::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Allama Shah Ahmad Norani Ki Deni O Moasharti Khidmaat Kah Jaizaa  
Book Detail
 
 
Allama Shah Ahmad Norani Ki Deni O Moasharti Khidmaat Kah Jaizaa
علامہ شاہ احمد نوارنی کی دینی و معاشرتی خدمات کا جائزہ  
Author/Translator: Sadia Akhtar 
Price: $ 5.2
Format: Hard Cover, 136Pages, Weight: 290 gm
Product-Id: 1011279
Publisher: Maktaba Tameer e Insaniyat
Publish date: 2007
Productid:1011279  
Quantity:
 

 

ناشر کے قلم سے

دنیا کے دوسرے مذاہب کے علماء کے مقابلے میں علماۓ اسلام کا کردار اس وجہ سے بڑا ممتاز اور فعال رہا ہے کہ اسلام میں نجی اور اجتماعی زندگی مذہب کے دائرے سے باہر نہیں اور عبادات سے لے کر سیاست و معیشت تک زندگی کا ہر شعبہ،مذہبی قوانین و اصول کے تابع ہے- اسلام میں سیاستدانوں کے لیے اور مذہب علماء کے لیے مختص نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ نہ تو اسلام میں ریاست اور مذہب کے درمیان حد فاضل کبھی قائم ہو سکی اور نہ کسی مسلم ملک میں پاپائیت کو رواج مل سکا- البتہ مسلم تاریخ کے زمانہ خلافت کو چھوڑ کر ہر دور میں اقتدار یہ کوشش ضرور کرتا رہا کہ نام نہاد علماء کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے اپنے مفادات کو محفوظ و مامون کر لے ۔

تاہم ملت اسلامیہ پر اللہ تعالی کا یہ بہت بڑا احسان رہا ہے جب کبھی اسلام کا سفینہ بھنور میں پھنسا باری تعالی نے اسکی سالمیت و حفاظت کا پورا اہتمام کر دیا- اسلام کی چودہ صدیوں میں مختلف فتنے سر اٹھاتے رہے تو خدا تعالی نے اسکے ازالے کے لیے ایسے مصلحین، مجہتدین اور صلحا بھیجے، جنھوں نے دین حق کی سربلندی کے لیے نہ صرف اپنی دماغی صلاحیتوں کو خدمت اسلام میں لگایا بلکہ اپنی جان و مال کی بازی بھی اسی میں لگا دی، انکی بے لوث خدمت اور خلوص کی بدولت انکے نام آج بھی تاریخ کے صفحات پر جگمگا رہے ہیں ۔

مختلف ادوار میں امت محمدیہ کو جیسا کہ مختلف چیلنجز کا سامنا رہا- دور اکبری کو ہی لیجۓ جب مغلیہ عہد میں حکمرانوں اور علماء سو کے گٹھ جوڑ سے یہاں اسلام کو جو خطرات لاحق ہوۓ انکا مقابلہ کرنے اور دین میں تحریفیں کرکے اسے ایک نیا دین بنانے کی کوششوں کو ناکام بنانے میں برعظیم کے علماۓ برحق نے جو کردار سرانجام دیا وہ مسلم تاریخ میں بے مثال ہے ۔

 

حریت فکر و عمل کے عظیم علم بردار – مولانا شاہ احمد نورانی

میری خوش قسمتی ہے کہ اپنے دور کی ایک برگزیدہ ہستی کے عقیدت مندوں سے مخاطب ہوں- حضرت مولینا شاہ احمد نورانی سے ہمارے بہت سے رشتے تھے- ایک صحافی اور لیڈر کا- ایک شاعر اور ادب دوست کا، ایک شفیق بزرگ کا، اور ایک وسیع دسترخوان رکھنے والے میزبان کا- شگفتگی اور شائستگی کے پیکر اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے لیے گہری درد مندی اور تشویش کا- ان سے جب بھی ملاقات ہوتی تو وطن عزیز کی پس ماندگی، جمہوریت سے محرومی، فرد کی عزت کے فقدان پر باتیں رہتیں، ایک طرف جہاں حکومتوں کی غیر ذمہ داری، نااہلی پر تشویش ظاہر کرتے وہاں وہ اپوزیشن لیڈروں کی اندرونی خامیوں پر بھی کڑھتے، کہ ان میں سے اکژ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ انکی حکومت سے ڈیل ہو جاۓ ۔

حکومتوں کے بارے میں تو وہ اقبال کا یہ شعر پڑھتے ۔ 

فلک نے انکو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں

خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے !

 ان سے ہماری نیاز مندی کا سلسلہ 1970ء کے انتخابات سے شروع ہوا تھا، جو انکے آخری دنوں تک اللہ تعالی کے فضل و کرم سے جاری رہا- اخبار نویسوں والی رسمی گفتگو تو ہوتی ہی تھی، لیکن اسکے علاوہ بھی بین الاقوامی، قومی حالات، دین اسلام کے حوالے سے مختلف مسائل پر وہ ہمیشہ رہنمائی فرماتے تھے- وہ بیک وقت کئی محاذوں پر لڑتے تھے، لیکن کبھی انھیں پریشان حال نہیں پایا- ٹینشن میں نہیں دیکھا- ایک طرف انکی لڑائی جاگیرداروں، سرمایہ داروں سے تھی- دوسری طرف لادینی قوتوں سے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108