::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Famous People > Ameer Khosro Sohwaney Omeri  
Book Detail
 
 
Ameer Khosro Sohwaney Omeri
امیر خسرو سوانح عمری  
Author/Translator: Dr.Waheed Mirza 
Price: $ 8.94
Format: Hard Cover, 272Pages, Weight: 440 gm
Product-Id: 1011197
Publisher: Book Home
Publish date: 2007
Productid:1011197  
Quantity:
 

 

پیش لفظ

خسرو کے متعلق تذکرہ نویسوں نے لکھا ہے کہ وہ فارسی زبان پر دستگاہ کامل رکھنے کے علاوہ عربی،ترکی،سنسکرت،ہندی اور بنگالی زبانوں پر بھی قدرت رکھتے تھے- ہندی اور اردو شعر و ادب کی تاریخ میں بلااختلاف انکو ہندوستانی زبان کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے،حضرت امیر خسرو نے بالخصوص اپنی مثنویوں میں ہندوستان کے موسموں- ہندوستان کے پھلوں،پھولوں،پرندوں،دریاؤں اور قدرتی مناظر کا ذکر جس والہانہ عقیدت اور لگاؤ سے کیا ہے اس سے سرزمین ہند سے انکی بے پناہ محبت اور وابستگی مترشح ہوتی ہے- قومی یک جہتی کے جوراگ اس فقید المثال شاعر نے سات سو سال قبل الاپے تھے اسکی مثال ہندوستان کی کسی زبان کے ادب و شاعری میں ملنا محال ہے- انکے رسیلے ہندی گیت،دو  ہے- کہ مکرنیاں اور پہیلیاں نہ صرف ہندوستان و پاکستان کی درگاہوں اور خانقاہوں کی قوالی کی محفلوں کو گرماتی ہیں،بلکہ لاکھوں کروڑوں ہندوستانی اور پاکستانی مردوں اور عورتوں کے حافظوں میں محفوظ ہیں اور ہندوپاک میں زبان زد خاص و عام ہیں ۔

 

خسرو کا حسب و نسب،انکے اجداد کا ہندوستان میں ورود،انکی پیدائش اور ابتدائی تعلیم

بارہویں صدی عیسوی کا زمانہ عالم اسلام کے لیے بعض لحاظ سے انتہائی عروج کا وقت تھا- تہذیب اور تمدن کا وہ شاداب چمن،جس کو مسلمان حکمرانوں اور علما اور فضلا نے اپنی انتھک کوششوں اور بے مثل جاں فشانی سے صدیوں تک سینچا تھا،اس زمانے میں اپنی پوری بہار پر تھا- ابھی وہ طوفان بلا،وہ تباہ کن آندھی یعنی چنگیز خان کی یورش جس نے اس لہلہاتے ہوۓ باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا،وہ چلنا شروع نہ ہوئی تھی- البتہ اسلامی سلطنت کا پرانا مضبوط شیرازہ ضرور بکھر چکا تھا اور یہ عظیم الشان سلطنت جس کی نظیر فلک پیر نے بھی کم دیکھی ہو گی،الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی- بغداد کے خلیفہ سرکش اور زبردست امراء کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن کر رہ گۓ تھے،اور دارالسلام کی چاردیواری کے باہر انکا سیاسی اثر یا حکومت محض براۓ نام رہ گئی تھی- لیکن پھر بھی خلیفہ کی مذہبی سیادت زیادہ تر مسلمان ملکوں میں تسلیم کی جاتی تھی اور ان ملکوں کی علمی اور ادبی سرگرمیوں میں کوئی فرق نہیں آیا تھا- مشرقی ملک کے شہر خصوصا سامانی اور غزنوی کے حکمرانوں کے علم دوستی اور ہنر پروری کی وجہ سے نہ صرف تجارت اور مال و دولت کا گھر تھے بلکہ علم اور فن کے بھی بڑے مرکز بن گۓ تھے،غزنین،بخارا،خیوا،شیراز،اصفہان،غرض بیسوں ایسے شہر تھے جو شان و شوکت میں بغداد سے ہم سری اور دمشق سے روکشی کا دعوی رکھتے تھے،جن کی مسجدوں کے مینار اور محلوں کے برج آسمان سے باتیں کرتے تھے،جن کی بڑھتی ہوئی آبادی انکی چار دیواری میں نہ سماتی تھی،جہاں دور دور سے سیاح اور طالبعلم کھنچے چلے آتے تھے اور جن کی زمین حقیقت میں سونا اگلتی تھی ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108