::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Religion > Hamad O Naat > Qasidah Burdah Shareef....... Lajawab Naatia Shareef  
Book Detail
 
 
Qasidah Burdah Shareef....... Lajawab Naatia Shareef
قصیدہ بردہ شریف ۔ ۔ ۔ ۔ لاجواب نعتیہ کلام  
Author/Translator: Muhammad Shareef Beqah 
Price: $ 3.99
Format: Hard Cover, 168Pages, Weight: 275 gm
Product-Id: 1011259
Publisher: Ilm O Irfan Publishers
Publish date: 2005
Productid:1011259  
Quantity:
 

 

دیپاچہ

قصیدہ بردہ کی شان

                           قصیدہ بردہ شریف ایک ایسا لاجواب،شہرہ آفاق اور دلنشیں نعتیہ کلام ہے جسے کئی صدیوں سے بڑے ذوق و شوق سے پڑھا اور سنا جاتا ہے- 162 عربی اشعار پر مشتمل یہ نظم بے شمار ادبی،علمی،تاریخی اور مذہبی خصوصیات کی حامل ہونے کی وجہ سے بلاشبہ عشق رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک حسین و جمیل،وجد آور اور ایمان افزا گلدستہ عقیدت و نیاز مندی ہے- اگرچہ یہ نعتیہ نظم آج سے تقریبا آٹھ صدیاں پیشتر لکھی گئی تھی مگر یہ اب بھی اپنی گذشتہ شاندار آب و تاب قائم رکھے ہوۓ ہے- ایسا کیوں نہ ہو یہ "از دل ریزد دل خیزد" کے مصداق ایک عاشق صادق کی قلبی واردات محبت اور ذہنی کیفیات عشق کی آئینہ دار ہے- اسے ہر دور میں جاں نثاران مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم مساجد،پاکیزہ محافل اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تقریبات میں سن کر دلی سکون اور وجد آفریں طمانیت روح کی دولت پاتے رہے ہیں- وہ دل کتنا بابرکت اور باعث فخر ہے جو محبت الہی اور عشق محمدی صلی اللہ علیہ و سلم سے لبریز ہوتا ہے- اس بے مثال قصیدے کو پڑھ کر ہر بندہ مومن اپنے اندر عجیب و غریب لذت محسوس کرتا ہے بقول اقبال ۔

در دل مسلم مقام مصطفے صلی اللہ علیہ و سلم است   آبروۓ ماز نام مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم است

 

تشبیب کے اشعار (حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے عشق کے بارے میں) ۔

ترجمہ ۔

          (اے بوصیری!) کیا تو نے ذی سلم (مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام) کے ہمسایوں کی یاد کی وجہ سے اپنے گوشہ چشم (آنکھوں) سے جاری آنسوؤں کو خون سے ملا دیا ہے؟ (تیری آنکھوں سے خون کے آنسو کیوں جاری ہیں؟) ۔

 تشریح ۔

          اس شعر میں امام بوصیری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے اپنی محبت کا براہ راست ذکر نہیں کیا بلکہ اس جگہ کی طرف اشارہ کیا ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے نسبت رہی ہے- وہ یہاں کھل کر نہیں بتاتے کہ مقام ذی سلم (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے) میں وہ کونسا ہمسایہ ہے جس کی محبت اور فراق میں انکی آنکھوں سے خون کے آنسو جاری ہیں- یہ ذکر حسین ظاہر کرتا ہے کہ انھیں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم سے بے حد عشق ہے تبھی تو وہ خون کے آنسو بہا رہے ہیں ۔

 ادبی لحاظ سے قصیدہ گو شاعروں کی یہ روایت رہی ہے کہ وہ اپنے قصیدے کے آغاز میں فی الفور اپنے ممدوح سے مخاطب نہیں ہوتے- اسے تشبیب کہا جاتا ہے- تشبیب کے اشعار کے بعد گریز کا مرحلہ آتا ہے اسکے بعد شاعر براہ راست اپنے ممدوح سے خطاب کرتا ہے- امام بوصیری نے بھی اس ادبی روایت کی پاسداری کی ہے ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108