::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
Art & Literature > Jinnat Kah Ghulam  
Book Detail
 
 
Jinnat Kah Ghulam
جنات کا غلام  
Author/Translator: Shahid Nazir Choudhary 
Price: $ 5.71
Format: Hard Cover, 368Pages, Weight: 460 gm
Product-Id: 1011235
Publisher: Maktaba Tameer e Insaniyat
Publish date: 2006
Productid:1011235  
Quantity:
 

 

صرف دورتی افیون حاصل کرنے کے لیے اس قدر خوار ہونا پڑے گا،یہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا اور اب مجھے اس عذاب سے جان چھڑانے اور فرار کا کوئی رستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔

 اس تپتی دوپہر میں نہر کنارے موٹر سائیکل دوڑاتے ہوۓ میں سوچ رہا تھا- یہ لالوقصائی میرے ساتھ کیا کرنا چاہتا ہے- اسکی آوارگی سے میں سخت عاجز آ چکا تھا- تین بار مشکوک انسان سمجھ کر پولیس نے ہمیں روکا تھا مگر میرے تعارف کرانے پر وہ چھوڑ دیتے تھے اور ہم افیون کی خاطر ایک نۓ گاؤں کی طرف جا نکلتے تھے- نہر کے سیفل سے ایک کوس پہلے جب لالوقصائی نے مجھے ملیاں گاؤں کی طرف موٹر سائیکل کا رخ موڑنے کی ہدایت کی تو میں گھبرا گیا اور موٹر سائیکل روک دی- ملیاں منشیات فروشوں کا گڑھ تھا- اپنی حیثیت کو برقرار رکھنے کی خاطر میں نے اپنے خوف کو دبا لیا اور سخت لہجہ اختیار کرتے ہوۓ کہا ۔

 "لالو اب ملیاں جانے کی کیا ضرورت ہے- میں نے دورتی افیون لینی ہے اور اسکے لیے تم نے مجھے بارہ گاؤں گھوما دیۓ ہیں- ہر بار تو یہی کہتا ہے کہ ہمارا کام فلاں گاؤں میں ہو جاۓ گا" ۔

 "چودھری صاحب غصہ نہ کریں- مین بھی خوار ہو رہا ہوں- میں نے آج میلے سے جانور لینے جانا تھا،کل گوشت کے لیے ایک بھی جانور نہیں ہے میرے پاس- لیکن میں صرف آپکی خاطر یہ کڑوا گھونٹ پی رہا ہوں" ۔

 

ملیاں سے ایک کوس پہلے لالوقصائی نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا "بادشاہو ۔ ۔ ۔ ۔ رکورکو ۔ ۔ ۔ ۔ " ۔

 "اب کیا ہوا ہے؟" میں نے فٹافٹ بریک لگائی ۔

 "اس کچے پر موٹر سائیکل اتاریں" اس نے سرکنڈوں کی طرف اشارہ کیا ۔

 "یہ راستہ تو مکھن سائیں کے آستانے کی طرف جاتا ہے- ملیاں کے لیے یہاں سے کوئی راستہ نہیں جانا" میں نے کہا ۔

 "بادشاہو- میں نے سوچا ہے مکھن سائیں کی زیارت کرتے چلیں- سرکار کے علاقے میں آیا ہوں تو انکے درشن کۓ بغیر آگے کیسے جا سکتا ہوں" لالوقصائی سرفروشانہ انداز میں بولا- "سرکار کو پتہ چل جاۓ گا کہ لالو ادھر سے گزرا ہے، وہ ناراض ہونگے" ۔

 "یار تو مصیبت بن گیا ہے- میں نے تجھے کہا تھا کہ میرا کام جلدی کر دے مگر تین گھنٹے سے تو مجھے کبھی ایک گاؤں اور کبھی نہر کے کنارے لیے بھاگ رہا ہے- اب تجھے مکھن سائیں کی زیارت تنگ کرنے لگی ہے" میں نے جھلاتے ہوۓ کہا اور موٹرسائیکل کھڑی کرکے نیچے اتر گیا اور کہا "تو اکیلا زیارت کے لیے چلا  جا میں بھنگیوں اور چرسیوں کے علاقے میں نہیں جا سکتا- لعنت بھیجتا ہوں میں اس خدمت پر میں جا رہا ہوں" میں نے فورا فیصلہ کیا کہ بابا جی سے معافی مانگ لوں گا کہ میں افیون نہیں لا سکا مگر اسطرح منشیات فروشوں کے علاقے میں خوار ہوتے پھرنا اب مجھے گوارا نہ تھا- میں نے جونہی موٹرسائیکل سٹارٹ کی لالوقصائی اچک کر پیچھے بیٹھ گیا- "جیسی آپکی مرضی جناب ۔ ۔ ۔ ۔ آپکو ناراض تھوڑا کرنا ہے" ۔

 ابھی میں نے گیئر لگایا ہی تھا کہ جھنڈ کے پار سے کسی نے نعرہ مستانہ بلند کیا "حق ۔ ۔ ۔ ۔ سرکار ۔ ۔ ۔ ۔ یا مدد مکھن سائیں سرکار" میں نے چونک کر ادھر دیکھا تو وہ ہٹے کٹے ملنگ قسم کے نوجوان مکھن سائیں کے ساتھ ہماری طرف آتے دکھائی دیۓ ۔

"سرکار آ گئی" لالو افراتفری سے موٹرسائیکل سے اترا تو اسکی شلوار کا پائنچہ موٹرسائیکل کے پائیدان میں پھنس گیا اور وہ چکرا کر نیچے گرا مگر اپنے پیر کی عقیدت کا مارا برق رفتاری سے اٹھا اور "میری سرکار میرے سائیں بابا ۔ ۔ ۔ ۔ میں آپکی طرف ہی آ رہا تھا" کہتا ہوا قصائی اسکے قدمون میں جا گرا- اس دوران مکھن سائیں خاصا قریب آ چکا تھا ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108