::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Famous People > Itraafat  
Book Detail
 
 
Itraafat
اعترافات  
Author/Translator: Amjad Ali Bhati 
Price: $ 14.89
Format: Hard Cover, 680Pages, Weight: 810 gm
Product-Id: 1011198
Publisher: Book Home
Publish date: 2006
Productid:1011198  
Quantity:
 

 

پیش لفظ

فرانسیسی انقلاب کا "روحانی باپ" ژاں ژاک روسو 1712ء میں جنیوا میں پیدا ہوا- "اعترافات" اسکی خودنوشت سوانح حیات ہے،جس پر روسونے اپنی زندگی کا ہر پہلو ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے- روسو کی اس شہرہ آفاق آپ بیتی کا دنیا کی بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے- بک ہوم اس سے پہلے روسو کی معرکتہ آلاراء کتاب سوشل کونٹارکٹ کو اردو میں "معاہدہ عمرانی" کے نام سے شائع کر چکا ہے- جس کا ترجمہ ممتاز دانشور محمود حسین نے کیا ہے ۔

ہمیں امید ہے کہ قارئین کو روسو کی آپ بیتی پسند آۓ گی کیونکہ بک ہوم اس سے پہلے دنیا کے نامور افراد کی آپ بیتیاں اور سوانح عمریاں شائع کر چکا ہے جن میں ڈاکڑ طہ حیسن،حضرت معین الدین چشتی،مولانا جلال الدین رومی،حضرت نظام الدین اولیاء،حضرت امیر خسرو،علامہ محمد اقبال،گوتم بدھ،ایڈیسن،آئن سٹائن،لینن،غالب،ذوالفقار علی بھٹو،سید سجاد ظہیر،میلکم ایکس،اے پی جے عبدالکلام آزاد اور گوپال متل کی آپ بیتی قابل ذکر ہے- جسے ملک بھر قارئین نے بہت پسند کیا ۔

 

میں نے ایک ایسے کام کا آغاز کیا ہے جو اس سے قبل کسی نے نہیں کیا اور اس کام کی تکمیل کے بعد اسکی تقلید کرنا ممکن نہ ہو گا- میں اس دنیاۓ فانی کے سامنے ایک ایسے انسان کو پیش کرنا چاہتا ہوں جو فطرت خلقی کا مظہر ہو اور وہ انسان میں خود ہوں ۔

میں نے انسان کو پرکھا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میں دوسرے لوگوں سے قطعا مختلف ہوں،ان سے بہتر نہ سہی لیکن میں دعوی کرتا ہوں کہ میں نے اپنی اصلیت کو برقرار رکھا ہے- قدرت نے میرے ساتھ صحیح کیا کیا غلط سانچے کو تلف کرنا صحیح تھا یا غلط اس بات کا فیصلہ تو مجھے پڑھنے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے ۔

روز قیامت جب آخری بگل بجایا جاۓ گا میں اپنی یہ کتاب ہاتھ میں لیے خود کو منصف عظیم کے سامنے پیش کروں گا اور بآواز بلندیہ اعلان کروں گا کہ میں نے اپنی سوچ کے مطابق عمل کیا کیونکہ میں تھا ہی ایسا- میں نے ہر وہ بات جو کہ قابل تعریف یا قابل اعتراض تھی،پوری آزادی اور سچائی سے بیان کی ہے- نہ میں نے کوئی جرم چھپایا اور نہ ہی اپنے آپ میں کسی خوبی کا اضافہ کیا- اگر کبھی میں نے مبالغہ آرائی سے کام لیا بھی تو اسکا مقصد صرف اپنی کمزور یاداشت سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنا تھا- شاید میں نے کسی ممکنہ بات کو فرضیت کا روپ دیا ہو،مگر کبھی جانتے بوجھتے جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی- میں جیسا تھا،خود کو دوسروں پر ویسا ہی ظاہر کیا،کبھی بہت حقیر،ذلیل اور کبھی بہت نیک،فیاض اور برتر- اگرچہ لافانی طاقت میرے پوشیدہ رازوں سے واقف ہے،پھر بھی میری خواہش ہے کہ وہ اپنے سامنے تمام انسانوں کو جمع کرے اور انھیں میرے اعترافات سننے کا موقع دے،انھیں میرے محرومیوں پر شرمسار ہونے دے- میری تکلیفوں کو محسوس کرنے دے اور اگر وہ تمام انسان اسی سچائی کے ساتھ اپنی ناکامیوں اور گمراہیوں کا اعتراف نہ کر سکیں تو پھر یوں سمجھیں میں ان سے بہتر انسان ہوں ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108