::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > AalmiHaseenain  
Book Detail
 
 
AalmiHaseenain
عالمی حسینائیں  
Author/Translator: Zahid Akasi 
Price: $ 5.74
Format: Hard Cover, 176Pages, Weight: 340 gm
Product-Id: 1011196
Publisher: Book Home
Publish date: 2007
Productid:1011196  
Quantity:
 

 

پیش لفظ

سکندراعظم نے جب دنیا فتح کرنے کا عزم کیا اور یہ ارادہ اپنے استاد افلاطون کے سامنے رکھا تو اس نے ایک ہی بات گوش گزار کی- برخوردار اگر تم دنیا فتح کرنے کے لیے نکلنا چاہتے ہو تو میری یہ بات دھیان سے سنو ۔ ۔ ۔ ۔ کہ عورت کو اپنی کمزوری مت بننے دینا- جہاں تک ممکن ہو اس سے دور رہنا کیونکہ اگر یہ کمزوری تم پر غالب آ گئی تو پھر دنیا کو فتح کرنے کا خواب ادھورا رہ جاۓ گا اور تم صرف عورت کے ہی ہو کر رہ جاؤ گے ۔

مقدونیہ کی ویشیا جو کہ سکندراعظم پر عاشق تھی اس تک یہ بات پہنچی تو اس نے افلاطون سے بدلہ لینے کی ٹھانی اپنی سہیلیوں سے مشورہ کے بعد اس نے افلاطون سے اشارہ بازی شروع کی اور اپنے دام میں پھانس لیا- جب افلاطون اسکا بے دام غلام بن گیا تو اس نے اپنے ہرکارے کے ذریعے سکندراعظم تک یہ پیغام بھیجا کہ جو استاد تمہیں عورت سے بچنے کی نصیحت کرتا ہے وہ خود میاں فضحیت بن رہا ہے- عین اس موقع پر ہرکارے نے سکندراعظم کو اپنے استاد کی حرکات دکھانے کی دعوت دی جب افلاطون کو گھوڑا بناۓ اسکی پیٹھ پر وہ ویشیا سواری کر رہی تھی افلاطون کو ایک عورت کے سامنے جھکا،جب سکندراعظم نے دیکھا تو انھیں اپنے حضور بلا بھیجا- انکی حرکت پر ناراض ہوا اور نصیحت کے بارے میں استفسار کیا اس پر افلاطون نے اپنے حکیمانہ انداز میں جواب دیا کہ برخوردار ایک دوشیزہ جب ایک بوڑھے شخص کو بیوقوف بنا سکتی ہے تو جوانی کو تو وہ رلا کر رکھ سکتی ہے- یہ آگ اور گھی کا کھیل ہے تمہارا وجود گھی کی طرح ہے جو محبت کی آگ میں فورا پگھل سکتا ہے اور تمہیں اپنے ارادہ سے دور لے جا سکتا ہے ۔

 

پاکستانی حسن پرست اور عالمی حسینائیں

غربت اور عورت پر ہمیشہ سے زاہد عکاسی کا فوکس ہے ۔

کیوں ہے؟ غربت کا وہ شکار رہا،عورت کا وہ طرف دار ہے- اسکی مزید کھوج لگانی ہو گی- پھر کبھی سہی- آج اسکی بابت بات محض چلتے چلتے،بڑے بڑے اخبارات میں اس نے کام کیا- روٹی کے لیے اسے صحافت کی ضرورت پڑی- روٹی تو جیسی تیسی اسے مل گئی،لیکن ادبی کام اس سے چھن گیا- وہ شعراء ادبا کی محفلوں میں بیٹھا مگر شاعری اس میں سراعت نہ کر سکی- اس نے چند افسانے بھی لکھے- جو مستند اسلیے نہ ہو سکے کہ وہ نژی مجالس اور شعری محافل میں تنقید کے لیے نہ پڑھے گۓ،بلکہ سیدھے "صاف گو" اور "محفل" وغیرہ کے مدیر انکے ہاتھوں میں پہنچے اور شائع ہو گۓ- اس میں بھولپن بھی حد درجہ ہے- وہ بے سمت مسافر ہے- جس کی منزل کا تعین نہ اسکے بڑوں نے کیا نہ خود اس نے- خودروپودے کی طرح جنگل میں اس نے سر اٹھایا اور بلاوجہ و بے مقصد سر کٹانے کے لیے نظریاتی قافلوں میں شامل واجا بن کر لہولہان ہوا- اسکی پہلی کتاب "ہیرا منڈی" ہے اور دوسری یہ "عالمی حسینائیں" ایک دنوں میں فروخت ہو گئی راتوں میں اسلیے نہیں کہ "بک ہوم" صرف دن کو کھلتی ہے- مشاہدے کے مطابق یہ کتاب علماء اور عورتوں نے زیادہ خریدی اور چند ماہ میں اسکا دوسرا ایڈیشن چھاپنا پڑا ہے- اب میرا یقین ہے کہ کچھ ایسا ہی گرم کیک "عالمی حیسنائیں" ہو گا ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108