- عام حالات میں ہی انسان دوسرے عام آدمیوں جیسے لگتے ہیں- ایسا کیوں ہے؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ خود اپنی طاقتوں سے بے خبر تھے- روک ٹوک لگانے والی تعلیم یا ہمت افزائی کی کمی نے شاید انکی تخلیقی صلاحیت کو پھلنے پھولنے نہ دیا- لیکن کسی آدمی کی کامیابی اور مسرت کی کنجی اسکی اندرونی طاقت کے زیادہ سے زیادہ استعمال میں ہے- والدین، استاد، احباب اور رشتہ داروں کا اس میں ایک رول ضرور ہے لیکن پھر بھی سب سے بڑا یوگ دان خود آدمی کا اپنا ہے- اسکی اپنی قوت ارادی کا کہ اسکو خود کا بہترین استعمال کرتا ہے ۔

 خود کو سنوارنے میں پہلا قدم اپنی پوشیدہ قوت کا شعور ہے- زیادہ تر لوگوں میں کوئی نہ کوئی صلاحیت و دیعت ہے مثلا ریاضیاتی، لسانیاتی یا کاریگرانہ- ایسا آدمی شاذونادر ہے جو کسی کام کا نہیں ہے- شانت من اور باریکی سے اپنا تجزیہ کیا جاۓ تو اپنی قوتیں ظاہر ہو جاتی ہیں ۔

 اپنی پوشیدہ صلاحیت کا پتہ لگ جانے سے خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور خود اعتمادی کامیابی کی بنیاد ہے- سوامی و ویکانند نے صاف لفظوں میں کہا تھا "پہلے خود میں یقین پیدا کرو اور پھر خدا میں- جو آدمی خود میں یقین نہیں رکھ سکتا خدا میں ہرگز نہ رکھ پاۓ گا" ۔

 

ہماری زندگی پر سائنس اور ٹکنالوجی کا اثر

انسانی فطرت کی دلکش بوالعجمی یہ ہے کہ ہم تبدیلی سے بہت جلد مطابقت پیدا کر لیتے ہیں- اس صلاحیت میں کوئی دوسری نوع دور تک ہم سے مماثلث نہیں رکھتی- یہ حقیقت اسی سے پوری واضح ہو جاتی ہے جب ہم خیال کرتے ہیں کہ ہمارا طرز زندگی صرف دو صدی (تاریخی اعتبار سے مختصر عرصہ) پیشتر کے ہمارے اپنے اجداد سے کتنا مختلف ہو گیا ہے- 1800 کے سال میں ریل نہیں تھی، پاور سے چلنے والے سمندری جہاز نہیں تھے، ٹیلی فون، ٹیلی وژن، ہوائی جہاز یا دیگر سہولیات جن کو آج ہم ناگزیر جانتے ہیں، بالکل نہیں تھے- پچھلی دو صدیوں میں دنیا اس سے زیادہ بدلی ہے جتنا وہ اس سے پہلے تقریبا چھ ہزار سال کے زمانہ تاریخ کے پورے عرصہ میں تبدیل ہوئی تھی- ابھی اسکا سرا کہیں نظر نہیں آتا- اصل یہ ہے کہ تبدیلی کی رفتار بڑھتی ہی جاتی ہے ۔

 یہ زبردست تغیر انسانی عمل کے محض ایک پہلو کا نتیجہ ہے- اور وہ ہے سائنس اور بذریعہ ٹکنالوجی اسکے عملی استعمال کی نشوونما- سائنس کے مورخین کے لیے یہ اب تک ایک معمہ ہے کہ اتنی مختصر مدت میں ایسی دھماکہ خیز تبدیلی کیسے رونما ہو گئی- کیوں یہ دنیا کے ایک مخصوص علاقہ (یورپ) میں شروع ہوئی- اور کس وجہ سے اس سے پہلے کی صدیوں میں واقع نہیں ہوئی- لیکن بہرکیف اسکے عملی اثرات سے متعلق کوئی شک و شبہ نہیں ہے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108