::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Business & Technical > Dil Ki Hafazat  
Book Detail
 
 
Dil Ki Hafazat
دل کی حفاظت  
Author/Translator: Tahir Mansoor Farooqui 
Price: $ 7.2
Format: Hard Cover, 254Pages, Weight: 415 gm
Product-Id: 1011283
Publisher: Maktaba Tameer e Insaniyat
Publish date: 2007
Productid:1011283  
Quantity:
 

 

عشروں تک ہم امریکیوں نے دل کے مرض سے بچنے کے لیے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مشوروں پر عمل کیا- ہم نے کوشش کی کہ چکنائی کم کھائیں، زیادہ ورزش کریں اور اپنا کولیسڑول لیول کم کریں- ہم نے کروڑوں روپے کم چکنائی والی غذاؤں، جم کی ممبر شپ اور کولیسڑول کم کرنے والی ادویات پر خرچ کیے ۔

 لیکن ان تمام تر کوششوں اور اخراجات کے باوجود دل کی بیماری تشخیص کے اعتبار سے بھی سرفہرست رہی اور امریکہ میں شرح اموات کا سبب بننے والے امراض میں بھی پہلے نمبر پر رہی- دل کی شریانوں کا مرض ہر سال 950،000 امریکیوں کی زندگیاں چھین لیتا ہے- یہ اعداد و شمار سینڑ فار ڈیزیز کنڑول اینڈ پریوینشن کے فراہم کردہ ہیں- ایسا کوئی امریکی تلاش کرنا مشکل ہے جس کا کوئی نہ کوئی عزیز دل کی بیماری کے ہاتھوں معذور زندگی نہ گزار رہا ہو یا زندگی نہ ہار خکا ہو ۔

 دل کی بیماری مسلسل امریکیوں کے لیے سب سے بڑی قاتل محض اسی وجہ سے ہے کہ وہ صحت مند زندگی کے لیے ضروری مشوروں کوغلط انداز میں پلان کر رہے ہیں انھوں نے انڈے اور گوشت چھوڑ دیۓ ہیں- جوگنگ کرتے اور ادویات لیتے ہیں لیکن ان اقدامات سے دل کی بیماری کا علاج نہیں ہوتا ۔

 بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات مشکل ہوتی ہے کہ وہ اپنے مصروف ترین روزمرہ کے معمولات میں "کارڈیو" ایکسر سائز کو شامل کر سکیں- اپنی مرغوب غذاؤں سے قطع تعلق کر لیں اور کیلوریز کی تعداد اور چکنائی اور کولیسڑول کے گرام ک پیمائش کرتے رہیں ۔

 

جدید غذائیں اور غذائی سانحہ

بنی نوع انسان نے دل کی بیماری کی جدید وبا خود تخلیق کی ہے- کروڑوں سال کے دوران ہمارے دلوں نے ارتقا حاصل کیا اور خود کو ہمارے فطری ماحول کے مطابق بنایا ہے- لیکن کچھ عرصے سے ہم نے وہ طور طریقے مکمل طور پر بدل لیے جن کے تحت ہم اپنے دلوں ک نشوونما کرتے تھے- جب آپ اسے وسیع تر منظر میں دیکھتے ہیں تو یہ محض اتفاق کی بات نہیں ہے کہ دل کی بیماری سب سے پہلے دس ہزار سال قبل اس وقت رونما ہوئی جب ہمارے آباو اجداد نے زراعت شروع کی ۔

 سادہ سی بات ہے- زراعت متعارف ہونے سے پہلے لاکھوں برس تک ہم ایسی غذا کھاتے تھے جو بہت زیادہ پروٹین اور چکنائی جبکہ بہت کم کاربوہائیڈریٹس رکھتی تھی- چند ہزار سال پہلے ہم نے وہ غذا اپنالی جو زیادہ کاربوہائیڈریٹس اور کم پروٹین اور چکنائی رکھتی ہے- اسی تبدیلی کے ساتھ دل کی بیماری کا آغاز ہوا ۔

 دل کی بیماری سے بچنے اور اسے ختم کرنے کے لیے آپ کو اپنی غذا تبدیل کرنا ہو گی تاکہ اپنے شکاری آباو اجداد کی کھانے کی عادات کی زیادہ سے زیادہ تقلید کر سکیں- وہ ایسی خوراک پر انحصار کرتے تھے جو انکے ماحول میں فطری طور پر دستیاب تھی- اگر آپ ایسی غذائیں کھاتے ہیں جو جینیاتی طور پر آپکے لیے موزوں ہیں تو آپ دل کی ہر اس بیماری سے تقریبا محفوظ رہ سکتے ہیں جو آج آپکے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108