::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Famous People > 1857 Majmoa Khawaj Hassan Nazami  
Book Detail
 
 
1857 Majmoa Khawaj Hassan Nazami
1857ء مجموعہ خواجہ حسن نظامی  
Author/Translator: Muhammad Akraam Chugtai 
Price: $ 24.62
Format: Hard Cover, 880Pages, Weight: 1350 gm
Product-Id: 1011257
Publisher: Sang e meel Publications
Publish date: 2007
Productid:1011257  
Quantity:
 

 

دیپاچہ

تاریخ برصغیر میں یوں تو کئی موڑیا "مراحل قاطع" آۓ لیکن جس حادثہ الیم نے صدیوں کے حالات و واقعات اور رجحانات کو بالکل ہی ایک مخالف سمت کی جانب موڑ دیا، وہ 1857ء کا محاربہ عظیم ہے- بظاہر تو یہ سلسلہ حوادث مغلیہ سلطنت کے انتزاع اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے امور انتظامی کی انجام دہی تاج برطانیہ کو منتقلی پر منتج ہوتا ہے،لیکن اس سانحہ عظیم،جسے عرف عام میں جنگ آزادی،غدر،بغاوت،سورش،باغی گری،سرکشی اور مفسدہ جیسے الفاظ سے بھی یاد کیا جاتا ہے، کے قریب قریب ہر شعبہ زندگی میں دیرپا اور دوررس اثرات مرتب ہوۓ- بغور دیکھا جاۓ تو 1857ء اور اسکے تقریبا ڈیڑھ سو سال بعد وقوع پذیر نائن/الیون کے مابین متعدد مماثلات پاۓ جاتے ہیں مثلا جس طرح 1857ء کی جنگ کے اختتام پر انگریزوں کی نظر میں ہر مسلمان مشکوک نظر آنے لگا اور اسے شورش پسند اور باغیوں کا ہمدرد یا ساتھی قرار دے کر پھانسیوں پر لٹکا دیا جاتا،اسی طرح نائن/الیون کے بعد نہ صرف برصغیر بلکہ تمام دنیاۓ اسلام کے مسلمانوں کو دہشت گرد اور تخریب پسند سمجھا جانے لگا- یہ درست ہے کہ 1857ء کے بعد کی مثقمانہ کارروائیوں کا ہدف برصغیر کے مسلمان تھے، جبکہ نائن/الیون اثرات دنیاۓ اسلام کے سبھی مسلمانوں پر پڑ رہے ہیں ۔

 بقول غالب 1857ء کی اس "رستخیز بے جا" پر اب تک سینکڑوں کتب اور موقر جرائد کے خصوصی شمارے منظر عام پر آ چکے ہیں- اس موضوع پر مغربی زبانوں میں مطبوعہ کتابوں کی ایک جامع فہرست بھی شائع ہو چکی ہے- اگر مغربی اور مقامی زبانوں میں دستیاب مجموعی طور پر ذخیرہ مطالعات پر سرسری نظر ڈالی جاۓ تو انھیں درج ذیل پانچ اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

 1- انگریزوں کی لکھی ہوئی کتابیں جن میں زیادہ تر تصویر کا ایک ہی رخ پیش کیا گیا ہے اور تمام کشت و خون اور تباہی و بربادی کا ذمہ دار ہندی مسلمانوں کو ٹھہرایا گیا ہے ۔

 2- مقامی مصنفین خاص طور پر ہندو مورخین کی کتابیں،جن میں کم و بیش انگریزوں ہی کے موقف کو درست ثابت کیا گیا ہے ۔

 3- خفیہ روزنامچوں،یاد داشتوں اور ہم عصر وقائع پر مشتمل انگریزی اور مقامی لوگوں کی تحریریں،جو خاصی معلومات افزا ہیں ۔

 4- ایسی کتب،جن میں 1857ء کے اسباب کا غیر جذباتی،غیر جانبدارانہ اور عاقلانہ تجزیہ کیا گیا ہے- ایسی تصنیفات میں سرفہرست سرسید احمد خاں کا "رسالہ اسباب بغاوت ہند" ہے ۔

 

بہادر شاہ بادشاہ کی درویشی

                     دلی کے آخری بادشاہ ایک درویش صفت بادشاہ گذرے ہیں- انکی فقیری اور فقیر دوستی کی سینکڑوں مثالیں دہلی اور اطراف ہند میں مشہور ہیں اور دہلی میں تو ابھی سینکڑوں آدمی موجود ہیں جنھوں نے اس خرقہ پوش سلطان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے انکے درویشانہ کلام کو سنا ۔

 بہادر شاہ بڑے عابد بادشاہ تھے- ملک کے کاروبار تو سب انگریز کمپنی کے ہاتھ میں تھے،اسلیے بادشاہ کو سواۓ یاد خدا اور صوفیانہ کلمہ کلام کے اور کچھ کام نہ کرنا پڑتا تھا- دربار آراستہ ہوتا تو اس میں بھی اقلیم باطن کے حکم احکام سناۓ حاتے اور شاعرانہ پیرایہ میں تصوف کے حقائق و معارف کا چرچا رہتا،چنانچہ قاعدہ تھا کہ جب درباری لوگ دیوان عام یا دیوان خاص میں جمع ہو جاتے تو حضور ظل سبحانی دربار میں برآمد ہونے کے محل سے چلنے کی تیاری کرتے- جونہی بادشاہ کا قدم اٹھتا،محل کی نقیب عورت آواز لگاتی "ہوشیار ادب قاعدہ نگاہ دار"- یہ لال پردہ محل خاص کی ڈیوڑھی کا نام تھا،وہاں سے اس عورت کی آواز دربار کے مرد نقیب سنتے اور وہ بھی "ہوشیار ادب قاعدہ نگاہ دار" کا نعرہ بلند کرتے تھے،جس کو سن کر تمام درباری سمٹ سمٹا کر قرینے قرینے سے اپنے مقام پر آن کھڑے ہوتے- اس وقت عجب عالم ہوتا تھا کہ تمام امراء ووزراء گردنیں جھکاۓ،آنکھیں نیچی کۓ دست بستہ کھڑے ہیں- مجال نہیں کوئی نگاہ اٹھا کر دیکھ سکے یا اپنے جسم کو بیکار جنبش دے- تمام دربار میں ایک سکتے کی حالت ہوتی تھی- جس وقت حضور السلطان مخفی ڈیوڑھی سے تخت پر ظہور کر چکتے تو نقیب پکارتا "ظل الہی برآمد کرد،مجرا ادب سے"- یہ سنتے ہی ایک امیر سہما سہما اپنی جگہ سے آگے بڑھتا اور بادشاہ کے سامنے ایک مقام پر جا کر کھڑا ہوتا جس کو جاۓ ادب کہتے تھے اور وہاں جھک کر تین کورنش بجا لاتا ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108