::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Dr. Syed Moin Ul Rehman Tahkeeq Kay Charag Talay  
Book Detail
 
 
Dr. Syed Moin Ul Rehman Tahkeeq Kay Charag Talay
ڈاکڑ سید معین الرحمن تحقیق کے چراغ تلے  
Author/Translator: Siddique Javaid 
Price: $ 5.71
Format: Hard Cover, 272Pages, Weight: 340 gm
Product-Id: 1011288
Publisher: Maktaba Tameer e Insaniyat
Publish date: 2005
Productid:1011288  
Quantity:
 

 

پرہوں میں شکوے سے ۔ ۔ ۔

ڈاکڑ سید معین الرحمن کے حوالہ سے ڈاکڑ صدیق جاوید کو، دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ کتاب: "تحقیق کے چراغ تلے ۔ ۔ ۔" لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اسکا صحیح جواب تو آپکو پوری کتاب پڑھ کر ہی ملے گا، لیکن جہاں تک مجھے معلوم ہے، اس تحریر کا فوری محرک، ماہنامہ "الحمرا" لاہور میں چھپنے والے "مولانا حامد علی خاں کے چند خطوط" ہیں جو ڈاکڑ سید معین الرحمن نے مدیر کو ارسال کیے تھے اور "ترتیب و تعارف" کی آڑ میں، ایک خط کے طویل وضاحتی نوٹ میں انھوں نے ڈاکڑ وحید قریشی،ڈاکڑ غلام حسین ذوالفقار اور ڈاکڑ خواجہ محمد زکریا کو گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے اردو کی کلاسوں کے اجرا میں رکاوٹ بننے کا مجرم ٹھہرایا تھا- اسی حاشیۓ میں انھوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی انتظامیہ کے اس فیصلے کو بھی ہدف تنقید بنایا جس کے مطابق ڈاکڑ وحید قریشی کو شعبہ اردو میں تاحیات ڈسٹنگویش پروفیسرکا منصب جلیلہ پیش کیا گیا اور بقول انکے جس کا اعزازیہ، ماہ بماہ انکے گھر پہنچتا رہے گا، حالانکہ ڈاکڑ معین الرحمن کے خیال میں،ڈاکڑ وحید قریشی، اپنی شدید علالت کی وجہ سے اس قابل نہیں تھے کہ وہ شعبہ اردو میں پہنچ کر طلبہ و طالبات کی صحیح علمی رہنمائی کر سکتے- ڈاکڑمعین الرحمن کو یہ بات بھی پسند نہیں آئی کہ ڈاکڑ وحید قریشی نے اپنا وسیع اور نادر ذاتی ذخیرہ کتب عطیہ کے طور پر جی سی یونیورسٹی لائبریری لاہور کو دے دیا ۔

 

ڈاکڑ سید معین الرحمن

تحقیق کے چراغ تلے ۔ ۔ ۔

قدرت کی کرشمہ سازیاں گونا گوں اور بوقلموں ہیں مگر انسان اسکے کسی ایک کرشمہ کا پورا بھید جاننے سے قاصر ہے- مثلا قدرت کسی پر فیاض ہوتی ہے تو اسکی بے پایانی حساب میں نہیں آتی اور بخیلی پر اترتی ہے تو خلق خدا ایک ایک بوند اور ایک ایک تار کو ترس جاتی ہے- کچھ ایسی ہی ستم ظریفی قدرت نے ڈاکڑ سید معین الرحمن کے ساتھ روا رکھی- قدرت ان پر فیاض ہوئی تو انکے سر میں تصنیف و تالیف کا ایسا سودا بھر دیا کہ معلوم ہوتا ہے یہ پہناۓ فلک میں بھی نہیں سمانے کا مگر اپنے امساک کا مظاہرہ کرتے ہوۓ انھیں شوق تصنیف کے ایک خصوصی لازمہ سے محروم رکھا یعنی انھیں ذہنی اپج اور تحریر کی انفرادی صلاحیت عطا نہ کی ۔

 سو اب برسوں سے معین الرحمن صاحب اپنے پسندیدہ اردو کے دو تین مشہور ادیبوں کے مضامین میں سے تراشے نکال نکال کر ترتیب دے رہے ہیں یا پھر اپنے انھی پسندیدہ ادیبوں کے اقتباس نقل کرتے کرتے اپنی انگلیاں چٹخا لیتے ہیں- جب یہ اقتباس نقل کر لیتے ہیں تو انھیں ان اقتباسات کی نقل نویسی اور مشقت کی بنا پر خود اپنی تحریر کا گمان ہونے لگتا ہے- ڈاکڑ سید معین الرحمن کی طبیعت میں شوق تصنیف و تالیف سدا موجزن رہتا ہے- ہر ایک دو ماہ بعد ایک نئی کتاب پر اپنا نام دیکھنے کا اشتیاق انھیں بے بس کر دیتا ہے لہذا وہ کوئی نئی بات سوچنے، غوروفکر کرنے اور اسکے لیے کوئی موزوں پیرایہ، اظہار اختیار کرنے سے قاصر رہتے ہیں- کوئی نیا خیال، نیا موضوع یا نیا مضمون اختراع کرنے کی صلاحیت قدرت کی طرف سے انھیں ودیعت نہیں ہوئی- کسی خیال کو سہولت سے قلم بند کرنے یعنی تصنیف و تحریر کے فن سے انھیں طبعی مناسبت نہیں ہے اسلیے انکے نژی بیانات میں آورد اور کھینچ تان کی کارفرمائی ہوتی ہے- قدرت نے ایک عام انسان کی طرح مختلف عناصر کے آمیزہ سے انکا بھی مزاج تیار کیا ہے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108