::*Urdu Books*::
::*Urdu Books*::
    Quick Search
 
Title Author Publisher
            Members Area
Username:
Password:
                                                                  Forget Password
Special Offer  
see all subjects
No Item in cart
General Titles > Indo Pak Sub Continent > Kargil Markah Yeh Pandah White Paper  
Book Detail
 
 
Kargil Markah Yeh Pandah White Paper
کارگل معرکہ یا پھندا وائٹ پیپر  
Author/Translator: M.Saddique-Ul-Farooque 
Price: $ 8.57
Format: Hard Cover, 207Pages, Weight: 430 gm
Product-Id: 1011180
Publisher: Sagar Publications
Publish date: 2006
Productid:1011180  
Quantity:
 

 

دیپاچہ

سانحہ کارگل کے خالقوں نے گزشتہ سات سال کے دوران پراپیگنڈے کی اتنی دھول اڑائی ہے کہ ایک حد تک حقائق پاکستان کی غالب اکژیت کی نظروں سے اوجھل ہو چکے ہیں- کارگل کا محاذ کھلتے ہی غیر ملکی میڈیا اور پاکستان کے باخبر حلقوں کے ذریعے مادروطن کے حوالے سے سنگین حقائق سامنے آنا شروع ہو گۓ- جس کے نتیجے میں پوری شدومد سے دو بنیادی سوال اٹھ کھڑے ہوۓ- ایک یہ کہ کیا محاذ کھولنے کی اجازت چیف ایگزیکٹو سے لی گئی تھی؟ اور دوسرا یہ کہ معائدہ لاہور کے بعد اٹیمی پاکستان نے یہ محاذ آخر کیوں کھولا؟ ۔

اس موقع پر کارگل منصوبہ سازوں کی پیشہ ورانہ نااہلی بھی کھل کر سامنے آ گئی- وزیراعظم کے دورہ واشنگٹن کے دوران 4 جولائی 1999ء کو امریکی صدر بل کلنٹن کے ذریعے مجاہدین اور این ایل آئی کے دستوں کی واپسی کا معاہدہ طے پا گیا تو ایک اور سوال نے سر اٹھایا- سوال یہ تھا کہ پسپائی کس کے مشورے سے اختیار کی گئی؟ ۔

اگرچہ آپریشن کی ابتدا سے آئینی حکومت کا تختہ الٹنے تک قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں حقائق بھی منکشف ہوتے رہے لیکن جوں جوں حقائق بے نقاب ہوتے رہے توں توں منصوبہ ساز پراپیگنڈے کی گرد کی دبیز تمہیں اس پر ڈالتے رہے- اسلیے کہ ناقص فوجی منصوبہ بندی کی بنیاد پر کی جانے والی طالع آزمائی اور اسکے نتیجے میں ہونے والے ناقابل تلافی نقصان کی ذمہ داری انہی پرآ رہی تھی اور انھیں اپنا انجام نظر آ رہا تھا- آپریشن کے دوران منصوبہ ساز پراپیگنڈے کے زور پر شکست کو قوم کے سامنے فتح بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔

 

محاذ جنگ

کارگل کا علاقہ

                  کارگل کا علاقہ آزاد کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کے کنڑول میں تھا- اسکی بعض چوٹیاں تو 17 ہزار فٹ سے بھی بلند ہیں- جہاں سردیوں میں درجہ حرارت منفی 30 ڈگری سے بھی نیچے گر جاتا ہے- 1971ء کی جنگ میں بھارت نے دفاہی لحاظ سے ضلع کارگل کا اہم علاقہ پاکستانی افواج سے چھین لیا تھا پھر شملہ معاہدے کی روح سے پاکستان کو 93 ہزار قیدی اور 5 ہزار مربع کلو میڑ علاقہ تو واپس مل گیا تاہم ریاست جموں و کشمیر میں سٹیٹس کیو پر سمجھوتہ ہو گیا- اسکے مطابق دونوں ملکوں کی فوجیں اس وقت جہاں تھیں اسے لائن آف کنڑول قرار دے دیا گیا- اس معاہدے کے مطابق کارگل لائن آف کنڑول کے اس پار بھارت کے غاصبانہ کنڑول میں چلا گیا ۔




Copyright © Bahoo.org 2008
14 Fortress Stadium, Lahore Cantt, Pakistan.
Ph: + 92 423 6623108